کرپشن کی حد، ہم قوم نہیں بن سکے!

کرپشن کی حد، ہم قوم نہیں بن سکے!
کرپشن کی حد، ہم قوم نہیں بن سکے!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صاحب جی! ایک چھوٹا سا کام ہے، کر دیں گے؟ اس نے بڑی لجابت سے کہا، کہو کیا کام ہے، وہ بولا! آپ سے ایک خبر چھپوانی ہے، وہ لاہور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں سوئیپر کی حیثیت سے کام کر رہا ہے اور ہمارے علاقے کی سڑک کی صفائی اس کے فرائض میں شامل ہے، یہ استفسار اس نے اس وقت کیا جب ہم گھر سے دفتر آ رہے تھے، اس اہلکار نے بتایا کہ وہ فیصل آباد کے قریبی دیہات کا رہنے والا ہے، یہاں محنت مزدوری کے لئے آیا ہوا ہے۔ گاؤں میں بعض طاقتور حضرات نے اس کی زمیں کے ایک ٹکڑے پر قبضہ کر لیا ہے، وہ تھانے سے کچہری تک گھوم آیا کسی نے فریاد نہیں سنی۔خبر چھپ جائے تو شائد کسی بڑے ہی کو ترس آ جائے، وعدہ کر لیا کہ کاغذات لے آؤ تمہاری فریاد تحریر کر دی جا ئے گی۔

یہ ایک نیا قائم کردہ فیسی لی ٹیشن سنٹر (اسے سہولت گھر کہہ لیں) ہے۔ دو تین فریادی جمع ہیں، ’’صاحب سہولت‘‘ موجود نہیں۔ معلوم ہوا کہ واش روم گئے ہیں، شکائت لے کر آنے والے کافی دیر سے منتظر ہیں۔ یہ ’’صاحب سہولت‘‘ آئین ان کی بات سنیں تو پھر سلسلہ آگے بھی بڑھے۔ بتایا گیا یہ معمول نہیں، انسانی ضرورت کا مسئلہ ہے، ابھی آ جاتے ہیں، یہاں آنے والا کبھی مایوس نہیں گیا( اللہ کرے، درست ہو)

ٹیلی فون خراب تھا، محکمہ کے شکایات والے نمبر کے ذریعے شکائت درج کرا دی، ٹھیک نہیں ہوا ٹیلی فون ایکسچینج گئے وعدہ ہوا۔ لائن مین کو بلا کر کہا گیا، فون ٹھیک نہیں ہوا، سامنے والے ہمسایہ نے پوچھا بتایا کہ فون ٹھیک نہیں، ہر ماہ دو دو تین تین دن خراب رہتا ہے، چکر لگا لگا کر ٹھیک کرانا پڑتا ہے، ہمسایہ بولے! ضروری بات کرنا ہے تو میرے گھر سے کر لیں، یہ کبھی خراب نہیں ہوتا، شکریہ ادا کیا اور فون کے ٹھیک رہنے کا راز دریافت کیا تو بولے! لائن مین ہر مہینے آتا ہے، اس کی ’’خدمت‘‘ کر دیتے ہیں، ہم بے فکر ہیں وہ خود ہی چیک کرتا اور ٹھیک کرتا رہتا ہے۔

سامنے ایک چوراہا ہے۔ ٹریفک کا بہاؤ اور گاڑیاں جلد گزرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ٹریفک وارڈن حضرات بھی ہیں وہ ذرا دور درختوں کے سائے میں کھڑے ہیں، ایک صاحب کے ہاتھ میں چالان بک ہے ، ہر سواری پر نظر رکھتے ہیں، اشارے کی خلاف ورزی تین چار لوگ کرتے ہیں، ان میں کم رفتاروالے کو روک لیا جاتا اور چالان تھما دیا جاتا ہے۔

یہ ایک بڑے ہسپتال کا آؤٹ ڈور ہے۔ مریضوں کا رش ہے۔ مختلف نوعیت کی امراض والے ڈاکٹر حضرات کے کمروں کے باہر بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ ہیلپر یا بیرہ سب کو قطار میں رہنے اور اپنی باری پر آنے کی تلقین کر رہا ہے اتنے میں اسی ہسپتال کے ایک ’’صاحب‘‘ آتے ہیں ان کے ساتھ مریض بھی ہیں، اٹینڈنٹ اٹھ کر سلام پیش کرتا ہے وہ مریض کو لئے سیدھے ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتے ہیں وہ بھی باقی مریضوں کو چھوڑ کر اسی صاحب کے مریض پر توجہ دیتا ہے، کہ دریا میں رہنا تو مگرمچھ سے بیر نہیں لیا جا سکتا۔

