ایکسپورٹ سیکٹر حقیقی اصلاحات سے محروم ، خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے، میاں زاہد حسین

ایکسپورٹ سیکٹر حقیقی اصلاحات سے محروم ، خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے، میاں زاہد ...

کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ٹریڈ پالیسی میں تین سال میں برآمدات کو 35 ارب تک بڑھانے کے ہدف کے باوجود ایکسپورٹ سیکٹر حقیقی اصلاحات سے محروم ہے۔ اعلیٰ حکام کی عدم دلچسپی کے سبب برآمدات بڑھنے کے بجائے گر رہی ہیں جبکہ درآمدات بڑھ رہی ہیں جس سے تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے جسکا نتیجہ غیر ملکی قرضہ ہوگا ۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سال رواں کے ابتدائی دس ماہ میں تجارتی خسارہ انیس ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو گزشتہ مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران 17.8 ارب ڈالر تھا۔ تقریباً ہر شعبے کی برآمدات گر رہی ہیں تاہم سب سے زیادہ نقصان ٹیکسٹائل سیکٹر کی سست روی کی وجہ سے ہو رہا ہے جو کل ملکی برآمدات کا 56 فیصد ہیں۔ برآمدات بڑھانے کیلیئے متعلقہ اداروں سے کرپٹ اور نیم خواندہ عناصر کو فارغ کیا جائے، ٹیکس سسٹم میں اصلاحات کی جائیں ، توانائی کی مسلسل فراہمیکو یقینی بنائی جائے اور ایکسپورٹ ریفنڈ ادا کیئے جائیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ بھارت میں آبادی کا 2.7 فیصد حصہ جبکہ پاکستان میں 0.24 فیصد حصہ ٹیکس ادا کرتا ہے ۔

جس میں اضافہ صرف اسی صورت میں ہوگا جبکہ ٹیکسیشن کے قوانین عام فہم ہوں اور ان میں عمل درآمد میں ٹیکس گزاروں کا فائدہ ہو۔ غیر متوازن اورجابرانہ نظام کی وجہ سے ٹیکس کی ادائیگی کے بجائے اسکی چوری فائدہ مند ہے اسلیئے کاروباری برادری دستاویزی معیشت سے غیر دستاویزی معیشت کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ صنعت کار دوسرے ممالک میں منتقل ہونے یا تجارت اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔سرمایہ کاری کی کمی سے بہت سے شعبوں کو نقصان پہنچ رہا ہے تاہم سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں کو پہنچ رہا ہے جنکی تعداد گیارہ کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجلی کی کمپنیوں کے 168 ارب روپے کے بقایا جات کم کرنے کیلیئے ایماندار صارفین پر پچیس ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس سے بجلی کی چوری میں اضافہ ہو گا جو پہلے ہی 180 ارب روپے ہے۔ ۔#/s#

مزید : کامرس