لیجنڈز ٹرسٹ کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے گا ،گورنر سندھ

لیجنڈز ٹرسٹ کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے گا ،گورنر سندھ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ مختلف شعبوں کے نمایاں افراد کی مالی مدد اور دیکھ بھال کیلئے قائم کئے گئے لیجنڈز ٹرسٹ کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے گا تاکہ اس کے ذریعہ معاشرے کیلئے کام کرنے والے افراد کی خدمات کا مزید اعتراف کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں اس ضمن میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر برائے ثقافت شرمیلا فاروقی، لیجنڈز ٹرسٹ کے سربراہ شوکت ترین ، معروف فنکار مصطفی قریشی، دردانہ بٹ، شکیل ، جاوید شیخ، ساجد حسن ، منور سعید ، قاضی واجد نیلوفر عباسی ، عابد علی، بہروز سبزواری، ڈرامہ نویس حسینہ معین، معروف ادیب پروفیسر سحر انصاری اور گلوکار سلمان علوی ، آرٹس کونسل کے احمد شاہ، سردار یٰسین ملک اور منیر جمال بھی موجود تھے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ فنکاروں کو تین سطح پر مدد فراہم کی جارہی ہے جن میں صدر پاکستان، محکمہ ثقافت اور لیجنڈز ٹرسٹ شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ان تینوں اداروں کو مربوط اور جامع انداز میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئیے تاکہ خصوصاً ضرورت مند فنکاروں اور ادیبوں کی بروقت مدد کے ساتھ ساتھ انہیں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوسکے ۔ انہوں نے اس ضمن میں سینئر فنکارہ دردانہ بٹ کو ایک ورکنگ پیپر جلد از جلد تیار کرنے کی ہدایت کی۔ گورنر سندھ نے مشیر ثقافت شرمیلا فاروقی سے کہا کہ وہ فنکاروں کو دئیے جانے والے وظیفہ کیلئے قائم انڈوومنٹ فنڈ میں اضافے کی سمری تیار کریں تاکہ اسے خاطر خواہ حد تک بڑھایا جاسکے۔ فنکاروں کی جانب سے انہیں ہیلتھ انشورنس فراہم کئے جانے کے مطالبہ پر گورنر سندھ نے لیجنڈز ٹرسٹ کے سربراہ شوکت ترین کو معاملہ کا جائزہ لے کر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس کی فراہمی سے فنکاروں اور ادیبوں کو طبی اخراجا ت کی فکر سے نجات مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں ، ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں اور کھلاڑیوں کی خدمات کا اعتراف ہم سب کی اجتماعی ذمے داری ہے کیونکہ یہ افراد اپنی پوری زندگی اپنے شعبہ کے لئے وقف کردیتے ہیں۔ سینئر فلم اسٹار مصطفی قریشی کی جانب سے صوبہ کی سطح پر سندھ فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (سیف ڈیک) کے قیام کی تجویز پر مشیر ثقافت شرمیلا فاروقی نے بتایا کہ ان کا محکمہ اس سلسلہ میں پہلے ہی کام کررہا ہے۔ سینئر فنکاروں جاویدشیخ ، عابد علی اور ساجد حسن کی جانب سے فنکاروں کی تربیت کے اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ نئی نسل کو اداکاری، ڈائریکشن، ڈرامہ ، فلم میکنگ کی بہتر تربیت فراہم کی جاسکے ۔ سینئر فنکار قاضی واجد نے فنکاروں کو یک مشت امدادی رقم فراہم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فنکار ایک ساتھ اتنی بڑی رقم نہیں سنبھال سکتے اس لئے وہ ضائع ہوجاتی ہے یا تو انہیں ماہانہ بنیادوں پر امداد دی جائے یا ان کے کسی فیملی ممبر کو یہ رقم دی جائے۔ سینئر فنکارہ دردانہ بٹ نے کہا کہ مختلف ادارے فنکاروں کو مدد تو فراہم کرتے ہیں لیکن اسے ایک پلیٹ فارم سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فنکاروں کی بہتر خدمت ہوسکے۔ گلوکار سلمان علوی نے کہا کہ آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم سے فنکاروں کو علاج معالجہ میں مدد فراہم کی جارہی ہے۔ لیجنڈز ٹرسٹ کے سیکریٹری سید ارشاداحمد جیلانی نے بتایا کہ ٹرسٹ گورنر سندھ کی جانب سے فراہم کردہ رقم سے تشکیل دیا گیا تھا اور اس کے ذریعہ ہر ماہ کئی خاندانوں کو 25 سے 50 ہزار ماہانہ امداد دی جاتی ہے، انہیں ٹرسٹ کے دفتر نہیں آنا پڑتا بلکہ یہ رقم کوریئر کے ذریعہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ان کے گھر بھیج دی جاتی ہے۔ اجلاس میں سیکریٹری گورنر سندھ اختر غوری اور کمشنر کراچی آصف حیدر شاہ بھی موجود تھے۔

مزید : کراچی صفحہ اول