صاحب خانہ دودھ والے کی منت کر رہا تھا، بھائی مہربانی کرو، پیسے پورے دیتا ہوں، تم لیٹر کے حساب سے پیسے لیتے ہو اور کلو کے حساب سے دودھ دیتے ہو، یوں یہ دودھ ایک لیٹر کے پیسوں کے عوض آٹھ سو یا 850ملی لیٹر ہوتا ہے اور پھر یہ بھی مہربانی تو کرو، خالص نہیں دے سکتے نہ دو، صرف پانی کی ملاوٹ کر لو اور اللہ کے واسطے یہ پانی کسی نہر یا کھال سے نہیں، صاف ستھرے نلکے سے ڈال لینا، پیسے پورے ہی دوں گا، بہت اچھا جی! انشاء اللہ خالص دودھ ہی ملے گا۔

کس کس کی بات کریں، جس طرف بھی جائیں، یہی کیفیت ہے۔ کچہری کی دیواریں بھی پیسے مانگتی ہیں اور تو اور یہ ایک نجی کوریئر کمپنی (مشہور ٹی سی ایس) کی مرکزی برانچ گلبرگ ہے، اسے بھارت کے لئے ویزے کی درخواست لے کر بھیجنے کا اختیار اور ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ بھارت نے ویزے کی فیس ایک سو روپے فی کس رکھی ہوئی ہے۔ یہ کمپنی ایک ہزار روپے لیتی، یوں سفارت خانے کی ایک سو روپے اور ان کی خدمات کی فیس نو سو روپے ہے، یہاں درخواست کی پڑتال بھی کر لی جاتی ہے۔ اس ڈیوٹی پر مقرر دونوں صاحب اپنے پاس ہفت اقلیم کی بادشاہت تصور کرتے ہیں۔ ویزے کے لئے آنے والوں کو خوب انتظار کراتے اور پھر کاغذات کی جانچ کرکے درخواست میں کسی نہ کسی کمی کی نشاندہی کر دیتے ہیں، یہ صارفین سے جھگڑے کے بھی ماہر ہیں اور اپنی ہر غلطی پر ’’سرکاری پردہ‘‘ ڈال لیتے ہیں، یاد رہے کہ یہ ایک نجی کمپنی ہے، نجی شعبہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا اسی لئے تو وزیرخزانہ نے مالیاتی فنڈز والوں کو یقین دلایا کہ جلد ہی نجکاری کا عمل شروع کرکے مکمل کر دیا جائے گا، پی آئی اے اور سٹیل ملز کے حوالے سے بات کہی گئی، یہ ٹی سی ایس والے صاحب بھارتی ویزے کے لئے آنے والے ہر صارف کو تنگ کرتے ہیں، شاید ان کا اور بھارتی سفارت خانے کا رابطہ ہو اور ان دونوں کے درمیان یہی طے ہوا ہو اور یہ حضرات ضرورت مندوں کو تنگ کرکے کانوں کو ہاتھ لگواتے ہیں۔

یہ تو چند مثالیں دی ہیں، آپ جس طرف بھی چلے جائیں آپ کو یہی نظر آئے گا کہ طاقتور اور غنڈے کے سامنے کسی شہری مجال نہیں کہ وہ کچھ کہہ بھی سکے یا کسی نااہلی پر بات کر سکے، قبضہ مافیا بھی تو انہی میں سے ہے، قبضہ کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کئے جاتے ہیں، مصطفی ٹاؤن میں ماڈل سکول کے لئے خالی پلاٹ پر مافیا کی عرصہ سے نگاہیں ہیں، اب یہاں ملبہ (اورنج ٹرین کا)ڈال دیا گیا اور ایک معقول حصہ کو درست کرکے پہلے وہاں مرغی والا اور اب اس کے ساتھ سبزی والا بھی بٹھا دیا گیا، ان کے پیچھے نیم کے پودے لگا دیئے گئے ہیں، اس قبضہ والے حضرات کا تعلق ایک بہت ہی مضبوط، دینی، فلاحی اور جہادی تنظیم سے ہے، شاید سربراہ سے رشتہ داری بھی ہے۔

سیر صبح کے گروپ میں آج یہی موضوع زیر بحث تھا اور اتفاق رائے ہوا کہ ہم نے ملک تو حاصل کر لیا، اور وہ ملک ہے بھی!(اگرچہ آدھا) مگر ہم قوم نہیں ہیں، کسی کو یہ احساس نہیں، رہ گئی بات اقتدار کی تو ہم قیام پاکستان سے اب تک جاگیرداروں کے مرہون منت ہیں کہ ان حضرات نے 1946ء کے بعد پاکستان کو حقیقت جان کر یکایک یونینسٹ پارٹی سے مسلم لیگ میں چھلانگ لگا دی، چند ایک والے استغنیٰ کے سوا اب تک حاکمیت یا حکومت انہی کے پاس رہی، عوام کہاں ہیں؟

مزید : کالم