جدت اور بدعنوانی کی آڑ میں پٹواری کا کردار تقریباً ختم، عوام کمپیوٹرائزیشن سے نالاں

جدت اور بدعنوانی کی آڑ میں پٹواری کا کردار تقریباً ختم، عوام کمپیوٹرائزیشن ...

لاہور(عامر بٹ سے)کرپشن ،رشوت ستانی اور بدعنوانی کے الزامات کی آڑ میں معاشرے کے اہم کردار"پٹواری" کو کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ پولیس سے زیادہ موثر نظام کے حامل پٹواری کو ماضی میں لوگوں کے کریکٹر کا تعین، خوشی غمی میں مدد، شادی بیاہ میں صیحح لوگوں تک رسائی میں معاونت،روزنامچہ کی بنیاد پر فصلات کے ٹھیک تخمینہ حتیٰ کہ صوبائی اور حکومتی بجٹ بھی پٹواری کی رپورٹ پر تیار کئے جاتے تھے۔تھانہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران بھی کسی پیچیدہ کیس کو حل کرنے کے لئے پٹواری کی مدد حاصل کرتے تھے،سراغ رساں اور کھوجی نما"پٹواری"کو لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے سوفٹ ویئرکے چکر میں الجھا کر عوام سے دور کر دیا گیا۔جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کمپیوٹرائزڈ سسٹم بھی پٹواری کی اہمیت کم نہ کرسکے۔ اراضی مشکلات کو حل کروانے کے لئے رشوت وصولی کی نئی نئی صورتیں دیکھ کر لوگ پٹوار یوں کو یاد کرنے لگے۔تفصیلات کے مطابق جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا ہے اس میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ جہتیں پروان چڑتی رہتی ہیں لیکن کچھ چیزیں اور کردا ر وقت کے ساتھ نہیں بدلتے ہیں ،ایسا ہی ایک کردار پاکستان میں پٹواری کا ہے جس کو اب صرف کرپٹ اور مافیا سپورٹر کے الزام دے کر سائڈ لائن کر دیا گیا ہے ،قیام پاکستان کے وقت سے لے کر 80کی دہائی تک نظر دوڑائی جائے تو ہمارے سامنے پٹواری ایک تصوراتی روپ میں سامنے آتا ہے جہاں وہ لوگوں کے بچوں کی شادیوں اور رشتے کروانے میں صحیح اور ایماندار لوگوں تک رسائی دلواتا ہے ۔معاشرے کا ایک باعزت رکن سمجھے جانے والے اس کردار سے لوگ اپنا کریکٹر سرٹیفکیٹ لے کر بڑی بڑی نوکریوں کے لئے درخواستیں دیتے تھے ۔غریب اور نادار لوگوں کی مدد کے لئے حکومتی ارباب اختیار سے امداد دلوانے میں ہر ممکن مدد فراہم کرتا تھا،علاقے کے چھوٹے بڑے مسائل کے حل کے لئے پنجائت سسٹم کا ایک رکن سمجھا جاتا تھا حتی کے کسی فرد کے قتل کی صورت میں پولیس جائے وقوعہ کا نقشہ مرتب کروانے کے لئے بھی پٹواری کی خدمات حاصل کرتی تھی۔سراغررسانی،کھوجی کی طرح ملزم کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے مجرم تک پہنچنے اور اس کے بعد کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے اور ملزمان کے کردار اور کیس میں ملوث ہونے تک کے بارے میں پٹواری کی رپورٹ کو بڑی اہمیت حاصل تھی ۔ فصلوں کے لگان،آبیانہ رپورٹس،گرداوری،روزنامچہ اور کسی بھی مخصوص علاقے میں قدرتی آفت کے نتیجے میں صرف پٹواری کی رپورٹ پر انحصار کرکے چھوٹے اور بڑے بجٹ کو مرتب کیا جاتا تھا۔ صوبائی اور وفاقی بجٹ کو مرتب کرنے میں سب سے زیادہ انحصار صرف پٹواریوں کی ماہانہ اور سہ ماہی اور ششماہی رپورٹس کو دیکھ کر کیا جاتا تھا۔80 کی دہائی سے 2007تک بھی پٹواری سبزی منڈیوں اورگران فروشوں کو پکڑنے،اشیاء خوردو نوش پر سرکاری نرخوں پر عمل درآمدکروانے اور حکومتی جلسوں میں اپنی حاضری سے لے کر مختلف ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے اس کردار پر 2007کے بعد کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی تلوار لٹکا دی گئی اور عوام الناس کو یہی باور کروایا گیا پٹواری اس معاشرے کا سب سے برا اور کرپٹ کردار ہے اور اراضی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اس برے کردار کو ہمیشہ کے لئے عوام الناس سے دور کر دیا جائے گا۔لیکن موجود ہ صورتحال میں لوگ ایک بار پھر اس پٹواری کو یاد کرتے ہیں جو شائد رشوت تو لیتا ہو لیکن اس کے ساتھ عوام کی فلاح کے پچاس کام بھی کرتا تھا ۔آج کے جدید دور میں جب ہر طرف لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور پہ درپے رشوت وصولی اور اراضی سنٹرز میں سرکاری اہلکاروں کے رشوت وصولی کے واقعات سامنے آئے ہیں تو عوام کے ذہنوں میں یہ بیٹھ چکا ہے کہ عوام کو پٹواری سے نجات دلا کر کمپیوٹر کے بٹنوں کے پیچھے چھپے ہوئے پڑھے لکھے کرپٹ افراد کے سپرد کر دیا گیا ہے جہاں پیسے دے کر شائد ان کا کام تو ہو جاتا ہے لیکن وہ دکھ سکھ میں ساتھ دینے ۔لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں اپنی بے لوث خدمات پیش کرنے والے "پٹواری جیسے تصوراتی کردار" کو دیکھنے سے محروم ہو گئے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر