ابتدائی تعلیم مادری اورباقی اردو اور انگریزی میں دی جائے،عطاء الرحمن

ابتدائی تعلیم مادری اورباقی اردو اور انگریزی میں دی جائے،عطاء الرحمن

کراچی(اسٹاف رپورٹر) عالمی شہرت یافتہ سائنسداں، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق وفاقی وزیر، فیلو اوف رائل سوسائٹی، لندن اور یونیسکو سائنس لاریٹ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا ہے کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں بعد ازاں پوری تعلیم اردو اور انگریزی میں دی جائے کیونکہ 90 فیصد سائنسی لٹریچر اور کتابیں انگریزی میں آرہی ہیں اس لیے ہمارے بچوں کو اچھی انگریزی آنی چاہیے، دیکھا یہ گیا ہے کہ سائنس میں ماسٹرز کرنے والے طلبہ اے لیول کا امتحان پاس نہیں کر سکتے وجہ یہ ہے کہ انگریزی میں ان کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ وہ جمعرات 12 ۔ مئی 2016 کی شام جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت ’’سائنسی علوم کی قومی زبان میں ترویج‘‘ کے موضوع پر شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ایک مقامی ہال میں خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ انگریزی کی سائنسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنے میں اربوں ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے ایک سافٹ ویئر ڈولپ کیا ہے جو جلد ہی مارکیٹ میں آجائے گا اس کی مدد سے انگریزی کی کتاب کا اردو میں بآسانی ترجمہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی اپنے بچوں کو لازمی سکھانی چاہیے کہ یہ سائنس کی زبان ہے بلکہ وہ تو یہ کہیں گے کہ چینی زبان بھی سکھانی چاہیے کیونکہ چین بھی ایک معاشی اور سائنسی سپر طاقت بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی عربی بھی سائنس کی زبان تھی، پھر لاطینی بنی اور عربی کی طبی و سائنسی کتابوں کا لاطینی میں ترجمہ کیا گیا۔ 19 ویں صدی میں سائنس کے حوالے سے جرمن زبان کو اہمیت حاصل ہوئی اور 20 ویں صدی میں انگریزی سائنس کی زبان بن گئی اور آج تک ہے اس کی ایک بڑی وجہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے جہاں سائنس پر بہت کام ہوا ہے اور 50 سائنسی جریدے انگریزی میں امریکہ سے شائع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کی رپورٹ کے مطابق انگریزی ان ممالک میں بھی پڑھائی جا رہی ہے جہاں یہ زبان بولی نہیں جاتی، چین کی نئی نسل خوب انگریزی پڑھ اور بول رہی ہے۔ سنگاپور میں وہ شخص ٹیچر نہیں بن سکتا جس نے اے لیول پاس نہ کیا ہو۔ انجمن ترقی اردو پاکستان کی معتمد اعزازی اور معروف شاعرہ پروفیسر ڈاکٹرفاطمہ حسن نے کہا کہ سائنسی علوم کے قومی زبان میں تراجم اور اس کی ترویج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ علم کا مقصد طالب علم کو صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ جہات فکر کو روشن کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی علوم ہوں یا عمرانی علوم ان کے اظہار کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے اور یہ الفاظ اتنے ہی اہم ہوتے ہیں جتنے کہ مصور کے لیے رنگ اور برش ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اکتسابی زبان میں علم پر عبور حاصل کرنا کئی نسلوں تک ممکن نہیں ہے جبکہ مادری و قومی زبان زندگی کے ابتدائی لمحات میں ہی ہماری حیات میں داخل ہو جاتی ہے اور ہمارا تمدن و ثقافت اسی وسیلے سے ہمارے ذہن و دماغ کا حصہ بنتا ہے۔ اپنی زبان پر عبور حاصل کیے بغیر کسی دوسری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا نتیجہ صرف رٹنے رٹانے کی صورت میں نکلتا ہے جو تخلیقی عمل کے لیے کسی صورت بھی مفید نہیں ہے۔ شوریٰ ہمدرد پاکستان اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید نے متعدد بار یہ تجویز دی تھی کہ سائنسی علوم کی کتابوں کے مستند ترجمے اور سائنسی اصطلاحات کو اردو کا جامہ پہنانے کے لیے مرکزی سطح پر ایک بڑا دارالترجمہ قائم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تجویز آج بھی وزن رکھتی ہے جیساکہ پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہا ہے کہ 90 فیصد سائنسی لٹریچر انگریزی زبان میں ہے لہٰذا دارالترجمہ کے قیام کے بغیر سائنسی علوم کی اردو زبان میں ترویج کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر رضوانہ انصاری نے کہا کہ اردو کو قومی اور تعلیم کی زبان بنانا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اردو بولنے اور اردو سیکھنے میں فخر محسوس نہ کریں۔ مشکل یہی ہے کہ اردو کو کوئی اپنا نہیں رہا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کے سابق چیئرمین حق نواز اختر نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں اور ہماری قومی زبان اردو ہے جب تک یہ نعرہ ہمارے ہونٹوں پر اور یہ سوچ ہمارے دل میں نہیں ہوگی ہمیں کسی بھی میدان میں کامیابی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کا چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے تمام ملازمین کو یہی پیغام دیا کہ انہیں یہاں کوئی پنجابی، سندھی، بلوچ اور پختون نظر نہیں آتا اگر نظر آتا ہے تو صرف وہ آدمی جو محنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہالینڈ میں تین زبانیں پڑھائی جاتی ہیں اور سب پڑھ لیتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے بچوں کوتین زبانیں سیکھنے کا عادی بنانا چاہیے۔ ہما بیگ نے کہا کہ سب سے ضروری یہ ہے کہ اردو آسان ہوگی تو بچے بخوشی قبول کر لیں گے۔ کموڈور (ر) سدید انور ملک نے کہا کہ تعلیم کی زبان انگریزی ہونی چاہیے اور پہلی جماعت سے انگریزی پڑھانی چاہیے تاکہ طلبہ کو کالج تک پہنچتے پہنچتے انگریزی زبان پر پوری دسترس حاصل ہو جائے۔ ہمیں ایسی نسل پیدا کرنی چاہیے جو انگریزی بولے اب تو چینی اور فرانسیسی بھی انگریزی بول رہے ہیں جو پہلے بولنا پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ انگریزی اب ایک کمرشیل زبان ہے اور پوری دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ ہمدرد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان نے کہا کہ اردو کے علاوہ پاکستان کی کوئی اور قومی زبان یا تعلیم کی زبان نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچا جائے کسی اور زبان میں اور اظہار کسی اور زبان میں کیا جائے اس سے تخلیقی عمل جاری نہیں رہ سکتا اور تخلیقی عمل زبان کی وجہ سے رکنا نہیں چاہیے۔ بریگیڈر (ر) سید مظفر الحسن نے کہا کہ انگریزی زبان ہمارے ملک سے جاتے جاتے رک گئی یا اسے روک لیا گیا حالانکہ 1973 کے آئین میں لکھا گیا تھا کہ 15 سال بعد اردو ملک کی سرکاری زبان بنا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی زبان اور اقدار پر فخر کرنا چاہیے اور ملک کا نظام تعلیم یکساں بنانا چاہیے۔ بچوں کو انگریزی ضرور سکھائیں لیکن انہیں پڑھائیں اردو زبان میں تاکہ اوریجنلٹی پیدا ہو۔ ڈاکٹر ابوبکر شیخ نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا مقابلہ مغرب کی غالب تہذیب سے ہے جو دنیا پر حکومت کر رہی ہے ہمیں اپنی شکست تسلیم کر کے آگے بڑھنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ مغربی دنیا کو جو چیزیں حاصل ہیں ہم ان سے محروم کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سائنس کو ہم انگریزی کے بغیر اپنا نہیں سکتے۔ چین کی ترقی بھی ان چینیوں کی مرہون منت ہے جو مغرب کے تعلیم و تربیت یافتہ تھے اور جذبہ حب الوطنی کے تحت انہوں نے مغربی ممالک سے چین پہنچ کر اس کی تعمیر نو میں حصہ لیا۔ مغرب کے مدِ مقابل آنے کے لیے ہمیں شروع سے آخر تک انگریزی کو اختیار کرنا چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر نعیم قریشی نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے اردو زبان کو قومی زبان اور ذریعہ تعلیم بنایا جائے اور اساتذہ کی بہتر تربیت کا انتظام کیا جائے نیز ان کی میرٹ پر تقرری کی جائے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر