سپریم کورٹ نے مروجہ قانون کے تحت کمشن کو بے سود اور بدنامی کا باعث کیوں کہا ؟

سپریم کورٹ نے مروجہ قانون کے تحت کمشن کو بے سود اور بدنامی کا باعث کیوں کہا ؟

تجزیہ: - سعید چودھری

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کمشن کے قیام کے لئے حکومتی خط کا جواب دے دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان کمشن آف انکوائری ایکٹ 1956ء "کے تحت انکوائری کمشن کی تشکیل بے سود ہوگی جس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے ایساغیر موثر الیکشن کمشن قائم کرنا بدنامی مول لینے کے مترادف ہوگا۔سپریم کورٹ نے ایسا کیوں کہا ہے ؟انکوائری کمشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی کیا قانونی حیثیت ہے؟کیاانکوائری کمشن کی رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی اور کیا کمشن کسی کو سزا دے سکتا ہے ؟قانونی طور پر جوڈیشل انکوائری کی حیثیت ایک رائے اور سفارش کی ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں قرار دیا جاچکا ہے کہ جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔اسی عدالتی نظیر کی بنیاد پر اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے متعدد مقدمات میں جوڈیشل انکوائری کو گواہی کے طور پر قبول نہ کرنے کی بابت آبزرویشنز آچکی ہیں۔قانون کے تحت جوڈیشل انکوائری کا مقصد غیر جانبداری کے ساتھ انتظامیہ کو مدد اور راہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ انکوائری کے نتائج کی روشنی میں انتظامیہ اپنے لئے درست راستے کا تعین کرسکے۔جوڈیشل کمیشن کوئی عدالت ہے اور نہ ہی وہ کوئی حکم جاری کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی شخص کو سزا نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح کسی شخص کے خلاف رپورٹ میں کی گئی سفارشات پر عمل درآمد بھی ضروری نہیں ہے ،اس حوالے سے بھی عدالتی نظائر موجود ہیں جیسا کہ سانحہ گوجرہ کے حوالے سے مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن کی انکوائری رپورٹ میں اعلی پولیس افسر طاہر رضا کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی اور یہ رپورٹ ان کی کسی اعلی ٰ عہدہ پر تعیناتی کی راہ میں رکاوٹ تھی تاہم اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعدطاہر رضا کو سی سی پی او لاہور مقرر کردیا گیا تھا۔پاناما لیکس کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں انکوائری کمشن کا مطالبہ کرنے والوں کو کمشن کی رپورٹ کے حوالے سے اس کی قانونی حیثیت کو پیش نظر رکھنا چاہیے ،اس رپورٹ پر عمل درآمد کرنا یا نہ کرنا حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے ،حکومت جوڈیشل کمشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے سکتی ہے جیسا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے کیا گیا تھا ۔حکومت کے بزرجمہرتو سکینڈلز کو دبانے کے لئے انکوائری کمشن کی تشکیل کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ایسے کمشن کی رپورٹ ایک مشاورتی دستاویز سے زیادہ کی قانونی حیثیت کی حامل نہیں ہے ۔سپریم کورٹ کے خط کی منشا ہے کہ پاناما لیکس کمشن کے لئے اسی طرح قانون سازی کی جائے جس طرح 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمشن کے قیام کے لئے قانون سازی کی گئی تھی ،یہ جوڈیشل انکوائری کمشن ایک نیاقانون جاری کرکے قائم کیا گیا تھا اور یہ قانون تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ کے نتیجہ میں جاری ہوا تھا ۔قانونی طور پر جوڈیشل انکوائری کی جو بھی حیثیت ہو اس سے قطع نظر اسے کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار نہیں دیا جاسکتا اگر ایسا سمجھا گیا تو یہ ایک بڑی غلطی ہوگی۔ایسی رپورٹوں کی باز گشت دہائیوں تک متعلقہ اشخاص کا پیچھا کرتی ہے جیسا کہ سانحہ سقوط ڈھاکہ کا ذکر حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے بغیر ناکمل رہتا ہے اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر مختلف لوگوں یا اداروں کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

مزید : تجزیہ