مولانا مطیع الرحمن کو بھارت کے دباؤ پر پھانسی دی گئی ،مصباح اللہ

مولانا مطیع الرحمن کو بھارت کے دباؤ پر پھانسی دی گئی ،مصباح اللہ

چارسدہ (بیورورپورٹ)جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مصباح اللہ نے کہا ہے کہ مولانا مطیع الرحمان نظامی کو بھارت کے دباؤ پرپھانسی دی گئی۔ حکمران اس سنگین معاملے پر اپنی خاموشی توڑدیں ۔ ترکی نے بنگلہ دیش سے اپنا سفیر واپس بلایا ہے جبکہ ہمارے حکمران پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں کے پھانسی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو متحدہ پاکستان بچانے کی سزا دی جا رہی ہے ۔ وہ چارسدہ میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماء مولانا مطیع الرحمان نظامی کے پھانسی کے خلاف احتجاجی ریلی سے خطاب کر رہے تھے ۔ ریلی سے جماعت اسلامی کے سیف اللہ ، ارشاد افضل ، ہارون اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔احتجاجی مظاہرین نے پاکستانی حکومت کے بے حسی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ۔مقررین نے کہا کہ مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی بھارت کے دباؤ پر دی گئی لیکن حکمران اس پر خاموش ر ہے کیونکہ موجودہ حکمران اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بھارت سے دوستی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ وزیر اعظم کے کارخانوں میں ہندوستانی لوگ ملازمتیں کر رہے ہیں ۔مقررین نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں نے مولانا مطیع الرحمن نظامی کو بچانے کے لیے آخری لمحہ تک کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور اگر حکومت اور دیگر ذمہ دار ریاستی اداروں کے بے حسی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو کوئی محب وطن سندھی اور بلوچی سندھودیش اور آزاد بلوچستان کے خلاف آواز نہیں اٹھائیگا۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا کہ حکومتی بے حسی اور غیر ذمہ داری کے تناطر میں آپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرکے بنگلہ دیشی حکومت سے سنجیدہ مذاکرات کریں ۔ مقرررین نے کہا کہ پارٹی کے مرکزی امیر سراج الحق نے وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور دیگر حکومتی ذمہ داروں پر واضح کیا تھا کہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد بھارتی دباؤ پر جماعت اسلامی کے قائدین کو پھانسیوں پر لٹکا رہی ہے مگر حکومت نے غفلت اور لا پرواہی کا مظاہرہ کیا ۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا صرف ایک ہی جرم ہے کہ انہوں نے پاکستان کو بچانے کی کوشش کی ۔مقررین نے ترک حکومت کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے بنگلہ دیشی حکومت کے غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدام کے خلاف بنگلہ دیش سے اپنا سفیر واپس بلالیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیشی حکومت سے ہر قسم سفارتی تعلقات ختم کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر