وزیر اعظم کے حکم کے باوجود ایم ایس نشتر ہسپتال کیخلاف تحقیقات مکمل نہ ہوسکیں

وزیر اعظم کے حکم کے باوجود ایم ایس نشتر ہسپتال کیخلاف تحقیقات مکمل نہ ہوسکیں

ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عاشق ملک کے خلاف وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے حکم کے باوجود تحقیقات (بقیہ نمبر54صفحہ12پر )

4 ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکیں زکریا کالونی یونس روڈ ملتان کے رہائشی جاوید نے وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر حکام کو ایم ایس کے خلاف درخواست دی تھی کہ برادر نسبتی سلیم کی اہلیہ زچگی کیلئے نشتر ہسپتال لے گئے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس ایم ایس کے نام مراسلہ بھی بنوایا داخلے کے بعد ایم ایس کو وہ مراسلہ دیا کہ ہیپاٹائٹس بی اوسی کا ٹیسٹ مفت کروا ردیں مگر مذکورہ ایم ایس نے ویزر اعلیٰ ہاؤس کا مراسلہ ہاتھ میں گول کر لیا کہا کہ’’ دفع ہو جاؤ ‘‘درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی کون (ن ) لیگی کارکن یا نمائندہ ایم ایس کے پاس کام کے لیے جاتا ہے تو بے عزتی کرکے نکال دیا تاہم اس درخواست پر کمشنر ملتان کو انکوائری کا حکم دیا گیا ۔ جنہوں نے انکوائری افسر مقرر کیا مگر 4 ماہ گزرنے کے باوجود انکوائری مکمل نہ ہوسکی ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر