ڈی ایس پوسٹل سروسز آفس بدعنوانیاں،تبدیل ہونیوالا اہلکار دوبارہ تعینات

ڈی ایس پوسٹل سروسز آفس بدعنوانیاں،تبدیل ہونیوالا اہلکار دوبارہ تعینات

قطب پور(نامہ نگار)ڈی ایس پوسٹل سروسز آفس میں مالی ضابطگیوں اور ناجائز اختیارات کے استعمال کا انکشاف ،چہیتے کلرک نے ڈی ایس سے ساز باز ہو کر ٹرانسفر ہونیوالے اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کروا دیا۔ڈویژنل سپریٹنڈنٹ پوسٹل سروسز آف پاکستان بہاولپور مس ہما کنول(بقیہ نمبر35صفحہ7پر )

نے ناجائز اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پوسٹ ماسٹراشرف قطب پورسمیت دیگر کو بھاری رقم لے کر بحال کر دیا۔ محمد شکیل ،پوسٹ ماسٹر عبدالحمید کلرک محمد شفیق حاصل پور ،محمد اسلم کلرک حاصل پور ،عشرت حسین کلرک لودہراں جس سے 15جعلی لائسنس برآمد ہوئے تھے کو چند دن ٹرانسفر کرنے کے بعد مبینہ طور ایک لاکھ روپے ،چوہدری اشرف سابق پوسٹ ماسٹر قطب پورسے مبینہ 60لائسنس برآمدہونے پر معطل کیا گیا لیکن بعد ازاں ڈیڑھ لاکھ لے کر بحال کر دیا گیا ۔پوسٹ ماسٹر محمد ارشد یونٹ ون بہاولپور کو کیش نہ لانے پر معطل کرکے مقدمہ درج کروا دیا گیا ۔جس سے مک مکا کا سلسلہ جاری ہے ۔مس ہما کنول نے اپنے دفتر میں دو ائیر کنڈیشنر بھی غیر قانونی طور نصب کروا لیے ۔جبکہ فیکس کے لیے لگایا گیا نمبر ان کی رہائشگاہ پر ان کے والد کے استعمال میں ہے اسی طرح متفرق بلوں کے علاوہ ٹیلی فون کا بل بھی مجموعی طور پرایک لاکھ روپے منظوری کے بغیر سرکاری خزانے سے رقم نکلوا لیاگیا ۔جبکہ بعض پوسٹ ماسٹروں کا سالہا سال سے ایک ہی جگہ تعیناتی کی ماہانہ وصولی کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔یوں ایک چیک نمبری 36834871 ما لیتی 979,965روپے کی گمشدگی بارے رپورت میں عدم دلچسپی کی چارج شیٹ میں الزامات لگائے گئے تھے۔انکوائری آفیسر میڈم فوزیہ نے ڈی جی پاکستان پوسٹ کے حکم پر انکوائری کی اور الزامات ثابت ہونے کی رپورٹ بھی مرتب کی گئی ۔سابق ڈائریکٹر جنرل مشال خان کی طرف سے 10سنگین الزامات لگا کے شو کاز جاری کیا گیا جس کی انکوائری سرد خانے کی نذر کر دی گئی جبکہ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے اہلکاروں کو ناجائز مقدمات،تبادلوں،معطلیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ڈی ایس کے چہیتے کلرک عبدالقیوم کے خلاف بھی متعدد الزامات ثابت ہوئے لیکن مذکورہ کے خلاف کوئی انکوائری نہ کروائی گئی بلکہ وہ بھی مسلسل اسی سیٹ پر براجمان ہے ۔رابطے پر مس ہما کنول نے الزامات بے بنیاد قرار دئیے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر