ایک چیز جو حمل کے دوران ہر خاتون استعمال کرتی ہے، اگر زیادہ استعمال کرلی جائے تو بچے کی دماغی صحت متاثر کرسکتی ہے، سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

ایک چیز جو حمل کے دوران ہر خاتون استعمال کرتی ہے، اگر زیادہ استعمال کرلی جائے ...
ایک چیز جو حمل کے دوران ہر خاتون استعمال کرتی ہے، اگر زیادہ استعمال کرلی جائے تو بچے کی دماغی صحت متاثر کرسکتی ہے، سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) حاملہ خواتین کے لئے فولک ایسڈ والے وٹامن سپلیمنٹ کو بہت ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ اکثر حاملہ خواتین اس وٹامن کا استعمال کرتی ہیں، لیکن گزشتہ روز سامنے آنے والی ایک تحقیق نے تشویشناک انکشاف کردیا ہے کہ فولک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوجائے تو بچے میں ذہنی بیماری آٹزم کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ویب سائٹ Yahoo.comکا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق ابھی باقاعدہ طور پر شائع نہیں کی گئی لیکن اس میں بتائے گئے مسائل پر طبی ماہرین کی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ تحقیق کے سربراہ جانز ہاپکنز بلوم برگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدان رام کریپا رگوان کا کہنا تھا کہ ”یہ ایک اچھی چیز کی زیادتی کی مثال ہے۔ ہم خواتین کو حمل کے آغاز سے ہی فولیٹ کا استعمال یقینی بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہمیں جو چیز سمجھنی ہوگی وہ یہ ہے کہ حمل کے دوران فولیٹ کی کتنی خوراک ضروری ہے ،اور اس سے زیادہ خوراک بالکل نہ لی جائے۔“

حاملہ نظر آنے والی خاتون کا ڈاکٹروں نے آپریشن کیا تو پیٹ سے ایسی چیز برآمد کہ آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہوگیا

فولیٹ وٹامن بی کی ایک قسم ہے جو کہ پھلوں اور سبزیوں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ فولک ایسڈ اس کی مصنوعی شکل ہے جو کہ وٹامن سپلیمنٹس میں عموماً موجود ہوتا ہے۔ اگر خواتین میں فولیٹ کی کمی ہو تو ان کے پیدا ہونے والے بچوں میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہوسکتے ہیں۔

حالیہ تحقیق 1391 خواتین پر کی گئی اور معلوم ہوا کہ جن خواتین میں فولیٹ کی مقدار بہت زیادہ تھی ان کے بچوں میں آٹزم کی بیماری کا خطرہ دو گنا زیادہ تھا۔ جن خواتین میں B12 وٹامن کی زیادتی تھی ان کے بچوں میں یہ خطرہ تین گنا زیادہ تھا۔ دونوں وٹامن کے ہائی لیول سے آٹزم کا خطرہ تقریباً 17 گنا زیادہ دیکھا گیا۔ یہ تحقیق بالٹی مور انٹرنیشنل میٹنگ فار آٹزم ریسرچ 2016ءمیں پیش کی گئی۔

مزید : تعلیم و صحت