پریشان خٹک برسی ،خانہ فرہنگ ایران میں ادبی ریفرنس

پریشان خٹک برسی ،خانہ فرہنگ ایران میں ادبی ریفرنس

پشاور( پاکستان نیوز)اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام خانہ فرہنگ ایران پشاورصدرمیں پروفیسرپریشان خٹک (مرحوم )کی ساتویں برسی کے موقع پر ایک ادبی ریفرنس کاانعقادہوا۔جس میں سابق صوبائی وزیر عبدالسبحان خان مہمان خصوصی تھے اورمعروف کالم نگار ڈاکٹر محمد ہمایون ہما نے صدارت کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹرنذیر تبسمؔ اورپروفیسر نصراللہ جان وزیر مہمانان اعزاز کے حیثیت سے شریک ہوئے ۔اپنی صدارتی کلمات میں پروفیسر ڈاکٹر ہمایون ہما ؔ نے کہا کہ پروفیسر پریشان خٹک مرحوم ایک ملنسار ،انسان دوست اورہر دلعزیز علمی اورادبی شخصیت تھے ۔آپ نے علم اورادب کے میدان میں ملک وقوم کی بے مثال خدمت کی ۔انہوں نے کہا کہ پروفیسرپریشان خٹک (مرحوم )کی علمی وادبی کارنامے تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔اکادمی ادبیات پشاور کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر سید ولی خیالؔ مہمندنے پروفیسرپریشان خٹک (مرحوم )کی شاعری اورشخصیت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک علم دوست ،ادب پروراورمحب وطن شخصیت تھے جس نے قلم کے ذریعے قوم کے اصلاح کا بیڑا اٹھایا ۔ اس موقع پر اباسین یوسفزئی ،پروفیسراقبال نسیم خٹک ،پروفیسر وزیر شادان،خان محمدتنہاؔ ،شمس بونیری ایڈوکیٹ،فاروق احمد جان بابر آزادؔ ،سلیم بنگش اورڈاکٹراعجاز حسن نے بھی پروفیسرپریشان خٹک (مرحوم )کی حالت زندگی اورادبی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اورانہیں نوجوان نسل کے لئے ایک رول ماڈل قراردیا ۔تقریب میں جن شعراء نے پروفیسرپریشان خٹک (مرحوم )کو منظوم خراج عقیدت پیش کی ان میں بشریٰ فرح،عزیزاعجاز ،ڈاکٹراحمدعلی عاجزؔ ،ثمینہ قادر،بہار وزیر،الیاس تلوال،محمد جان جہانگیر،محمد عارف سنگینؔ ،فلک نیازنیازیؔ اورافغانستان سے آئے ہوئے ایک عقیدت مندشاعرمیروس چکنواری قابل ذکر ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر