پانامہ پانامہ کرتے کہیں منزل نہ کھو بیٹھنا

پانامہ پانامہ کرتے کہیں منزل نہ کھو بیٹھنا
 پانامہ پانامہ کرتے کہیں منزل نہ کھو بیٹھنا

  

قارئین کرام! آج ہم پانامہ لیکس کے حوالے سے کچھ ہوش ربا حقائق آپ سے شیئر کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ آپ کو معلوم ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پانامہ لیکس میں 250 کے قریب پاکستانیوں کا ذکر کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مئی کے مہینے کی 9۔ تاریخ کو مزید 400 پاکستانی پردہ نشینوں کے نقاب الٹا ئے جائیں گے۔۔۔ اس فہرست کا ہر عام و خاص کو شدت سے انتظار تھا۔۔۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ پانامہ لیکس کی ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات کو چھاننا ایک بہت کٹھن کام ہے ، لہٰذا 9 مئی کو جاری ہونے والی اس نئی فہرست کو بھی حتمی نہ سمجھا جائے، کیونکہ اتنی ضخیم دستاویزات میں چھپے ہوئے آخری پاکستانی کی تلاش و شناخت کے لئے ابھی اور وقت درکار ہے۔۔۔ قارئین کرام! اسی سے آپ اندازہ فرما سکتے ہیں کہ دشمن کی طرف سے وطن عزیز کے خلاف پانامہ سازش کی اوٹ میں اس کے مطلوبہ نتائج کے حصول تک، نہیں معلوم، ابھی اور کتنی فہرستوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔ بہر حال اب جو فہرست منظر پر آئی ہے۔ اس کے مندرجات 10 مئی کے اخبارات میں سامنے آچکے ہیں۔۔۔یاد رہے کہ اس فہرست میں کچھ نام پھر سے شامل کردیئے گئے ہیں جو اس سے قبل جاری ہونے والی فہرست میں بھی موجود تھے۔۔۔ اس سلسلے میں ایک اخبار کے مطابق ’’آئی سی آئی جے‘‘ کی طرف سے ایک عجیب منطق سامنے آئی ہے۔۔۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ان دونوں فہرستوں کی اشاعت کرتے ہوئے ہم نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ اس میں شامل تمام آف شور کمپنیاں غلط ہیں یا غیر قانونی ہیں۔۔۔ ہمارے نزدیک آف شور کمپنیاں بنانا نہ تو کوئی غلط کام ہے اور نہ ہی غیر قانونی۔۔۔ بلکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ کمپنیاں کالادھن چھپانے کی غرض سے بنائی گئی ہیں تو یہ ایک غلط کام ہوا ہے، جسے ہر ملک کے اپنے اپنے عوام کے سامنے آناچاہئے، کیونکہ اس بدعملی سے ایک بہت بڑا طبقہ دولت کے عدم توازن کا مرتکب ہوا ہے، لیکن ہمیں اس امر کا اندازہ قطعاً نہیں تھا کہ اس کی بناء پر آف شور کمپنیوں سے وابستہ ،سبھی لوگوں کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوجائے گی۔۔۔،، قارئین کرام! آئی سی آئی جے سے منسوب یہ معصومانہ الفاظ اگر واقعتا درست ہیں تو بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ ایک بے نام سے ملک پانامہ کی تشہیر کا سبب بننے والے یہودیت کے پروردہ یہ نام نہاد صحافی پاکستان بھرمیں آگ بھڑکانے کے بعد اپنے ’’مکروہ مفاسد،، کی عجیب و غریب توجیح و توضیح اس طرح فرما رہے ہیں جیسے ان کے نزدیک یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس کی بناپر ہمارے پیارے ملک میں اتنا بڑا ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔

قارئین کرام! یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے میں ہماری سوئی ایک ہی جگہ پر اٹکی ہوئی ہے کہ پانامہ پیپرز کا اصل ہدف دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان ہی تھا۔ پاکستان ہی ہے۔۔۔ چلیے تھوڑی دیر کے لئے مان لیتے ہیں کہ آئی سی آئی جے کی ٹیم بڑی ہی نیک نیت تھی تو ان متنازعہ کمپنیوں کا خلفشار ایسے وقت میں منظر پر کیوں لایا گیا جب ہمارا پیارا ملک نواز حکومت کے زیر اہتمام نازک ترین ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔۔۔

قارئین کرام! پانامہ لیکس کے اس دورانیے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کی آڑ میں ہمارے دشمنوں کو ہماری ہی صفوں سے کچھ ایسے نادان دوست میسر آگئے ہیں جو جناب نواز شریف کے ساتھ ذاتی پرخاش اور مخاصمت کی بناء پر بغیر سوچے سمجھے ملکی ترقی کے سارے عمل کو سبوتاژ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ انہیں پانامہ لیکس کے مبینہ مبہم نکات کی آڑ میں وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف ایک جھنجھنا مل گیا ہے جس کے شور میں یہ شوریدہ سر عناصر یہ جاننے کے لئے بھی تیار نہیں کہ آف شور اکاؤنٹ کیا ہوتا ہے اور ان اکاؤنٹس کے بارے میں پاکستان کا قانون کیا کہتا ہے جب کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق انکم ٹیکس دے کر آف شور کمپنی قائم کرنا جائز ہے اور ٹیکس ادا نہ کرکے آف شور کمپنی قائم کرنا غیر قانونی ہے۔۔۔ بات تو صرف اتنی ہے کہ منظر پر آنے کے بعد پانامہ لیکس کی ان آف شور کمپنیوں کا یہ پتہ چلایا جاتا کہ ان کے مالکان میں وہ کون کون لوگ ہیں جنہوں نے قانون کے دائرے سے باہر رہ کر دولت کمائی اور قوم سے چھپاکر باہر بھیجی۔

قارئین کرام! آپکو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ امریکیوں کے بعد سب سے زیادہ آف شور کمپنیاں بھارتیوں کی ہیں جن کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے، لیکن ان سے بھی کہیں زیادہ کمپنیاں عوامی جمہوریہ چین کے لوگوں کی ہیں، اور چینی حکمرانوں نے پانامہ رپورٹ کے بارے میں صاف کہہ دیا ہے کہ یہ ہمارے ملک چین کے خلاف سازش ہے، جبکہ روس نے بھی اسے امریکہ کی سازش قرار دے کر جھٹک دیاہے۔۔۔ روس کے سرکاری ٹی وی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پانامہ لیکس امریکہ کی طرف سے صدر پیوٹن کے آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ جب کہ ہمارے مقابلے میں انتہائی عمدہ سیاسی بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے عوام کا کہنا ہے کہ ’’مودی سرکار،، نے ان لیکس کا جائزہ لینے کے لئے کمیشن بنادیاہے تو ہماری طرف سے کسی دھما چوکڑی اور غل غپاڑے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

