پاناما لیکس کی تحقیقات سے فرار کے بجائے، حکومت اور اپوزیشن متفقہ ٹی او آرز بنانے کیلئے مذاکرات شروع کرے: جماعت اسلامی

پاناما لیکس کی تحقیقات سے فرار کے بجائے، حکومت اور اپوزیشن متفقہ ٹی او آرز ...

لاہور(خبر نگار خصوصی)چیف جسٹس آف پاکستان کے حکومت کے نام خط پر غور کرنے کیلئے گزشتہ روز منصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کا ہنگامی اجلاس ہوا جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کی ۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،نائب امراء حافظ محمد ادریس ،راشد نسیم ،اسداللہ بھٹو،میاں محمد اسلم ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر ،قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ مشتاق احمد خان ،سینئر وزیر خیبر پختونخواہ عنائت اللہ خان ،وزیر زکواۃ و عشر حبیب اللہ اور وزیر خزانہ مظفر سید نے شرکت کی ۔اجلاس میں موجودہ بحران سے نکلنے کیلئے مندرجہ ذیل تین نکاتی فارمولا کی منظوری دی گئی ۔(1) حکومت اور اپوزیشن پاناما لیکس کے حوالے سے عدالتی تحقیقات کے لئے فرار کے راستے تلاش نہ کرے اور فوری طور پر متفقہ ٹی او آرز کی تیاری کیلئے مذاکرات شروع کرے ۔(2) عدالتی تحقیقات کیلئے ضروری قانون سازی کرے ۔3) ( چیف جسٹس قومی اتفاق رائے کے مطابق قومی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے عدالتی کمیشن تشکیل دیں ۔اجلاس میں 25مئی سے شروع ہونے والے کرپشن فری ٹرین مارچ کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔قبل ازیں جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بنگلا دیش میں بہتے معصوم لہو کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں نہ اٹھایا تو حسینہ واجد بھارتی دباؤ پرجلد پاکستانی فوج کے سابق جرنیلوں سمیت 163فوجیوں کی حوالگی کا مطالبہ کردے گی ۔مطیع الرحمن نظامی کی پھانسی سے پوری دنیا میں پاکستان کے وقار کو شدید دھچکا لگاہے ۔انہوں نے جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر مطیع الرحمن نظامی کی شہادت کو پورے عالم اسلام کیلئے ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اتنے بڑے سانحہ پر بھی خواب غفلت سے نہیں جاگی ۔نظامی ؒ کی پھانسی رکوانے کیلئے حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اب خواتین کی طرح آنسو بہا کر ہمدردیاں جتا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ جماعت اسلامی کا نہیں ریاست اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کا مسئلہ تھا جس پر حکومت نے مکمل طور پر غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے نظامی کی سزائے موت رکوانے کیلئے ترکی کے صدر طیب اردگان کی کوششوں کو زبر دست الفاظ میں سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ ترکی نے بنگلا دیش سے اپنا سفیر واپس بلا کر پوری اسلامی دنیا خاص طور پر پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلامی تحریک کے قائدین کو پھانسیوں پر لٹکانے والے کسی ملک سے ہمیں کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہئے ۔انہوں نے قطر ،کویت اور عمان کی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مولانا مطیع الرحمن نظامی ؒ کی پھانسی پر بنگلا دیش حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے دنیا بھر خاص طور پر بنگلا دیش اور پاکستان میں اسلامی تحریک کے کارکنوں کو صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مطیع الرحمن نظامیؒ اور ان کے ساتھی شہداء کے خون سے دونوں ممالک میں اسلامی تحریک مزید مضبوط ہوگی اور وہ وقت دور نہیں جب اس خطے میں اسلامی انقلاب کا سورج طلوع ہوگا۔

مزید : صفحہ آخر