دیت قرآن کی روشنی میں (2)

دیت قرآن کی روشنی میں (2)
دیت قرآن کی روشنی میں (2)

  

جرم قتل کے متعلق پہلی آیت سورہ بقرہ میں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کْتِبَ عَلَیٓکْمْ اآقِصَاصْ فِی اآقَآلٰی (2:178)۔ ’’تم پر مقتولین کے بارے میں قصاص فرض قرار دیا گیا ہے‘‘۔ اس آیت میں لفظ قصاص سے مراد عام طور پر سزائے موت لی جاتی ہے لیکن یہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے‘ قصاص کے معنی کسی کا پیچھا کرنے کے ہیں۔ لہٰذا قصاص کا مطلب ہوا مجرم کا پیچھا کرنا۔ اس کا تعاقب کرنا۔ اسے ایسے ہی نہ چھوڑ دینا کہ وہ اپنے کئے کی سزا نہ پا سکے۔ اس آیت میں خطاب یٰٓاَیّْھَا الَّذِیٓنَ اٰمَنْوٓا(جماعت مومنین) سے ہے۔ جس معاشرہ میں اجتماعی قوانین رائج نہ ہوں‘ اس میں جرائم اور اس کے بدلے کو افراد پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی شخص نے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ اب یہ چیز مقتول کے وارثوں کے لئے ہے کہ وہ مجرم کا پیچھا کریں۔ اگر ان میں ہمت ہو تو اسے پکڑ کر اس سے بدلہ لے لیں۔ اور اگر مجرم ان سے بالادست ہو تو پھر صبر شکر کر کے بیٹھ رہیں۔ لیکن قرآن کریم ایک اجتماعی نظام پیش کرتا ہے اس لئے اس میں جرم کا بدلہ لینا افراد پرنہیں چھوڑا گیا۔ وہ معاشرہ سے کہتا ہے کہ جرم کا ارتکاب خود معاشرہ کے خلاف ہوا ہے (کسی فرد کے خلاف نہیں ہوا) اس لئے یہ معاشرہ کا فریضہ ہے (نہ کہ مقتول کے وارثین کا انفرادی کام) کہ وہ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ معاشرہ پر فرض قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مقتول کے بدلہ لینے کا انتظام کرے۔ دور حاضر کی اصطلاح میں کہا جائے گا کہ قرآن کریم نے جرم قتل کو ’’قابل دست اندازی پولیس‘‘ قرار دیا ہے جس میں مستغیث خود حکومت ہوتی ہے (Crown vs۔۔۔.)۔۔۔ لہٰذا آیت کے اتنے ٹکڑے کے معنی یہ ہوئے کہ یہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جرم قتل کے مرتکب کا پیچھا کر کے اس سے بدلہ لے۔

اس سے آگے ہے اَآحْرّْ بِاآحْرِّ وَ اآعَآدْ بِاآعَآدِ وَ اآاْآثٰی بِاآاْآثٰی ط۔ اس حصہ کا تعلق بھی سزا سے نہیں بلکہ اس میں اس اہم اصول کو بیان کیا گیا ہے کہ اس باب میں مجرم اور مقتول کی پوزیشن کا کوئی لحاظ نہ رکھا جائے۔ مجرم خواہ کتنا ہی بڑا اور مقتول کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو‘ بدلے کے معاملہ میں دونوں کو یکساں سمجھا جائے۔ اس لئے کہ ہر انسانی زندگی (وہ مرد آزاد کی ہو یا غلام کی۔ عورت کی ہو یا مرد کی) یکساں قیمتی ہے۔

خونِ شہ رنگیں تر از مزدور نیست

اسے پھر دہرا دینا ضروری ہے کہ آیت کے اس حصے میں اسلام کا اصول مساوات بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اس سے یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی مرد آزاد (حْر) قتل کر دیا گیا ہے تو اس کے بدلے کسی مرد آزاد (حْر) کو قتل کیا جائے‘ خواہ قاتل کوئی غلام ہی کیوں نہ ہو اور اگر مقتول غلام ہے تو کسی غلام کو پھانسی چڑھایا جائے‘ خواہ قاتل‘ مرد آزاد ہی کیوں نہ ہو۔ یہ مفہوم بالبداہت غلط ہے۔ قرآن کریم نے یہاں عام اصولِ مساوات پر زور دیا ہے اور اس کے لئے اصولی انداز بیان اختیار کیا ہے‘ جس سے مراد یہ ہے کہ سزا کے معاملہ میں قاتل اور مقتول کی پوزیشن کا کوئی خیال نہ کیا جائے۔

