جس صوبے میں تبدیلی کی معطر ہوائیں چل رہی ہیں ، وہاں تحریک انصاف کیسے ہا رگئی ؟

جس صوبے میں تبدیلی کی معطر ہوائیں چل رہی ہیں ، وہاں تحریک انصاف کیسے ہا رگئی ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  ایسے محسوس ہوتا ہے خیبر پختونخوا میں جو تبدیلی آ رہی تھی، وہ آتے آتے خوفزدہ ہوکر رک گئی ہے ورنہ یہ تو نہ ہوتا کہ کے پی 8 کے صوبائی اسمبلی کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ارباب وسیم حیات جیت جاتے۔ شکست تو ہو جاتی ہے لیکن ہوم گراؤنڈ کی شکست بری طرح محسوس ہوتی رہتی ہے۔ اب معلوم نہیں پرویز خٹک اس شکست کو کیسے دیکھ رہے ہیں، بدلے ہوئے یا بدلتے ہوئے کے پی کے میں یہ شکست کیوں کر ہوگئی؟ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ صوبے میں ’’بدل رہا ہے خیبر پختونخوا‘‘ کا نعرہ عوام کو متاثر نہیں کرسکا، یا یوں کہہ لیں حکومت جس طرح اپنی کارکردگی کو تعریف و تحسین کی نظروں سے دیکھ رہی ہے عوام اس آنکھ سے نہیں دیکھ رہے، ورنہ جس صوبے میں پولیس غیر سیاسی ہوگئی، تعلیم پر توجہ دی جا رہی ہو، سکولوں اور کالجوں کی حالت بہتر کردی گئی ہو، ہسپتالوں میں مریض خوشی خوشی علاج کرانے آتے اور صحت یاب ہوکر لڈیاں ڈالتے گھروں کو لوٹتے ہوں، پرائیویٹ کلینکوں پر الو بولتے ہوں کہ جہاں سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج ہو رہا ہے وہاں لوگ پرائیویٹ کلینکوں اور ہسپتالوں کا رخ کیوں کریں؟ جہاں ایک ارب 20 کروڑ درخت لگائے جا رہے ہوں اور درختوں کی اس فراوانی کی وجہ سے مزید درخت لگانے کی جگہ نہ مل رہی ہو، جہاں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہوں اور لوگ ان ہواؤں کی بھینی بھینی خوشبو سے سرشار ہوں، وہاں اگر تبدیلی کی علمبردار جماعت کا امیدوار ضمنی الیکشن میں ہار جائے تو اسے کیا کہا جائے گا؟ تحریک انصاف کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا وہ اگلے انتخابات میں دوبارہ حکومت سازی کی پوزیشن میں آسکے گی؟ تحریک انصاف انسانوں پر سرمایہ کاری کی دعویدار ہے لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ اگر ضمنی الیکشن میں نہیں نکلا تو عام انتخابات میں کیسے نکل سکے گا؟ ابھی 2018ء میں دو برس باقی ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ صوبے کی حکمران جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور اگلے انتخابات میں کامیابی کیلئے نہ صرف کوئی حکمت عملی بنائیں بلکہ کوئی ایسی گولی بھی تیار کریں جس سے ووٹروں کو آسانی سے خرید سکیں، ورنہ نعرے اور دعوے تو بہت سن لئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا میں بھی وہی حشر ہو جو 2008ء میں ایم ایم اے کا اور 2013ء میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کا ہوا تھا۔ اے این پی نے صوبے میں نام کی تبدیلی کیلئے بڑی طویل جدوجہد اور محنت کی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے صوبے کے عوام کو شناخت دی ہے، لیکن عوام نے شناخت دینے والوں کو بھی مسترد کردیا اور تحریک انصاف کے سرپر اقتدار کا ہما بٹھا دیا۔ اگر ضمنی انتخابات والا رجحان آئندہ بھی جاری رہا تو یہ پرندہ پھُر کرکے اڑ جائے گا اور پرویز خٹک دیکھتے رہ جائیں گے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان چونکہ بنیادی طور پر کرکٹر ہیں اس لئے اب تک وہ کرکٹ کی اصطلاحات سے باہر نہیں نکل سکے، ایک زمانے میں کہا کرتے تھے کہ وہ ایک ہی بال میں زرداری اور نوازشریف کو آؤٹ کردیں گے، دونوں کی پارٹنر شپ توڑنے کا اعلان بھی انہوں نے بار بار کیا لیکن پارٹنر شپ توڑنے کی بجائے وہ خود زرداری کی جماعت کے پارٹنر بن گئے ہیں۔ پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نوازشریف کو چیلنج کیا تھا کہ وہ انہیں ان کے امپائروں سمیت شکست دیں گے۔ اگر تو ان کا اشارہ اس حلقے کے انتخاب کی طرف تھا جس میں ان کی جماعت کا امیدوار چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے تو یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا۔ خان صاحب کے امیدوار نے تو اس حلقے میں دھاندلی کا الزام بھی نہیں لگایا، یہ الزام بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ پشاور کے اس حلقے میں کئے جانے والے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف جس ’’گڈ گورننس‘‘ کی دعویدار ہے اس کی بھنک ابھی لوگوں تک نہیں پہنچی ورنہ یہ تو نہیں ہوسکتا تھا کہ لوگ ’’گڈ گورننس‘‘ کو بھول کر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو جتوا دیتے۔

یہ ضمنی الیکشن لاہور یا پنجاب کے کسی دوسرے شہر میں ہو رہا ہوتا تو ملبہ آسانی کے ساتھ پولیس اور انتخابی عملے پر ڈالا جاسکتا تھا، لیکن جس صوبے میں تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے وہاں اب اگر الیکشن کرانے کے ذمہ دار افراد پر الزام لگایا بھی جائے تو اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے، اس لیے ہارنے والے امیدوار کو اگر کوئی جائز شکایت بھی پیدا ہوئی تو وہ اس شکایت کو پی گئے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی حکومت کی کارکردگی اگر بعض سیکٹروں میں بہتر بھی ہے تو وہ اپنی اس کارکردگی کا پیغام عوام خصوصاً ووٹروں تک نہیں پہنچا سکے۔ عمران خان کی تمام تقریروں کا متن اگر پڑھ لیا جائے تو ان کا ہدف نوازشریف اور کہیں کہیں شہباز شریف ہی نظر آئیں گے۔ صوبے میں ان کی اپنی مثبت کارکردگی کیا ہے اس کا ذکر انہوں نے کبھی نہیں کیا یا اس کی ضرورت محسوس نہیں کی تو پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عام انتخابات میں وفاق میں تو انہیں مشکلات کا سامنا ہوگا ہی‘ اس صوبے میں بھی ان کی کامیابی کے امکانات معدوم ہو جائیں گے جس پر ان کی جماعت نے پانچ برس تک حکومت کی اور وہاں تبدیلی کا نعرہ بڑی شدت سے لگایا۔

مزید : تجزیہ