پانامالیکس کی تحقیقات کیلئے مشترکہ ٹی او آر بننے چاہئیں ، خورشید شاہ

پانامالیکس کی تحقیقات کیلئے مشترکہ ٹی او آر بننے چاہئیں ، خورشید شاہ

 اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہے ٗ پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے مشترکہ ٹی او آرز بننے چاہئیں اور قانون سازی ہونی چاہئے ٗنواز شریف بھی پانامہ لیکس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں ٗمعاملے میں مزید تاخیر ملک کیلئے بہتر نہیں ہے ٗچیف جسٹس کے خط کے بعد حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ٗاپوزیشن نے بہت صبر کرلیا ٗاب بال کورٹ میں ہے ٗوزیراعظم کہتے تھے پارلیمنٹ کے ذریعے مسائل کا حل ہونا چاہیے ٗ اب اپنے موقف پر قائم رہیں ۔ایک انٹرویو میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم کسی کو نیچا نہیں دکھانا چاہتے تاہم اگر نواز شریف کا تعلق پانامہ لیکس سے نہیں ہے تو پھر انہوں نے قوم سے دو بار خطاب کیوں کیا؟اپوزیشن نے بہت صبر کر لیا ہے اور اب بال حکومت کی کورٹ میں ہے، معاملے میں زیادہ تاخیر ملک کیلئے بہتر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے ٹی او آرز کو حکومت نے مسترد کر دیا تھا ٗ ہمارا مطالبہ ہے کہ کمیشن کیلئے قانون سازی ہونی چاہئے اور مشترکہ ٹی او آرز بننے چاہئیں ٗ حکومت کو اس معاملے میں لچک دکھانا پڑیگی۔انہو ں نے کہا کہ وزیراعظم پیر کو قومی اسمبلی آئیں گے تو کافی مسئلے حل ہو جائیں گے ٗہم حالات بگاڑنا نہیں چاہتے، معاملے کا صحیح راستہ چاہتے ہیں اور ایسی سیاست سے گریز کرنا چاہئے جس سے ملک اور اداروں کو نقصان ہو۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ رائیونڈ جائیں گے تو پیپلز پارٹی نے انکار کر دیا کیونکہ ہمیں چادر اور چار دیواری کا احترام ہے۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے حکومت کو جو خط لکھا اس میں متفقہ ٹی او آرز بنانے اور قانون سازی کا کہا گیا ہے ہم بھی پہلے دن سے یہی کہہ رہے تھے اب چیف جسٹس نے متفقہ ٹی او آرز اور قانون سازی کا کہہ کر ہمارے مؤقف کی تائید کی ہے ٗ عوام کے سامنے بھی واضح ہوگیا کہ اپوزیشن نے جو مطالبات کئے تھے وہ یکطرفہ نہیں بلکہ درست تھے۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ چیف جسٹس کے اس مؤقف کو کسی کی فتح سے منسوب نہ کیا جائے جس دن پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہوگیا اس دن پورے ملک کے عوام کی جیت ہوگی۔ اپوزیشن لیڈرنے کہا کہ ہم کسی ایک شخص سے وضاحت یا احتساب کا ہرگز مطالبہ نہیں کرتے، کرپشن میں ملوث اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ہرشخص کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں اور ہر اس شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے جس نے بینکوں سے قرضے لئے اورانہیں معاف کرایا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پانامالیکس ہم نے نہیں بنایا یہ ایک انٹرنیشنل موضوع بن گیا ہے انہی انکشافات کے باعث دنیا کے بڑے ممالک کے وزرائے اعظم استعفیٰ دینے پرمجبورہوگئے، وزیراعظم نواز شریف نے ہمیشہ کہا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے مسائل کا حل ہونا چاہئے اور ایوان میں ہی ہر مسئلے پر بات کی جائے، اب وزیراعظم اپنے موقف پر قائم رہیں، ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آئیں اورقوم کے سامنے اپنا جواب رکھیں۔سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزازاحسن نے چیف جسٹس کے خط کو اپنے موقف کی تائید قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ کسی ملزم کے خلاف تحقیقات اس (ملزم) کے ضوابط کار کے تحت نہیں کی جاسکتی۔تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے حکومت کے ٹی او آرز مسترد ہوچکے ہیں لیکن اپوزیشن اب بھی حکومت کو راستہ دینے کے لئے تیارہے،حکومت کو چاہئے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑے اور اپنے رویئے پرغورکرکے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ٗ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر متفقہ ٹی اوآرز تشکیل دے۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اسے اپوزیشن کے موقف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ بامعنی کمیشن بنانے کیلئے مشترکہ ٹی او آرز ناگزیر ہیں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاکہ اب کھیل شروع ہونے والا ہے حکومت نے پاناما لیکس پر تاخیری حربے استعمال کئے جس کی زد میں اب خود آچکے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن مل کرٹی او آرز چیف جسٹس کو بھیجیں ٗاپوزیشن وزیراعظم کا احتساب چاہتی ہے جبکہ حکومت اپوزیشن کے افراد کی تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے، دونوں فریقین کو چاہئے کہ وہ جن کا احتساب چاہتے ہیں ان کا نام بتا دیں اور پھر چیف جسٹس کو چاہئے کہ وہ اس پر ایک کمیشن تشکیل دے دیں۔

مزید : صفحہ اول