اراکین اسمبلی عہدہ چھپا کر لاہور پارکنگ کمپنی میں شامل ہوئے

اراکین اسمبلی عہدہ چھپا کر لاہور پارکنگ کمپنی میں شامل ہوئے

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ میں تحریری جواب داخل کراتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پبلک سیکٹر کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ارکان اسمبلی کی شمولیت خلاف قانون ہے، ایم پی ایز رمضان صدیق بھٹی اور کرن ڈار سیاسی عہدے چھپا کرلاہورپارکنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہوئے ۔جسٹس علی اکبر قریشی نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے کہ پنجاب میں معاملات کھلم کھلا غیرقانونی چلائے جا رہے ۔عدالت میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید کی درخواست پر سماعت شروع کی تو ایس ای سی پی کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں داخل کرایا گیا ، ایس ای سی پی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پبلک سیکٹر گورننس رولز کے مطابق کسی عوامی عہدیدار کو پبلک سیکٹر کمپنی میں شامل نہیں کیا جا سکتا، اراکین اسمبلی کی کمپنیو ں میں شمولیت پبلک سیکٹر گورننس رولز کی دفعہ 3 کی ذیلی دفعہ 7کی کھلی خلاف ورزی ہے، جواب میں کہا گیا کہ ایم پی اے رمضان صدیق بھٹی اور کرن ڈار اپنے سیاسی عہدے خفیہ رکھ کر لاہور پارکنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہوئے جس پر دونوں ایم پی ایز کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، فاضل عدالت نے ایس ای سی پی کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے کہ پنجاب میں معاملات کھلم کھلا غیرقانونی چلائے جا رہے ہیں، درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکاء نے موقف اختیار کیا کہ صاف پانی کمپنی، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، لاہور پارکنگ کمپنی اور ایگریکلچر میٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مسلم لیگ (ن)کے 12اراکین اسمبلی کو شامل کر رکھا ہے جن میں ایم پی اے رمضان صدیق بھٹی، حسین جہانیاں گردیزی، نسرین نواز، کرن ڈار، امان اللہ خان، قاضی عدنان فرید، رانا بابر حسین، چودھری لعل حسین، محمود قادر خان، انجینئر قمر الاسلام راجہ، وحید گل اور ماجد ظہور شامل ہیں، ان اراکین اسمبلی کو کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے عہدوں سے ہٹایا جائے ، عدالت نے اراکین اسمبلی کے وکلاء کو بحث کے لئے طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 18مئی تک ملتوی کر دی ۔

مزید : صفحہ آخر