اس کے بعد ہیفَمَنٓ عْفِیَ لَہٓ مِنٓ اَخِیٓہِ شَیٓءٓ فَاتِّبَاآ بِاآمَآرْوٓفِ وَ اَدَآآ اِلَیٓہِ بِاِآسَانٍ ذٰلِکَ تَآفِیٓفٓ مِّنٓ رَّبِّکْمٓ وَ رَحٓمَٓٓط۔ جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو اسے چاہئے کہ قاعدے کے مطابق اس کی پیروی کرے اور حسن کارانہ انداز سے اس کی ادائیگی کرے۔ یہ تمہارے نشوونما دینے والے کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ ظاہر ہے کہ سزا کا اس میں بھی ذکر نہیں۔سزا میں سے کچھ معاف کر دینے کا ذکر ہے۔ ’’کچھ معاف کر دینا‘‘۔ (شیٓ)اس کی دلالت کرتا ہے کہ اس کا تعلق سزائے موت سے نہیں۔ اس لئے کہ سزائے موت میں سے ’’کچھ معاف کر دینے‘‘ (اور کچھ باقی رہنے دینے) کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ’’کچھ معاف کر دینے‘‘ کی شکل اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے کہ سزا‘ مال (جرمانہ) کی ہو۔ اسے دیت یا خوں بہا کہا جاتا ہے۔

جرم قتل کی سزا کا ذکر سورہ نساء میں ہے جہاں جرم کی مختلف نوعیتوں اور ان کے مطابق سزا کا بیان ہے۔ ارشاد ہے وَ مَا کَانَ لِمْوٓٓمِنٍ اَآ یَّقٓتْلَ مْوٓٓمِنًا اِلَّا خَطَءًا۔ کسی مومن کے یہ شایان ہی نہیں کہ کسی دوسرے مومن کو قتل کر ڈالے۔ ہاں غلطی سے ایسا ہو سکتا ہے۔وَ مَنٓ قَتَلَ مْوٓٓمِنًا خَطَءًا فَتَآرِیٓرْ رَقَبٍَٓ مّْوٓٓمِنٍَٓ وَّ دِیَٓٓ مّْسَلَّمَٓٓ اِلآی اَآلِہٓٓ اِلَّآ اَآ یَّصَّدَّقْوٓا۔ ’’اور جو کوئی غلطی سے کسی مومن کو مار ڈالے تو ایک مومن غلام آزاد کرے اور خوں بہا ادا کرے جسے اس کے وارثوں کے سپرد کیا جائے گا۔ بجز اس کے کہ وہ معاف کر دیں۔ یہاں سے بات صاف ہو گئی کہ قتل خطا (غیر ارادی طور پر‘ بھْولے سے قتل) کی سزا موت نہیں‘ بلکہ خوں بہا ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ خوں بہا کی جو رقم عدالت مقرر کرے‘ مقتول کے وارثوں کو اس کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس میں سے کچھ (یا سب کا سب) معاف کر دیں۔ لہٰذا سورہ بقرہ کی آیت178 میں جوفَمَنٓ عْفِیَ لَہٓ مِنٓ اَخِیٓہِ شَیٓءٓ کہا گیا ہے تو وہ قتل خطا کی صورت میں ہے جس کی سزا خوں بہا ادا کرنا ہے۔

سورہ نساء کی آیت 92کے باقی ماندہ حصہ میں بتایا گیا ہے کہ اگر مقتول اس قوم سے متعلق ہو جو تمہاری دشمن ہو یا اس سے جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس صورت میں کیا سزا ہو گی (سزا اس صورت میں بھی خوں بہا ہی مقرر کی گئی ہے)۔

اس سے اگلی آیت میں ہے وَ مَنٓ یَّقٓتْلٓ مْوٓٓمِنًا مّْتَعَمِّدًا فَجَزَآوْٓہٓ جَھَنَّمْ خٰلِدًا فِیٓھَا وَ غَضِبَ اللّٰہْ عَلَیٓہِ وَ لَعَنَہٓ وَ اَعَدَّ لَہٓ عَذَابًا عَظِیٓمًا (4/93)۔ اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہے‘ اور اس کی لعنت اور اس کے لئے سخت سزا تیار کی گئی ہے‘‘۔ یہاں قرآن کریم نے قتل عمد کے لئے انتہائی سزا بتائی ہے۔ اس میں دیت (خوں بہا) نہیں ہے۔ البتہ قتل عمد میں بھی جرم کی نوعیتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص نہایت ٹھنڈے دل سے سوچتا ہے کہ اگر فلاں آدمی کو قتل کر دیا جائے تو اس کی تمام جائیداد مجھے مل جائے گی۔ وہ اس کے لئے اسکیم بناتا ہے اور سوچی سمجھی تدبیر کے مطابق اسے قتل کر دیتا ہے۔ اس قسم کے (Cold Blooded Murder) کی سزا سخت ترین ہونی چاہئے۔ اس کے برعکس ایک شخص دیکھتا ہے کہ کسی نے اس کی بیوی کی عصمت پر حملہ کیا ہے۔ وہ غیرت میں آکر اسے فوراً قتل کر دیتا ہے۔ قتل عمد یہ بھی ہے لیکن اس میں اور اول الذکر میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے ہر قتل عمد کی سزا ایک جیسی نہیں ہو گی۔ جرم کی نوعیت اور احوال و ظروف (Circumstances) کے اختلاف سے سزا میں اختلاف ہو گا۔ اس سے قیاس کا رخ اس طرف جاتا ہے کہ قرآن کریم نے قتل عمد کی سزا میں ’’فَجَزَآوْٓہٓ جہنم‘‘ کے بعد اللہ کا غضب۔ اس کی لعنت۔ اور سخت سزا کا جو ذکر کیا ہے تو یہ سزاؤں کی مختلف نوعیتیں ہیں۔ مثلاً عبور دریائے شور۔ قید تنہائی۔ قید بامشقت۔ معاشرہ کے حقوق سے محروم (Disqualify) کر دینا (لعنت کے یہی معنی ہیں) وغیرہ وغیرہ۔

