’’ ہم سب زبیدہ آپا ہیں‘‘

’’ ہم سب زبیدہ آپا ہیں‘‘
’’ ہم سب زبیدہ آپا ہیں‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پانامہ لیکس پر حکومتی خط کا جواب دیا تو اس کی بھی غالب کی شاعری جیسی تشریحات شروع ہو گئیں، ہر کسی نے اپنی مرضی کا مطلب بیان کرنا شروع کر دیا، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ جناب عمران خان کے تابڑ توڑ الزامات کے حامی ہیں یا محترم میاں نواز شریف کی معصومانہ وضاحتوں کے، آپ اس کے مطابق کسی ایک مخصوص چینل سے دانشوارانہ رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں، اگر آپ عمران خان کے سپورٹرہیں تو دو سے تین چینلز ایسے دستیاب ہیں جوآپ کو خط کے اندر سے ایسے ایسے نکتے نکال کر دکھائیں گے جس سے اندازہ ہو گا کہ جناب چیف جسٹس نے تو حکومت کے ٹرمز آف ریفرنس نہ صرف پوری طرح مسترد کرکے رکھ دئیے ہیں بلکہ اصل میں اپوزیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کو قبول کر لیا ہے لیکن اگر آپ مسلم لیگ نون کے ووٹر ہیں تو پھر آپ کو پی ٹی وی کے ساتھ ساتھ ایک ، دو مزید ایسے چینل مل جائیں گے جو یہ بتا رہے ہوں گے کہ چیف جسٹس نے اپوزیشن کو اس خط کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا ، ان کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ کوئی اکا دکا جمہوریت پسند ایسا بھی مل سکتا ہے جو اس میں سے اسٹیبلشمنٹ کی حفاظت بھی نکال کر دکھا دے۔ یہ خبر کو پکانا ہے، کس طرح پکانا ہے اور کس طرح کا پکانا ہے ، اس بارے ہم ابھی بات کریں گے۔

اگر آپ آزاد صحافت کے ذریعے سچ ڈھونڈتے ہیں تو پھر آپ کوخود بھی تھوڑا سا جج بننا پڑے گا، ہمارے ملک کے ٹی وی چینلوں پر سچ کی بھرمار ہے مگر سچ ہمیشہ اس چینل کے مالک کے کاروباری مخالف یا نظریاتی حریف بارے بولا جاتا ہے۔ آپ کو ریاستی ٹی وی پر بیٹھے ہوئے عقل مند اگر حکومتی منشی لگتے ہیں تو یقین کریں کہ پرائیویٹ چینلوں کی سکرینوں پر نظر آنے والے بعض بڑے بڑے حق گووں کو اس سے بھی زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ان بے چاروں کو سرمایہ داروں کے باورچیوں ، ڈرائیوروں یا سیکرٹریوں جیسی نوکری اور جی حضوری کرنی پڑتی ہے۔ یوں آپ کو ایک طرف کے سچ کا دوسری طرف کے سچ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے اپنا سچ خود تخلیق کرنا پڑے گا۔ حیران مت ہوں، دانشوروں کی نوکری کوئی نئی بات نہیں، اہل دانش نوکری نہ کریں تو کیا بھوکے مرجائیں،تاریخ کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں ہر دور میں ہی دولت مندوں اور طاقت وروں نے حکمرانی کی ہے اور ہر دور میں ہی دانش مند ان کی چاپلوسی کرتے ، شہ کے مصاحب بن کے اتراتے پائے گئے ہیں۔یہ دانش مند، حکمرانوں کے مشیر کہلاتے ہیں اور دولت مندوں کی دولت اور طاقت وروں کی طاقت میں اضافے کی تدبیریں ڈھونڈا کرتے ہیں۔ یہ اس کام بھی آتے ہیں کہ جب کسی مالک کو کسی سانحے یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ ذمہ داری ان پر عائد کر سکے۔بہت عرصہ تک شہید بی بی کے چاہنے والے یہی کہتے رہے کہ بی بی غلط نہیں تھی، اس کے مشیر غلط تھے۔

میرے ایک دوست نے کہا، اصل دانش مند تو سوشل میڈیا پر پائے جاتے ہیں تو میں نے سوچا کہ اگر آپ گدھوں اور گھوڑوں کو ایک ہی جگہ باندھنا چاہیں تو آپ کو کون روک سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر زیادہ تر وہ دانشور ہیں جومیٹرک میں فیل ہو گئے تھے جبکہ ہمارے میڈیا میں تو شائد دو، چار ہی ایسے ہوں۔ اصل معاملہ تو فرسٹ ہینڈ انفارمیشن کے حصول کا ہے جس کے لئے بہرحال سوشل میڈیا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ایک دوسرے دوست نے نشاندہی کی کہ جن لوگوں کو بوٹ پالش اور تیل مالش کا کام کرنا چاہئے تھا وہ بھی بھلے وقتوں میں صحافی اور دانشور بن کر بیٹھ گئے،جو کام برش اور تیل لے کر ہوتا تھا اب وہ منہ اور قلم سے کیا جاتا ہے۔ دلچسپ اطلاعات تو یہ ہیں کہ اس قسم کی پالش او رمالش سے دولت اور طاقت والے افاقہ بھی محسوس کرتے ہیں۔ہمیں اس قسم کے تجزیے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ وزیراعظم فلاں جگہ پر پہنچے تو وہاں گہرے بادل چھا گئے، خواتین نے قرار دیا کہ وزیراعظم پاکستان تو رحمت بن کے ان کے ملک آن پہنچے ہیں۔ اب مجھے کوئی بتائے کہ اگرکسی ملک میں سب سے زیادہ اشاعت کا دعویٰ رکھنے والے اخبار میں یہ تین کالم شائع ہوجائے تو اس کے بعد آپ اس ملک کی صحافت اور صحافیوں بارے کیا رائے قائم کریں گے۔ یہی صحافی اس سے پہلے یہ خبر بھی دے چکے ہیں کہ جب موجودہ وزیراعظم کو فوجی آمریت کے دوران گرفتار کیا گیا تو ان کے کمروں سے قابل اعتراض فلمیں اور جنسی ادویات برآمد ہوئی تھیں۔ ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ وہ سینئرکہلانے والے صحافی بدل گئے مگر میرا کہنا ہے کہ وہ صحافی نہیں بدلے، ہاں، حکومت ضرور بدل گئی، بعض اوقات دیواروں اور دروازوں سے بھی وابستگی ہوجاتی ہے شرط یہ ہے کہ وہ اقتدار یاطاقت کے کسی مرکز میں لگے ہوں، مجھے کہنے دیجئے کہ اگر یہ تجزیے پر اثر نہ ہوتے تو کیا وہ صحافی وزیراعظم کے ساتھ غیر ملکی دوروں میں شریک ہوتے، اب کوئی شریف آدمی جو ان دوروں بارے جمع ، تفریق کرے، وزیر خزانہ سے سوال کر لے کہ حضور اتنے کامیاب دوروں کے باوجود آپ کا تجارتی خسارہ تو بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، وزیراعظم سے پوچھ لے کہ آپ آخری مرتبہ اپنے ہی ملک کے دورے کے دوران قومی اسمبلی کب تشریف لے کر گئے تھے، تواسے کامیاب صحافی نہیں کہا جا سکتا، ہمیشہ سے رائج لغت کے مطابق احمق کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ بات صرف میاں نواز شریف تک ہی تو محدود نہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ محترم عمران خان ابھی تک طاقت کے مراکز میں آپشن کے طور پر ڈسکس ہوتے ہیں لہذا ان سے بھی سوال نواز شریف کے بارے ہوتے ہیں، ان کی اپنی پرفارمنس بارے نہیں۔ یہ صحافتی بددیانتی کی بہترین مثال ہے کہ آپ کسی سیاسی رہنما سے بات چیت کرتے ہوئے اس کی اپنی پرفارمنس، پالیسیوں اور فیصلوں بارے پوچھنے کی بجائے صرف اس کے مخالف بارے پوچھیں۔ ناظرین کو اندازہ نہیں ہوتا مگر یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی نکمے بلے بازکو فیلڈرز سے خالی گراونڈ میں فل ٹاس دیتے ہوئے چوکے چھکے لگانے کا موقع دیں اور پھر اس کی صلاحیتوں کو سراہیں۔

بات سپریم کورٹ کے جواب سے شروع ہوئی ، میں نے اس پر تبصرہ کرتے اپنے دانشوروں کو دیکھا تو لگا کہ وہ اپنے شعبے میں کم از کم زبیدہ آپاکے ہم پلہ تو ضرور ہیں۔ یوں ہے کہ جوابی خط کی صورت ذبح کی ہوئی صاف ستھری مرغی ان کے ہاتھ ہے ۔ اسے کیسا پکانا ہے اس کا فیصلہ وہ اپنے اپنے مالک کی خواہش، مفاد اور مرضی کے مطابق ہی کریں گے۔ مالک کا دل ہے کہ وہ مرغی روسٹ کریں تو وہ بے چاری روسٹ ہوجائے گی ، قورمہ بنانے کا حکم ملا تو قورمہ میں ڈھل جائے گی، مالک نے کہا بریانی بنا دو تو بریانی ورنہ اس کاپلاو تیار ہونا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ہی۔ بعض ایسے فنکار بھی ملیں گے جو اس کی سویٹ ڈش بھی بنا دیں گے یا ایک ہی ڈش میں ایک سے زیادہ مزے چکھا دیں گے۔ جس طرح راولپنڈی کا سیور پلاواور پشاور کی نمک منڈی کا نمکین گوشت مشہور ہے بالکل اسی طرح ہمارے چینل کے کسی بھی خبر کی پکوائی میں اپنے اپنے مشہور ذائقے رکھتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں نااہلی پر پنجاب کی حکومت کو گالی کاتڑکا بھی دیا جا سکتا ہے اور پنجاب حکومت کے کسی ایشو پر سندھ کے وزیراعلیٰ کو بھی رگڑا جا سکتا ہے۔ ہر جگہ باورچی نما دانشور خبر کی مرغی ہاتھ میں پکڑے مالکوں کی ہدایات کے مطابق خبروں اور پروگراموں کا مینیو تیار کر تے ہیں کہ وہ مالکوں سے لاکھوں روپے ماہانہ لیتے ہیں ، مرغی سے نہیں۔آپ ہمارے گاہگ ہیں، ریموٹ پکڑئیے اور چکھنا شروع کیجئے، جہاں مزا آئے وہیں آلتی پالتی مار لیجئے۔ اب لمبی بحث میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس میں اچھا کیا ہے اور برا کیاہے، اس سے فائدہ کیا ہے اور نقصان کیاہے، آپ اپنے پسندیدہ چینل سے اپنے پسندیدہ باورچیوں، معذرت چاہتا ہوں، اپنے پسندیدہ دانشوروں کے ذریعے اپنے موقف کا مزا اٹھا سکتے ہیں جو آپ کے منہ کو بھاتا ہے کہ ہم کچی خبرکی پکوائی کے زبردست ماہر ہیں، آپ بھی آرڈر لگائیں، ہم اس خبر کاکیا بنائیں؟

مزید : کالم