پاک امریکہ تعلقات میں سرد مہری کوئی نئی بات نہیں

پاک امریکہ تعلقات میں سرد مہری کوئی نئی بات نہیں

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ایٹمی توانائی، شکیل آفریدی اور حقانی نیٹ ورک کے معاملے پرامریکہ کی ڈکٹیشن قبول کی نہ ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے منافی کسی کی کوئی بات مانیں گے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات گزشتہ تین ماہ سے سرد مہری کا شکار ہیں۔ اگر بھارت کو امریکہ کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی جاری رہی تو پھر جدید اسلحے کا حصول ہماری مجبوری ہو گی۔واشنگٹن نے بھارت سے تعاون جاری رکھا تو بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ سینیٹ کے اجلاس میں تحریک التوا پر بحث کو سمیٹتے ہوئے سرتاج عزیز نے بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کو ایف16 طیاروں کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بھارتی لابی پوری ڈیل کو ختم کرانا چاہتی تھی، لیکن ہم کامیاب رہے، مذاکرات جاری ہیں جلد معاملہ حل ہو جائے گا۔ امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ ایف16 طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی ضرورت ہیں۔ پاکستان نے بھارت کا یہ الزام مسترد کر دیا ہے کہ یہ طیارے بھارت کے خلاف استعمال ہوں گے ہم ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے حوالے سے کسی دوسرے مُلک کی بات نہیں مانیں گے۔حقانی نیٹ ورک پاکستان امریکہ تعلقات میں ایک رکاوٹ ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اگر اس وقت سرد مہری ہے تو یہ کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں ہوا، امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی طویل تاریخ میں ہمیشہ اونچ نیچ ہوتی رہی ہے، بلکہ امریکی اصطلاح میں یہ تعلقات ہمیشہ ’’رولر کوسٹر‘‘ کی طرح رہے ہیں۔ ایف16 طیاروں کی فراہمی میں رکاوٹ بھی کوئی پہلی مرتبہ نہیں آئی، پاکستان کو یہ طیارے جب بھی ملے دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کا محاورہ ہی صادق آیا، اس راستے میں کبھی ایک رکاوٹ آڑے آتی رہی اور کبھی دوسری، ایف16طیارے تو 80ء کی دہائی میں آئے تھے اِس سے پہلے قیام پاکستان کے ساتھ جب پاکستان اور امریکہ دوستی کے بندھن میں بندھے اور دفاعی معاہدوں میں شریک ہوئے تو 65ء کی جنگ میں امید تھی کہ امریکہ پاکستان کی مدد کو آئے گا، لیکن مدد تو درکنار دورانِ جنگ تمام اسلحہ حتیٰ کہ فاضل پُرزوں کی سپلائی تک روک دی گئی اور توجیح یہ پیش کی گئی کہ امریکہ اسی صورت میں پاکستان کی مدد کا پابند ہے جب کوئی کمیونسٹ مُلک اس پر حملہ آور ہو۔

اب چونکہ بھارت کمیونسٹ مُلک نہیں تھا اِس لئے پاکستان کی امداد بھی امریکہ کے لئے ضروری نہ تھی۔عین حالتِ جنگ میں امریکہ کی اِن توجیحات نے پاکستان کے لئے مشکلات تو پیدا کیں، لیکن اِس کا ایک مثبت نتیجہ بھی نکلا کہ جنگ کے بعد پاکستان یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اسلحے کے لئے امریکہ جیسے ’’ذہین اور عیاردوست‘‘ پر انحصار غلط ہو گا، چنانچہ پاکستان نے اسلحہ سازی کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور ہلکے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تیاری شروع کر دی، پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے چین کی مدد سے پاکستان نے طیارہ سازی بھی شروع کر دی، تربیتی طیارے بنانا شروع کئے، پھر ان طیاروں کا جدید ورشن سُپر مشاق تیار کیا، جو دوسرے مُلک بھی خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، پاکستان نے ڈرون طیارے بنانا بھی شروع کر دیئے اور جے ایف17تھنڈر طیارے تو طیارہ سازی کا ایک سنگ میل ہے، جس کے بعد پاکستان انہی طیاروں کو ترقی دے کر ایف16طیاروں کے برابر لا سکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ پاکستان کو ایف16طیارے فروخت کرنے کے لئے آمادہ تو تھی، لیکن اس کے لئے اس امریکی امداد میں سے جزوی ادائیگی ہونا تھی جو امریکہ پاکستان کو دینا چاہتا تھا، لیکن کانگرس کے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی وجہ سے اب پاکستان سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ طیارے خریدنا چاہتا ہے تو پوری رقم کی ادائیگی کرے، جس پر پاکستان فی الحال آمادہ نہیں، لیکن پاکستان کے لئے ایک راستہ تو کھلا ہے کہ وہ جو رقم آٹھ ایف16طیارے خریدنے کے لئے خرچ کرنا چاہتاہے اِسی رقم کو اگر جے ایف17تھنڈر طیاروں کو اپ ڈیٹ کرنے پر خرچ کر دے تو چند ہی برس کے اندر اندر پاکستان کے پاس ایف16طیاروں کے متبادل طیارے موجود ہو سکتے ہیں، اس طرح امریکہ پر انحصار بھی کم ہوجائے گا۔ جب سے ایف16طیاروں کی فروخت میں رکاوٹیں آئی ہیں بعض حلقے اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی گردان رہے ہیں اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر یہ خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے تو ماضی میں کب ایسا موقع آیا تھا جب ایف 16طیارے آسانی سے پاکستان کو مل گئے تھے، جب سے یہ طیارہ متعارف ہوا ہے پاکستان کو اس کے حصول میں ہمیشہ مشکلات ہی پیش آئی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں طیاروں کی پوری قیمت ادا کرنے کے باوجود پاکستان کو طیارے نہ دیئے گئے اور کوئی ایک عشرے تک یہ معاملہ لٹکا رہا، پھر کچھ طیارے دیئے گئے اور باقی رقم کا کچھ حصہ واپس کیا گیا اور کچھ حصہ دیگر مدات میں ایڈجسٹ کیا گیا اِس لئے طیاروں کی فروخت میں موجودہ رکاوٹ کو خارجہ پالیسی کی ناکامی قطعاً قرار نہیں دیا جا سکتا، اب اگر یہ خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے تو تب کیا تھا؟ طیارے تو امریکہ آج بھی دینے کے لئے تیار ہے، صرف قیمت پوری طلب کر رہا ہے، جبکہ پہلے پاکستان نے کوئی 30فیصد ادائیگی کرنا تھی۔

اگر پاکستان ایٹمی اثاثوں، حقانی نیٹ ورک اور شکیل آفریدی کے معاملے پر اپنے قومی موقف سے انحراف نہیں کرتا اور امریکہ کی بات نہیں مانتا تو امریکہ کو اتنا حق تو ملنا چاہئے کہ وہ ایف16 کے مسئلے کو لٹکا دے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی یہ کوئی زیادہ قیمت بھی نہیں جو پاکستان ادا کر رہا ہے،جو حضرات اسے خارجہ پالیسی کی ناکامی کہہ رہے ہیں انہیں خارجہ امور کی باریکیوں کا زیادہ ادراک نہیں۔ سرتاج عزیز کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ بھارتی لابی کے مقابلے میں پاکستان کو اس حد تک کامیابی ضرور ہوئی ہے کہ امریکیوں نے تسلیم کیا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں ایف16طیارے پاکستان کی ضرورت ہیں اور پاکستان کو یہ طیارے بھارت کے خلاف استعمال کرنے کی ضرورت اِس لئے بھی نہیں کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے لئے جو میزائل سسٹم تیار کیا ہے اور جسے وقت کے ساتھ ساتھ اَپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، بھارت کے مقابلے میں وہی کافی و شافی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان ایف16طیاروں کے ڈلیوری سسٹم کا محتاج نہیں ہے یہ طیارے تو فاٹا کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دہشت گردی کی جنگ کے لئے مطلوب ہیں۔ اگر امریکہ کے ساتھ یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا تو بھی پاکستان کے پاس متبادل راستے بھی موجود ہیں جن کی جانب سرتاج عزیز نے اشارہ کر دیا ہے، لیکن بہتر ہوتا کہ امریکہ اس سلسلے میں اپنے وعدوں پر قائم رہتا اور پاکستان کو اگر ’’ نان نیٹو اتحادی‘‘ کا درجہ دیا ہے تو اس کا بھرم بھی رکھا جاتا۔

مزید : اداریہ