ممکن ہے کہہ دیا جائے کہ یہاں سزائے جہنم کا ذکر ہے (جس کا تعلق آخرت سے ہے اس دنیا سے نہیں)۔ لیکن دوسری جگہ قرآن کریم نے اس کی صراحت کر دی ہے کہ قتل عمد کی سزا بالعموم‘ موت (قتل) ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ہے وَ لَا تَآتْلْوا النَّآسَ الَّتِیٓ حَرَّمَ اللّٰہْ اِلَّا بِاآحَقِّ ط۔ جس جان کا مارنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے (یعنی بے گناہ کا قتل) اسے قتل مت کرو۔ بجز اس کے کہ انصاف کا تقاضا ایسا ہو۔ وَ مَنٓ قْتِلَ مَظٓلْوٓمًا فَقَآ جَعَآنَا لِوَلِیِّہٓ سْلٓطٰنًا۔ جو ظلم سے قتل کیا جائے تو قاتل یہ نہ سمجھے کہ مقتول کے وارثوں کا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں‘ اس لئے میں اب جس طرح جی چاہے دندناتا پھروں‘ مجھے کوئی پوچھنے والاہی نہیں۔ اسے اس زعم باطل میں نہیں رہنا چاہئے۔ مقتول کے ورثاء کے لئے ہم نے معاشرہ کو ’’سلطان‘‘ بنایا ہے۔(جاری ہے)

معاشرہ (نظام حکومت) کا غلبہ و اقتدار (سلطان) مقتول کے وارثوں کا پشت پناہ ہو گا۔اِنَّہٓ کَانَ مَآصْوٓرًا (17:33)۔ اس طرح یہ معاشرہ خود مقتول کی (اور اس کے وارث کی) مدد کرے گا اور قاتل سے بدلہ لے کر چھوڑے گا۔ لیکن معاشرہ کو اس کی بھی تاکید کر دی گئی ہے کہ قاتل کو سزائے موت دینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ فَلَا یْسٓرِفٓ فِّی اآقَآلِ۔ مثلاً ایک شخص نے جان بوجھ کر کسی شخص کے خاندان کے چار پانچ افراد کو بے رحمی سے قتل کر دیا ہے۔ (ظاہر ہے کہ اثبات جرم کے بعد عدالت کو قاتل کے خلاف سخت غصہ ہو گا۔ لیکن عدالت کو اس کی اجازت نہیں کہ وہ قاتل کے خاندان کے چار پانچ افراد کو اسی طرح قتل کر دے۔ یہ ’’اِآرَآف فِی اآقَآل‘‘ ہو گا۔

نہ ہی آیت کے اس ٹکڑے (فَقَآ جَعَآنَا لِوَلِیِّہٓ سْلٓطٰنًا) کے یہ معنی ہیں کہ مقتول کے وارث کو اس کا اختیار ہے کہ وہ جا کر قاتل کو خود قتل کر دے۔ بالکل نہیں۔ قصاص کا حکم معاشرہ کے لئے ہے افراد متعلقہ کے لئے نہیں۔ قتل کا جرم‘ معاشرہ (نظام حکومت) کے خلاف جرم ہے۔ انفرادی جرم نہیں۔ مقتول کے وارثوں کی حیثیت (زیادہ سے زیادہ) استغاثہ کے گواہوں کی ہو گی۔ مستغیث کی نہیں ہو گی۔ مستغیث خود حکومت ہو گی۔ لہٰذا فَلَا یْسٓرِفٓ فِّی اآقَآلِ کا حکم بھی معاشرہ (عدالت) کے لئے ہے۔

