چیف جسٹس کا جوابی خط۔کس کی ہار کس کی جیت؟

چیف جسٹس کا جوابی خط۔کس کی ہار کس کی جیت؟
 چیف جسٹس کا جوابی خط۔کس کی ہار کس کی جیت؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پانامہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تو میچ فکس ہے۔ لیکن چیف جسٹس نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی فکس میچ کا حصہ نہیں ہیں۔ اس لئے انہیں اس میچ اور پانامہ سیاست سے دور ہی رکھا جائے۔ چیف جسٹس کے جوابی خط کی حکومت اور اپوزیشن اپنے اندازمیں تشریح کریں گے۔کیا عدلیہ نے گیند واپس حکومت اور اپوزیشن کے کورٹ میں پھینک دیا ہے۔گو کہ عدلیہ نے اپنے خط میں حکومت کو کہیں نہیں کہا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر ٹی او آرز بنائے۔ سپریم کورٹ نے صرف یہ کہا ہے کہ حکومت نے جو ٹی و آ ر ز بھجوائے ہیں وہ بہت وسیع ہیں ۔ اور ان کو مکمل کرنے کے لئے کئی سال درکار ہو نگے۔ اس لئے ٹی او آرز کا دائرہ کار محدود کیا جائے۔

اس سے ایک تاثر تو یہ ملتا ہے کہ قرضہ خوروں ٹیکس چوروں اور پانامہ لیکس کی تحقیقات ایک کمیشن کے تحت نہیں ہو سکتیں۔ یعنی اگر حکومت قرضہ خوروں ٹیکس چوروں کی بھی تحقیقات کروانا چاہتی ہے تواس کے لئے الگ کمیشن بنوا لے۔ لیکن پانامہ لیکس کا کمیشن صرف پانامہ لیکس تک ہی محدود ہو۔ اس حو الہ سے حکومت کے پاس راستہ موجود ہے کہ وہ قرضہ خوروں اور ٹیکس چوروں کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کو الگ الگ خط لکھے ۔ اور پانامہ لیکس کا خط علیحدہ رہنے دے۔

لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ اگر حکومت اس بات کو بھی مان لے تب بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی مفاہمت کی کوئی امید نہیں ۔ کیونکہ پانامہ لیکس میں تو اب اپوزیشن رہنماؤں کے بھی نام ہیں۔ یہ اپوزیشن رہنما کیسے چاہیں گے کہ ان کی اپنی تحقیقات کے لئے کوئی کمیشن بن جائے۔ میاں نواز شریف کے پاس تو شاید جلا وطنی کی کوئی توجیح موجود ہے کہ ان کے بچوں نے جلا وطنی کے دوران بیرون ملک کاروبار کیا ۔ لیکن شاید اپوزیشن کے رہنماؤں کے پاس تو ایسی کوئی توجیح موجود نہیں۔ویسے بھی میاں نواز شریف کا اس وقت سب سے بڑا دفاع یہی ہے کہ ان کا نام پانامہ لیکس میں نہیں ہے۔

عدلیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی فضول کمیشن میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ وہ صرف ایک ایسے کمیشن کو ہی بنائے گی جس کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے۔ نئے ٹرمز آف ریفرنس بنائے جائیں ۔ جن شخصیات کے خلاف تحقیقات درکار ہیں ان کی فہرست اور ان کے خلاف موجود مواد فراہم کیا جائے۔

لیکن اگر کمیشن کو صرف پانامہ تک ہی محدود کر دیا جائے تب بھی پانامہ میں آنے والے نام اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی مکمل تحقیقات کے لئے بھی ایک سال کم ہو گا۔ کیونکہ اگر ایک دن میں ایک فرد کی بھی تحقیق مکمل کر لی جائے جو عملا نا ممکن ہے تب بھی ایک سال سے زیادہ عرصہ درکار ہے۔ لہذا اس کمیشن کا دائرہ کار اگر صرف پانامہ تک محدود کر بھی دیا جائے تب بھی اس کو سال تو لگ ہی جائے گا۔

سپریم کورٹ بات تو ٹھیک کر رہی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کی اس بات نے فکس میچ کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ بات بند گلی میں جا رہی ہے۔ اب کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ حکومت اور اپوززیشن کے درمیان ایسے ناموں پر اتفاق ہو جائے گا۔ جن کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اپوزیشن کی تو سادہ خواہش ہے کہ تحقیقات صرف وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہونی چاہئے۔ باقی سب کی تحقیقات کے لئے کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ فارمولا شاید حکومت کو قبول نہیں ہے۔

سپریم کورٹ جس قسم کی قانون سازی کی بات کر رہی ہے اس کے لئے بھی حکومت کو اپوزیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کی واضح اکثر یت ہے۔ وہاں حکمران جماعت اپنی مرضی کی قانون سازی کر سکتی ہے۔ لیکن کسی قانون کو سینٹ سے پاس کروانا حکومت کے لئے مشکل مرحلہ ہے۔ گو کہ مولانا فضل الرحمٰن حکومت کے ساتھ ہیں ۔ لیکن یہ کافی نہیں۔ اس لئے قانون سازی والا معاملہ پھنس سکتا ہے۔

کیا حکومت اور اپوزیشن سپریم کورٹ کے علاوہ کسی اور فورم پر تحقیقات کے لئے متفق ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں نیب، پارلیمانی کمیشن سمیت بہت سے فارمولے سیاسی مارکیٹ میں گردش کر رہے ہیں۔ لیکن ان پر بھی اتفاق ممکن نظر نہیں آرہا۔

میاں نواز شریف نے بھی شائد قومی اسمبلی میں آمد سپریم کورٹ کے ردعمل کی وجہ سے ہی ملتوی کی۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اطلاع تھی کہ سپریم کورٹ جمعہ کو جواب دے رہی ہے۔ اسی لئے انہوں نے پیر کا اعلان کر دیا۔ وہ پیر کو آئیں گے اپنے آپ کو مکمل احتساب کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کریں گے۔ اقتدار کے ایوانوں میں ایک تجویز یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ وزیر اعظم کی حمایت میں پارلیمنٹ میں قرارداد لائی جائے گی۔ لیکن شائد ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ میاں نواز شریف کے پاس بھی ابھی بہت کارڈز ہیں ۔ جنہیں وہ کھیل سکتے ہیں۔

فکس میچ کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ڈیڈ لاک برقرار رہے۔ وقت گزرتا جائے۔ ایک عمومی رائے یہ ہے کہ کسی کی ریٹائرمنٹ کا بھی انتظار ہے۔جیسے جیسے ریٹائرمنٹ قریب آئے گی شائد معاملات بھی حل ہوجائیں۔ اس حوالے سے اعتزاز احسن کی کارکردگی مثالی ہے کہ انہوں نے ایک فکس میچ کو اتنا سنسنی خیز بنا دیا ہے کہ یہ اصلی میچ لگنے لگا ہے۔

تجزیہ نگار اور سکرپٹ رائٹرز کے دوست مسلسل کہہ رہے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔ اس بار نتیجہ آئے گا۔لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ پیپلزپارٹی ابھی تک اس کے لئے تیار نہیں ۔ یہی سیاسی منظر نامہ ہے۔ اور چیف جسٹس کو بھی سیاسی منظر نامہ کی سمجھ ہے۔ اس لئے وہ بھی محتاط ہیں۔ انہوں نے جوابی خط میں واضح لکھا ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے عدلیہ کوکوئی برائی ملے۔ انہیں عدلیہ کی ساکھ عزیز ہے۔ اور وہ اس پر سیاست کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں۔

مزید : کالم