حکومتی خط بدنیتی پر مبنی تھا، چیف جسٹس کا فیصلہ ہرگز خلاف توقع نہیں: طاہر القادری

حکومتی خط بدنیتی پر مبنی تھا، چیف جسٹس کا فیصلہ ہرگز خلاف توقع نہیں: طاہر ...

لاہور(اے این این )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کہا ہے کہ پیچیدہ ٹی او آرز کے ساتھ لکھا گیا حکومتی خط بدنیتی پر مبنی تھا۔چیف جسٹس کا فیصلہ ہر گز خلاف توقع نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو علم تھا کہ پاکستان کمیشنز آف انکوائری ایکٹ 1956کے تحت بین الاقوامی مالیاتی کرپشن کے کیس کی انکوائری نہیں ہو سکتی اس کے باوجود سپریم کورٹ کو الجھانے کی کوشش کی گئی۔وزیراعظم خط کے پیچھے چھپے رہنا چاہتے تھے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ وزیراعظم احتساب سے بھاگ رہے ہیں اور انہوں نے ’’چند بچوں ‘‘سے کہا کہ وہ اتنا شور مچائیں کہ قوم پانامہ لیکس کے معاملہ پر ابہام کا شکار ہو جائے مگر اس بار اللہ کو کچھ اور ہی منظور ہے اور اس بار قوم بھی کرپشن کے خاتمہ کیلئے انتہائی سنجیدہ ہے اور وزیراعظم سمیت ہر اس شخص کا احتساب چاہتی ہے جس نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے زائد عرصہ تک حکمرانوں نے تماشا لگائے رکھا۔قوم اور میڈیا کو الجھائے رکھا ،وزیراعظم یہ بتانے پر تیار نظر نہیں آتے کہ انہوں نے دولت کہاں سے کمائی اور بیرون ملک کیسے پہنچائی اور وہاں بڑے بڑے محلات کس طرح خریدے اگر وہ چاہتے تو ایک ہی نشست میں ان سارے سوالات کا جواب دے سکتے تھے مگر انہوں نے نہیں دئیے جس سے ابہام دن بدن گہرا ہورہا ہے اور ایک بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پانامہ لیکس کی انکوائری میں سنجیدہ ہوتی تو اس کیلئے پاکستان انسداد کرپشن ایکٹ1947 ء زیادہ موثر اور کارگر تھا اور وزیراعظم پانامہ لیکس کا جواب دینے میں سنجیدہ ہوتے تو وہ اپوزیشن کی مشاورت سے ٹی او آرز بناتے اور پھر بااختیار کمیشن کی تشکیل کیلئے آرڈیننس جاری کرواتے۔ انہوں نے کہا کہ اول روز سے کہہ رہے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی کرپشن کے اس کیس کی انکوائری کیلئے اپوزیشن سے مل کر متفقہ ٹی او آرز بنائے جائیں اور بااختیار کمیشن کی تشکیل کیلئے آرڈیننس جاری کیا جائے ایسا کمیشن جسے سزا دینے ،رپورٹ جاری کرنے اور انٹرنیشنل فرانزک ایکسپرٹس کو بلانے کا اختیار بھی ہو۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں دھاندلی کی چھان بین کیلئے حکومت نے اپوزیشن سے مل کر ٹی او آرز بنائے تھے اور پھر بااختیار کمیشن کیلئے آرڈیننس جاری کیا تھا ۔پانامہ لیکس کے معاملے پر ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک ماہ گزر گیا نیب ،ایف بی آر ،ایف آئی اے سمیت کسی ادارے نے معاشی دہشتگردی کے اس کیس کی انکوائری کا آغاز نہیں کیا۔ اب تک ان تینوں اداروں کو وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ اور دیگر افراد کو ایک عدد سوالنامہ بھجوا دینا چاہیے تھا۔

مزید : صفحہ آخر