سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس ، سابق رکن اسمبلی فیاض وڑائچ کا بیا ن قلمبند

سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس ، سابق رکن اسمبلی فیاض وڑائچ کا بیا ن قلمبند

لاہور(نامہ نگار)سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں سابق رکن صوبائی اسمبلی فیاض وڑائچ نے گزشتہ روز اپنا بیا ن قلمبند کرا دیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بیان قلمبند کرواتے ہوئے عوامی تحریک کے گواہ سابق رکن صوبائی اسمبلی فیاض وڑائچ نے کہا کہ 15جون 2014 کے دن مجھے اور خرم نواز گنڈا پور کو ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک لاہور بلایا گیا ،جہاں وزیر اعظم میاں نواز شریف ،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف،وفاقی وزراء چوہدری نثار،خواجہ سعد رفیق،خواجہ آصف،پرویز رشید ، عابد شیر علی ،صوبائی وزراء راناثناء اللہ اور ڈاکٹر توقیر شاہ پہلے سے موجود تھے ۔ ہمیں کہا گیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے آنے سے ملکی سیاسی فضا خراب ہو جائے گی انہیں پاکستان آنے سے روکیں ورنہ ان کی آمد کو طاقت سے روکیں گے اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تہس نہس کر دیں گے ۔فیاض وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ 15جون 2014 کی دوپہر چیف منسٹر ہاؤس سے فون پر ہمیں آگاہ کیا گیا کہ لاہور میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں آپ حضرات سے ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی کے حوالے سے اہم میٹنگ کرنی ہے اور پھر شام کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے ایک گاڑی آئی جس کے ذریعے ہم ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک پہنچے ،ہمارے ہمراہ منہاج القرآن کے چیف سیکیورٹی افسر سید الطاف حسین شاہ گیلانی بھی تھے ،سابق رکن صوبائی اسمبلی فیاض وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ خرم نواز گنڈا پور نے شرکائے میٹنگ کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن آمد کا شیڈول حتمی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اس پر وفاقی وزیر پرویز رشید نے غصہ میں کہا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے ۔خواجہ آصف اور عابد شیر علی نے دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے سارے انتظامات کر رکھے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور حمزہ شہباز بھی طیش میں آ گئے اور انہوں نے چوہدری نثار،خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ پر مشتمل کمیٹی بناتے ہوئے کہا کہ اب ہم کسی اور طریقے سے نمٹیں گے ،فیاض وڑائچ نے کہا کہ حکمرانوں کے نا معقول رویے کے باعث ہم میٹنگ سے اٹھ کر آ گئے ۔ بیان قلمبند کروانے کے بعد سابق رکن صوبائی اسمبلی فیاض وڑائچ نے اپنے وکلاء کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے رو برو ایک اہم گواہی پیش کی گئی ہے۔

استغاثہ کیس

مزید : صفحہ آخر