چیف جسٹس کی رائے کے بعد بال سیاست دانوں کی کورٹ میں!

چیف جسٹس کی رائے کے بعد بال سیاست دانوں کی کورٹ میں!

تجزیہ :چودھری خادم حسین

تازہ ترین اطلاع کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے حکومت کی طرف سے پانامہ لیکس کے حوالے سے تحقیقات کے لئے کمشن بنانے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور خط کے جواب میں کہا ہے کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ غیر متوقع نہیں۔ ہمارے سینئر رکن سعید چودھری نے اپنے تجزیئے اورخبر میں یہ بتادیا تھا کہ چیف جسٹس کے لئے حکومتی درخواست پر عمل لازمی نہیں وہ انکار بھی کرسکتے ہیں اورایسا ہو بھی گیا ہے اب بال پھر سیاست دانوں ہی کے کورٹ میں ہے جو ہر روز مقابلہ کرتے اور یہ محاذ آرائی الزام اور جوابی الزام کی ہوتی ہے، جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو وہاں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کو اکاموڈیٹ کرنے پر لگی ہوئی ہیں، چودھری اعتزاز احسن اورشاہ محمود قریشی ایک دوسرے کو باری دیتے ہیں، دوسری طرف حکومتی جماعت کے دو ارکان اور ان کے ساتھ اکا دکا وزیروں میں مقابلہ آرائی ہے۔ وہ ایک دوسرے سے بڑھ کرشاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر دکھا رہے ہیں۔ دانیال عزیز اور طلال چودھری بڑے محترم ہیں، تاہم جب وہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب الزامات کی صورت میں دیتے ہیں تو کچھ عجیب سا لگتا ہے۔

اپوزیشن کے فیصلے اور وزیراعظم کے ٹھوس موقف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی اور یہ شوروغل جاری رہے گا۔ محاذ آرائی بڑھتی چلی جائے گی جو بہرحال اپوزیشن کے لئے تو شاید مفید ہو، لیکن حکمران جماعت کے لئے سودمند نہیں ہوتی وہ کوئی بھی اورکتنی بھی مضبوط ہو۔

ان حالات میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کو خود ہی سنجیدہ قدم اٹھانا چاہیے۔ ایک خبر کے مطابق یہ درست سہی کہ خورشید شاہ علیل ہیں اور انہوں نے آج (جمعہ) ایوان میں نہیں آنا تھا۔ اس لئے وزیراعظم نے بھی جمعہ کی بجائے پیر کی شام آنے کافیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کو اجلاس ملتوی ہو تو ہفتہ،اتوار چھٹی ہوتی ہے، دوسری طرف بعض ذرائع یہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے اکثر رہنماؤں کے برعکس سید خورشید شاہ کا ایک نرم گوشہ بھی ہے اوروہ ایسی محاذ آرائی نہیں چاہتے جو مختلف نتائج کی حامل ہو، اسی لئے انہوں نے جان بوجھ کر یہ موقع مہیا کیا کہ وزیراعظم تا جکستان سے واپس آ کر تیاری کے لئے کچھ وقت لے لیں۔ سپیکر کے ساتھ یہ بھی طے ہوگیا ہوا ہے کہ وزیر اعظم کے خطاب کے بعد قائد حزب اختلاف بھی جوابی خطاب کریں گے۔ اسمبلی روایات کے مطابق قائد ایوان کے لئے وقت کی قید نہیں تو قائد حزب اختلاف بھی اس سے مبرا ہیں۔ ان کے لئے بھی وقت ہی وقت ہے اور اس وقفہ سے وہ بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ اپوزیشن پارٹیوں سے مشاورت کر کے نکات تیار کرلیں گے۔

اب ان تمام حضرات کے لئے خصوصاً فرزند راولپنڈی کے لئے نوید ہو کہ توقع کے مطابق کچھ ہونا ہوانا نہیں، وزیر اعظم کا خطاب اور قائد حزب اختلاف کی جوابی تقریر کے بعد بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا اور اس وقت تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا جب تک فریقین مل بیٹھ کراصول طے نہیں کر لیتے۔

اب حزب اقتدار اور خصوصاً وزیر اعظم کو یہ امر ذہن نشین ہونا چاہیے کہ یہ وقت ان کے لئے نعمت ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست ختم ہو اور اس کا بہترین حل یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں الزامات کو تورد کریں تاہم ساتھ ہی احتساب کمشن کا بھی اعلان کردیں کہ ایوان مل بیٹھ کر احتساب کمشن والا بل منظور کر نے کے لئے اس پر غور کرلے اور جلد منظور کر کے مستقل احتساب کا سلسلہ شروع کرے۔ ایک خود مختار، آزاد اور بااختیار کمشن ہی ان مسائل کا حل ہے کہ یہ تو مستقل سلسلہ ہے، احتساب تو جاری عمل ہے اور جاری رہنا چاہیے۔

جہاں تک وزیر اعظم اور ان کے رفقا کے اعتماد کا تعلق ہے تو ہم اسے بے جا نہیں کہتے، مگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ہوگا کہ جمہوریت میں کچھ در، کچھ لو کی بات چلتی ہے، ضد نہیں ہوتی، یہاں پھر یاد دلائیں کہ ماضی میں بھی اتحادوں کے لئے مذاق کیاجاتا رہا، لیکن بڑے مضبوط اتحاد بنے اور ان کی تحریکیں بھی موثر رہی تھیں اور اب بھی اس اتحاد کو مضبوط کرنے کی تمام تر کوشش حکومت کے ’’ دوست‘‘ ہی کررہے ہیں۔ اپوزیشن میں تحریک انصاف سڑکوں پر آنے اور پھر سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجاویز رکھتی ہے۔ دوسری جماعتوں کو تحفظات ہیں، اگر حکومت کی طرف سے اس ہنگامے کو فرو کرنے کے لئے مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو اپوزیشن زیادہ مضبوط ہو سکتی اوردوسری جماعتیں بھی استعفوں والی تجویز پر غور کرسکتی ہیں اور ایسا اقدام ہوا تو اس کے نتائج دور رس ہوں گے۔ یوں بھی تحریک انصاف حکومت مخالف ایجی ٹیشن کے موڈ میں ہے تو اب ان کو مزید غصہ آگیا ہو گا کہ پشاور سے حلقہ 8 سے مسلم لیگ کے ارباب وسیم تحریک انصاف کے امیدوار کو ہرا کر جیت گئے ہیں، بہترعمل جمہوری ہے اور مل بیٹھ کر طے کرلیں۔

چیف جسٹس کی رائے

مزید : تجزیہ