اس تناظر میں بعض صائب الرائے حضرات کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر تحقیقات کے نتائج تک پانامہ لیکس کے اصل حقائق سامنے آنے سے پہلے کسی کو بھی مطعون کرنا نہ تو درست ہے اور نہ ہی جائز ۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کمپنیوں کے مالکان اپنی رقوم کا ٹیکس دے کر ملک سے باہر لے گئے تھے تو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایسی رقم باہر لے جانا کوئی جرم نہیں ہے۔۔۔ اور اگر متنازعہ رقوم ٹیکس اد اکئے بغیر کسی چور دروازے سے باہر منتقل ہوئی ہیں، تو ٹیکس وصول کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہئے، نہ کہ عقل و فہم کو بالائے طاق رکھ کر ہاہا کار مچائی جا ئے ۔۔۔ یہ طرزعمل ہمارے پیارے ملک کے لئے کسی طور بھی سود مند اور قابل فخر نہیں ہے۔۔۔ اس سیاست کی بچے بچے کو سمجھ آرہی ہے کہ یہ سارا غل غپاڑہ’’ چور مچائے شور ،، کے مصداق ہے۔۔۔ جسے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی غیرذمہ داری اوربے لگامی مزید الجھائے چلی جا رہی ہے۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ مالی بدعنوانی کی ایسی سینکڑوں داستانیں 65 سالہ تاریخ پاکستان کے اوراق پر رقم ہیں، جو پاکستان کے ریاستی نظم و نسق کی کمزوری پر بیّن دلیل ہیں اور یہ ایسا ناقابل معافی جرم ہے جس میں پاکستان کی ابتداء سے لے کر اب تک کے سارے سیاستدان اور ارباب بست و کشاد برابر کے شریک ہیں، لیکن اس پر کبھی کسی نے توجہ نہیں کی،۔۔۔ بہر حال اس وقت بات ہورہی ہے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کی، جس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف حکومت کے اقدامات پر اپوزیشن مطمئن نہیں ہے اور دوسری طرف اپوزیشن کے مطالبات حکومت نہیں مان رہی ہے۔۔۔ سیاسی کبڈی کے اس کھیل میں یہ ہوش ربا انکشاف سامنے آیا ہے کہ پانامہ لیکس کی آف شور کمپنیوں کے ذریعے پاکستان سے 12 کھرب ڈالر باہر منتقل کیے گئے ہیں۔ (جو پاکستانی روپے کے حساب سے کھربوں، بلکہ پدموں روپیہ بنتا ہے) اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ (جسے بدمعاشیہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا) نے اس ملک کو کس طرح دونوں ہاتھوں سے لوٹاہے۔ ان ہی لوگوں کی عدم مواخات اور سنگدلی کی بناء پر ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجودآج ملک کے غریب لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیاہے اور اسی بناء پر ملک بھی ترقی و استحکام سے مسلسل محروم چلا آرہاہے۔۔۔ قارئین کرام! مالیاتی دہشت گردی کے مذکورہ بالا اعداد و شمار اگر درست ہیں اور پاکستان کی سیاسی قیادت بھی مخلص ہے(خواہ اس کا تعلق حزب اقتدار سے ہے یا حزب اختلاف سے)،تو اسے جلد از جلد خود کو احتساب کے لئے پیش کر دینا چاہئے اور اس سلسلے میں موجودہ منتخب قیادت کو چاہئے کہ فوری طور پر احتساب کا ایک جامع اور قابل عمل نظام وضع کرے ، جیسا کہ قومی اتفاق رائے سے دہشت گردوں پر ضرب عضب لگائی گئی ہے اسی طرح ’’مالیاتی دہشت گردی، ،کے خوفناک عفریت پر قابو پانے کے لئے ملک کو مثالی ریاست بنانے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونے دیا جائے۔۔۔ اس ضمن میں نہایت خوشی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ روز جناب نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے مابین ملاقات کے دوران دونوں راہنماؤں نے اس امر سے مکمل اتفاق کیاہے کہ کرپشن کسی بھی ادارے میں ہو اور کسی بھی سطح پر ہو ،اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا۔۔۔ نیز اس موقع پر جناب جنرل راحیل شریف نے نواز حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر پانامہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچائے ،کیونکہ اس وقت ملک عزیز کو نہ صرف اندرونی، بلکہ عالمی سطح پر بھی بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان چیلنجوں سے نمٹنا قومی اتحاد و اتفاق اور مکمل یگانگت ہی سے ممکن ہے۔۔۔اس موقع پر ہم مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ بس اشارتاً اتنا ہی عرض ہے کہ ۔۔۔

خدارا ارباب بست و کشاد ہوش کے ناخن لیں۔۔۔ ہماری سیاسی تاریخ بڑی بے رحم ہے۔۔۔ کہیں ہم پانامہ پانامہ کرتے منزل ہی نہ کھو بیٹھیں۔۔۔کیونکہ بات اب صرف ایک ہستی تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ اب یہ معاملہ پاکستان سے لے جائے گئے کھربوں ڈالرز کے کھوجنے، وصولنے اور پاکستان کے خزانے میں واپس لانے کا ہے ۔ اگر ہمارے قابل صداحترام سیاست دان مل جل کر یہ کارخیر انجام نہ دے سکے تو ان کو جان لینا چاہئے کہ پھر یہ کام کون کرے گا !!!

مزید : کالم