گھریلو جھگڑے پر سوتیلی ماں راستے کے تنازع پر قتل، ڈیرے پر سویا شخص پرسرار طور پر ہلاک

گھریلو جھگڑے پر سوتیلی ماں راستے کے تنازع پر قتل، ڈیرے پر سویا شخص پرسرار طور ...

بدھلہ سنت،نور پور نورنگا،خانقاہ شریف ، روجھان ( نما ئندگان)مختلف واقعات میں3افراد کا قتلبدھلہ سنتسے نامہ نگارکے مطابق چاہ ٹاہلی والا بستی اعوان موضع کھگے والا کے رہائشی محمد اظہر اعوان نے اپنی سوتیلی والدہ جسکی عمر 38 سال اور نام سمیرا بی بی تھا کو نلکے کی ہتھیاں سر میں مار کر زخمی کر دیا جسے فورانشتر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی ملزم موقع سے فرار ہو گیا تھانہ بدھلہ سنت پولیس نے بھائی غلام مصطفی سوترک کی مدعیت میں ملزم محمد اظہر اعوان،ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دیدی گئی یاد رہے کہ محمد اظہر اعوان کے والدمحمد اسلم ولد محمد خان اعوان نے دو شادیاں کی ہوئی تھیں پہلی بیوی سے 4 بچے اور دوسری سے 2بیٹے ہیں اور اظہر دوسری بیوی میں سے تھا جس نے اپنی سوتیلی ماں سمیر ا بی بی کو نلکے کی ہتھی سر میں مار کر قتل کر دیا ذرائع کے مطابق اظہر کی بیوی اور سمیرا بی بی کی آپس میں گھریلو لڑائی رہتی تھی ۔نور پور نور نگا،خانقاہ شریف سے نمائند ہ پا کستان کے مطابق نور پور نور نگا کے نواحی علاقے و اہی جان محمد میں جند وڈااور اکرم نا می افراد نے را ہ چلتے محمد اصغر اور محمد اکبر کو اس راستے پر جا نے سے منع کیا جس پر ان کے در میا ن تقرار پر جند وڈا اور اکرم جو کہ شراب کے نشے میں د ھت تھے انہو ں نے چھر یو ں کے وار کر کے محمد اصغر اور محمد اکرم کو شدید ز خمی کر د یااس واقع کی ا طلا ع چو کی نور پور نور نگاکے انچار ج محمد شبیر کو د ی گئی جو کہ ا پنی نفر ی کے ہمرا ہ مو قع پر پہنچ کر ز خمیو ں کو ا پنی پو لیس کی گا ڑ ی میں ڈا ل کر ہسپتال لے جا ر ہے تھے کہ را ستے میں ز خمو ں کی تاب نہ لا تے ہو ئے محمد ا صغر چل بسا ۔ تھا نہ مسا فر خا نہ کی پو لیس نے مقد مہ در ج کر کے ملز مو ں کی تلا ش شروع کر د ی۔روجھان سے نمائندہ پاکستان کے مطابق عمرانی قبلیے تعلق رکھنے والا شاہ محمد عمرانی اپنے ڈیرے پر رات کو سویا تھا کہ گھر سے دو کلومیٹر دو فصلوں سے صبح کے وقت اسکی لاش ملی زرائع نے بتایا ہے کہ شاہ محمد عمرانی کو رات کے وقت پراسرار طور پر قتل کردیا گیا ہے حالت اور واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ محمد عمرانی کے قتل میں ایک سے زیادہ کئی افراد نے قتل میں حصہ لیا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر