پنجاب اسمبلی، سرکاری اداروں میں کرپشن پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار بحث کیلئے منظور

پنجاب اسمبلی، سرکاری اداروں میں کرپشن پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار بحث ...

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے پنجاب کے سرکاری اداروں میں کرپشن پر فافن کی رپورٹ پر ایوان میں اپوزیشن کی تحریک التوائے کار بحث کیلئے منظور کر لی گئی ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ کی تاخیر سے اسپیکر رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری اعجاز اچلانہ نے داخلہ سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرلنگ پولیس کو ختم نہیں بلکہ اس میں مزید توسیع کی جارہی ہے ،522نئی پٹرولنگ پوسٹیں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں سے 175مکمل ہو چکی ہیں جبکہ 347آئندہ مالی سال میں بنائی جائیں گی۔جب نئی پوسٹیں فنکشنل کی جاتی ہے تو ضرورت کے مطابق گاڑیاں اور عملہ بھی تعینات کیا جاتا ہے ۔ امجد علی جاوید کے ضمنی سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ لاہور شہر میں کوئی بھتہ گروپ نہیں ۔جو نجی سکیورٹی کمپنیاں معیار پر پورا نہیں اترتیں ان کے لائسنس منسوخ کردیئے جاتے ہیں اور اب تک89سکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کئے جا چکے ہیں۔آصف باجوہ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیٹرولنگ پولیس کو گاڑیوں کی چیکنگ اور ان کے چالان کرنے کا مکمل اختیار ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا پنجاب حکومت کی طرف 1122کے لئے فنڈ ریزنگ کا کبھی کوئی اشتہار نہیں دیا گیا ، جو اخبارات میں اشتہار شائع ہوا تھا وہ 1122کے ڈی جی کی طرف سے دیا گیا تھا اوراس پر پنجاب حکومت کی طرف سے ڈی جی کی باقاعدہ سرزنش کی گئی ہے۔بعد ازاں ڈاکٹر وسیم اختر کی محکمہ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ انجینئرنگ ہیلتھ کے حوالے سے ایک تحریک ایوان میں پڑی گئی جسے جواب نہ آنے پر آئندہ ہفتے تک ملتوی کردیا گیا۔ میاں محمود الرشید کی پنجاب کے سرکاری اداروں میں کرپشن پر فافن کی رپورٹ پر ایوان میں تحریک التوائے کار بحث کیلئے منظور کر لی گئی جس پر بدھ کے روز بحث کی جائے گی ۔قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید کی طرف سے نکتہ اعتراض پر سروسز ہسپتال کے سابق ایم ایس عمر حیات کی طرف سے سیکرٹری صحت کو لکھا گیا خط ایوان میں دکھایا گیا ، خط میں اعلیٰ حکومتی شخصیت کے صاحبزادے نے ڈپٹی سیکرٹری پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ سابق ایم ایس کے پاس ہسپتال میں ہونے والی نئی تعیناتیوں کے حوالے سے100افراد کی فہرست لیکر آئے جس میں ملازمت کے لئے آرڈرز تیار کرنے کے احکامات تھے ۔ سابق ایم ایس نے انکار کیا تو اس پر انہیں کہا گیا کہ اس کا آپ پر بہت برا اثر پڑے گا۔محمو دالرشید نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف سے سابق ایم ایس کے بارے میں اینٹی کرپشن کو خط لکھا گیا تھا کہ سروسز ہسپتال کے ایم ایس عمر حیات پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کی انکوائری کی جائے۔جس پر صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ خان نے کہا کہ پنجاب میں2018ء سے اب تک محکمہ پولیس اور تعلیم سمیت دیگر محکموں میں جتنی بھی بھرتیاں ہوئی ہیں ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔قائد حزب اختلاف نے جس بات کی نشاندہی کی ہے اس کی نکوائری کریں اور میری درخواست ہے کہ اس پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی جائے۔سابق ایم ایس سروسز انتہائی کرپٹ تھا اس کے بارے میں پہلے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں جس پر سپیکر نے اس معاملہ کو قائمہ کمیٹی برائے صحت کے سپرد کردیا اور15روز میں اس کی رپورٹ ایوان مین پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔سپیکر نے سرکاری کارروائی کا آغاز کیا ہی تھا کی پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شنیلہ روتھ نے کورم کی نشاندہی کردی اورکورم پورا نہ ہونے پر پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں تاہم پھر بھی کورم پورا نہ ہوا جس پر اسپیکر نے اجلاس پیر 16مئی تک کے لئے ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

لاہور (نمائندہ خصوصی ) پنجاب اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے کرپشن میں پنجاب کا پہلا نمبر آنے پر وزیراعلیٰ شہباز سریف سے جواب مانگ لیا، پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈرز کا کہنا ہے کہ کوئی وزیر یا مشیر نہیں وزیراعلیٰ ایوان میں آکر خود اس کا جواب دیں ۔ اس حوالے سے متحدہ اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجا ب کے خلاف قراردادبھی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی۔ میاں محمود الرشید، سردار شہاب الدین، سردار وقاص حسن موکل اور ڈاکٹر وسیم اختر کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف ایوان سے مسلسل غیر حاضر ہیں انکی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایوان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ قرارد اد میں فافن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرپشن میں پنجاب کا پہلا نمبر آنا باعث تشویش ہے،قرار داد میں کہا گیا کہ گندم کی خریداری میں تاخیر سے غریب کسانوں کو نقصان پہنچا، بار دانہ کے حصول میں رکاوٹ کیوں ہے، اس کا جواب وزیراعلیٰ ایوان میں آکر خود دیں۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میاں محمود الر شید نے کہا کہ کھلی منڈی میں گندم کی قیمت 1150 روپے فی من تک اداکی جارہی ہے جبکہ محکمہ خوراک 1300روپے فی من قیمت پرگندم خرید رہا ہے۔ انہوں نے کہا ابھی تک محکمہ خوراک نے کسانوں میں 25 لاکھ 20 لاکھ ہزارٹن گندم کیلئے باردانہ جاری کیا ہے جس میں سے 16 لاکھ ٹن گندم محکمہ خوراک خرید چکا ہے۔ایکسپورٹ،سرکاری پالیسیوں میں عدم استحکام اور بے یقینی کی وجہ سیفلو ر ملنگ سیکٹر اور نجی شعبہ ماضی کے برعکس رواں خریداری مہم میں نہایت کم حصہ لے رہے ہیں جس وجہ سے کھلی منڈی میں گندم کی قیمت 1150سے 1170 روپے فی من کے درمیان ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میںیہ قیمت اس سے بھی کم بتائی جارہی ہے۔ کسان کوفی ایکڑ دس کی بجائے پانچ بوری باردانہ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور کسانوں کی مشکلات کا ازالہ کرے۔

جواب طلب

مزید : صفحہ آخر