تنگی میں خسرہ کی وباء پھوٹ پڑی ،درجنوں بچے متاثر

تنگی میں خسرہ کی وباء پھوٹ پڑی ،درجنوں بچے متاثر

چارسدہ(بیورو رپورٹ ) تنگی میں خسرہ کی بیماری نے وبائی صورت اختیار کرلی ۔ روزانہ درجنوں بچوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور دیگر بنیادی مراکز صحت میں علاج معالجہ کیلئے لایا جاتا ہے جن میں زیادہ تر بچوں کو علاج کیلئے پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق تحصیل تنگی کے مختلف علاقوں گنڈھیری ،زیم ،عمرزئی ،مندنی ،ہری چند ،آبازئی سمیت دیگر دیہاتوں میں حسرے کی بیماری نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے اور روزانہ اس میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ محکمہ صحت نے چھپ سادھ لی ہے ۔ متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں حسرہ کے علاج کیلئے سہولیات موجود نہ ہونے کیوجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ بچوں کو علاج کرانے کیلئے مجبوراً پشاور کے بڑے ہسپتالوں یا نجی کلینکس لے جا نا پڑتا ہے جہاں پر ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا تا ہے ۔ دوسری جانب تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال تنگی کے چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکڑ طاہر اللہ کا کہنا ہے کہ وہ او پی ڈی میں روزانہ 25سے 30حسرہ سے متاثرہ بچوں کا معائنہ کرتے ہیں اور ہر دس بچوں میں ایک بچہ جاں بحق ہو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حسرے کے علاج کا دارومدار بچے کے صحت پر منحصر ہوتا ہے۔ صحت مند بچہ دو سے تین مہینوں میں حسرہ بیماری سے ریکور ہوتا ہے جبکہ دوسری جانب کمزور صحت کے حامل بچے کا علاج ایک سال میں ممکن ہوتا ہے۔ڈاکٹر طاہر اللہ کا کہنا تھا کہ علاقے میں حسرہ کی وبائی صورت کی اصل وجہ والدین کا اپنے بچوں کو پیدائش کے بعد ٹیکے نہ لگوانا ہوتا ہے اگر والدین اپنے بچوں کو 20ٹیکے لگوانے کا کورس مکمل کرتے تو آج یہ صورت حال نہ ہو تی ۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو انسداد حسرہ کورس کورس مکمل کرنے کیلئے ہسپتال انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں ۔ والدین نے صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کے علاج کیلئے ایمرجنسی نافذ کرنے اور ویکسنیشن کیلئے ٹیمیں بجھوانے کا پرزور مطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ اول