پانامالیکس ، حکومت کا انکوائری کمشن کے قیام کیلئے ٹی او آر میں اضافی نکات شامل کر کے قانون سازی کا فیصلہ

پانامالیکس ، حکومت کا انکوائری کمشن کے قیام کیلئے ٹی او آر میں اضافی نکات ...

لاہور(سعید چودھری )حکومت نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے سپریم کورٹ کو بھیجے گئے اپنے ٹرمز آف ریفرنس میں کمی کی بجائے اس میں اضافی نکات شامل کرکے انکوائری کمشن کے قیام کی بابت قانون سازی کا فیصلہ کرلیا ہے ۔یہ فیصلہ انکوائری کمشن کے حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے وزارت قانون کو بھجوائے گئے خط کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومت کی لیگل ٹیم نے مجوزہ قانون کے خدوخال تیار کرلئے ہیں ،جن کے تحت کمشن کو عوامی عہدیداروں کے اثاثہ جات کی تحقیقات کا اختیار بھی حاصل ہوگا ،لیگل ٹیم کے ایک اہم رکن نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ مجوزہ قانون کے تحت ٹرمز آف ریفرنس میں ایک سے زیادہ نکات کا اضافہ کیا جائے گا جس میں موجودہ اور سابق عوامی عہدیداروں کی بے نامی جائیدادوں اور بیرونی ممالک سے ملنے والی امداد کی تحقیقات اور جانچ پڑتال کا نکتہ بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق قانون سازی سے قبل تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا ،حکومتی لیگل ٹیم کے رکن نے مزید بتایا کہ اس سے قبل 22اپریل کو پاناما لیکس کے حوالے سے کمشن کے قیام کی خاطر سپریم کورٹ کو جو خط لکھا گیا تھا اس میں مجوزہ کمشن کے ضابطہ کار اوردائرہ اختیار کی بابت ٹرمز آف ریفرنس کے نکات میں پانامااورکسی بھی دوسرے ملک میں آف شور کمپنیوں کے معاملات میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کی تحقیقات کے علاوہ سیاسی اثر ورسوخ کے ذریعے اپنے یا اپنے قریبی رشتے داروں کے بینک قرضے معاف کروانے میں ملوث موجودہ و سابق سرکاری عہدیداروں کے بارے میں تحقیقات کرنا شامل تھا جبکہ کرپشن ،کمشن اور کک بیکس کے ذریعے پاکستان میں رقوم اکٹھی کرکے بیرون ملک بھجوانے میں ملوث موجودہ و سابق سرکاری عہدیداروں کے بارے میں تحقیقات کو بھی ٹرمز آف ریفرنس میں شامل کیا گیاتھا ۔ذرائع کے مطابق نئے ٹرمز آف ریفرنس میں کمشن کو اس بابت تحقیقات کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے کہ عوامی نمائندگان نے اپنے جو اثاثہ جات الیکشن کمشن میں ظاہر کررکھے ہیں ان کی مالیت کیا ہے ،وہ کن ذرائع سے بنائے گئے ۔علاوہ ازیں عوامی نمائندگان اور سرکاری عہدیداروں کی ایسی جائیدادوں کے بارے میں بھی تحقیقات کا اختیار کمشن کو سونپنے کی تجویز ہے جوانہوں نے اپنے قریبی عزیزوں یا دیگر افراد کے نام پر بنا رکھی ہیں۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے بعد کمشن کو مطلوبہ تفصیلات اور کوائف بھی فراہم کئے جائیں گے ۔

مزید : صفحہ اول