جج سے بدتمیزی ،وکیل عمران رضا چدھڑ کا لائسنس معطل،5لاکھ روپے جرمانہ

جج سے بدتمیزی ،وکیل عمران رضا چدھڑ کا لائسنس معطل،5لاکھ روپے جرمانہ

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے جسٹس سردار شمیم احمد سے بدتمیزی کرنے والے وکیل عمران رضا چدھڑ کو ایک ماہ تک وکالت کے لائسنس کی معطلی اور 5لاکھ روپے بطور جرمانہ کی سزا سنادی ،عدالت نے حکم دیا ہے کہ یہ رقم ہائیکورٹ بار کو عطیہ کی جائے ، جج سے بدتمیزی کرنے والے وکیل عمران رضا چدھڑ کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ وکلاء کا ادارہ ہے، اس کا احترام بھی وکلاء کی ہی ذمہ داری ہے ۔اپیل کنندہ کی طرف سے ممبر پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑاورہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن پیش ہوئے جبکہ راجہ عبدالرحمن ایڈووکیٹ نے بھی عدالت کی معاونت کی، عمران چدھڑ ایڈووکیٹ کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ سنگل جج کی طرف سے لیگل پریکٹیشنر اینڈ بار کونسل ایکٹ کے تحت کسی وکیل کا لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہے، سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کر کے عمران رضا چدھڑ کا لائسنس بحال کیا جائے، سرکاری وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل ایکٹ کے تحت سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر نہیں کی جا سکتی بلکہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا، عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیئے کہ عدلیہ وکلاء کا ادارہ ہے، اس کا احترام بھی وکلاء کی ہی ذمہ داری ہے، ججوں سے زیادہ وکلاء عدلیہ کے احترام کے ذمہ دار ہیں، دو رکنی بنچ نے جج سے بدتمیزی کرنے والے وکیل کا ایک ماہ تک ہائیکورٹ کا لائسنس معطل رکھنے اور 5لاکھ روپے بطور جرمانہ ہائیکورٹ بار کو عطیہ کرنے کی سزا سناتے ہوئے انٹرا کورٹ اپیل نمٹا دی۔

وکیل کالائسنس معطل

مزید : صفحہ آخر