اس آیت سے دو باتیں واضح ہو گئیں۔

(۱)وَ مَنٓ قْتِلَ مَظٓلْوٓمًا سے واضح ہے کہ یہاں قتل عمد کا ذکر ہے۔ اس لئے کہ قتل خطا میں قاتل کو ظالم اور مقتول کو مظلوم نہیں کہا جائے گا۔ جس شخص سے محض سہواً‘ نادانستہ‘ بھول چوک میں‘ غلطی سے کسی کا قتل ہو جائے وہ ظالم نہیں ہوتا۔ وہ تو اپنے کئے پر خود نادم ہوتا ہے۔ لہٰذا مقتول اسی صورت میں مظلوم کہلائے گا جب اسے کسی نے عمداً قتل کیا ہو۔

(۲)معاشرہ کے طاقتور لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اپنی قوت کے بل بوتے پر جسے چاہیں قتل کر ڈالیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ معاشرہ کا پورا غلبہ و اقتدار (سلطان) مقتول کے وارث کا پشت پناہ ہو گا‘ اور اس طرح قاتل سے بدلہ لینے میں اس کا حامی و مددگار بنے گا۔

(۳)قتل عمد کی سزا قتل (موت) ہے۔ لیکن اس میں حد سے نہیں بڑھا جائے گا۔

اس آیت کو جب سورہ نساء کی آیت’’فَجَزَآوْٓہٓ جہنم‘‘ سے ملا کر پڑھا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہاں جہنم کی سزا سے مراد سزائے موت ہے۔ اور ’’اللہ کا غضب و لعنت اور عذاب عظیم‘‘ وغیرہ اس کے ساتھ‘ یا اس سے الگ‘ یا اس سے نچلے درجہ پر‘ دوسری سزائیں ہیں جن کی نوعیت معاشرہ خود متعین کرے گا۔

تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم کی رو سے:

(i)قتل کا جرم انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔

(ii)جرم قتل‘ افراد کے خلاف جرم نہیں خود معاشرہ کے خلاف جرم ہے۔ لہٰذا‘ مجرم کا پیچھا کر کے اسے سزا دینا‘ مقتول کے وارثوں کا کام نہیں بلکہ نظام حکومت کا فریضہ ہے۔

(iii)اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ قتل بلا ارادہ (خطا) تھا یا قتل عمد۔

(iv)قتل خطا کی صورت میں سزا خوں بہا (دیت) ہو گی۔ اس کے لئے مقتول کے وارثوں کو اختیار ہو گا کہ وہ مجرم کو بالکلیہ معاف کر دیں یا خوں بہا کی رقم میں سے کچھ کم کر دیں۔

(v)قتل عمد کی سزا دیت نہیں اس لئے اس میں مقتول کے وارثوں کا کوئی اختیار نہیں رہتا۔ اس کی سزا عدالت کی طرف سے مقرر ہو گی جو سزائے موت (یا جرم کی نوعیت اور حالات کے پیش نظر) اس سے کم درجہ کی سزا (قید وغیرہ) ہو گی۔

(vi)یہ جو کہا گیا ہے کہ ’’کسی مومن کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کر دے۔ مگر غلطی سے‘‘۔ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ مومن غیر مومنوں کو یونہی قتل کرتا پھرے۔ اس کی اسے کھلی چھٹی ہے‘ قطعاً نہیں۔ مومن و غیر مومن کسے باشد‘ ہر ایک کی زندگی قرآن کریم کی رو سے یکساں قیمتی ہے (5:32)۔ اس آیت میں مومنین کی اس خصوصیت کا ذکر ہے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ایک بھائی کو یہ زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ دوسرے بھائی کو قتل کر دے۔ ہاں ایسا غلطی سے ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اسے خوں بہا ادا کرنا ہو گا تاکہ آئندہ ایسی غلطی سے محتاط رہے۔ لیکن اگر کوئی مومن کسی دوسرے مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا سخت ہو گی۔

(vii)قرآن کریم نے انسانی زندگی کی قدر و قیمت اور اہمیت بتانے کے باوجود اسے تسلیم کیا ہے کہ بالحق زندگی لی جا سکتی ہے۔ یعنی جہاں حق و انصاف کا تقاضا ہو‘ یعنی بے گناہ کے قتل عمد کی سزا کے طور پر‘ یا دشمن سے جنگ میں‘ یا نظام اسلامی کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو فساد سے روکنے کے لئے‘ وغیرہ۔ لیکن اس کا فیصلہ بھی معاشرہ کرے گا (نہ کہ افراد از خود) کہ بالحق کسے قتل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا مقتول مظلوم کے وارثوں کو بھی اس کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ از خود قاتل کو قتل کر دیں۔ یہ ہے وہ قصاص جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ اس میں تمہاری اجتماعی زندگی کا راز پوشیدہ ہے (2:179)۔

(ماخوذ از لغات القرآن)

مزید :

کالم -