قبائلی علاقوں کی ترقی میں حائل رکاوٹیں دورکی جارہی ہیں،شیخ آفتاب احمد

قبائلی علاقوں کی ترقی میں حائل رکاوٹیں دورکی جارہی ہیں،شیخ آفتاب احمد

پشاور(پاکستان نیوز) ( اے پی پی )َِوفاقی وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورشیخ آفتاب احمدنے کہاہے کہ قبائلی علاقوں کی ترقی میں حائل رکاوٹیں دورکرنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھارہے ہیں تاکہ قبائلی علاقے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گورنرہاؤس پشاورمیں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس فاٹاکی اے ڈی پی برائے2016-17سے متعلق بلایاگیاتھا جس میں قبائلی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کردہ تجاویزپرغورکیاگیا۔اے ڈی پی سے متعلق آئندہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد کیاجائے گا جس میں سیکرٹری سیفران، سیکرٹری خزانہ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹاپہلے جاری منصوبوں کی 2018سے قبل تکمیل اور نئے منصوبوں کیلئے بجٹ مختص کرینگے۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر)صفدر ، سینیٹر چودھری سعود مجید،ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹامحمداسلم کمبوہ کے علاوہ فاٹاسے منتخب سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی سمیت فاٹاسیکرٹری کے دیگراعلیٰ ھکام نے شرکت کی۔اس موقع پر سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ فاٹا سیکرٹریٹ شکیل قادرنے گزشتہ اور آنیوالے فاٹا اے ڈی پی کی نمایاں خصوصیات اورکامیابیوں کے بارے میں اجلاس کے شرکاء کوبریفنگ دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ آفتاب نے کہاکہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نظراندازہونیوالے قبائلی علاقوں کو ملک کی ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پراٹھارہی ہے بالخصوص تعلیم اورصحت کے شعبوں کا فروغ ترجیحات میں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر یہاں آئے ہیں تاکہ فاٹاکی فوری ترقی کیلئے متفقہ ترقیاتی پروگرام وضع کیاجائے انہوں نے کہاکہ ہمیں جارحانہ رویہ اپنانے سے گریز کرنا چاہیے اورترقی کیلئے قومی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھناہوگاجس سے ملک کی مجموعی ترقی پر مثبت اثرات پڑیں گے۔انہوں نے اجلاس میں بتایا کہ فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کی مدت تین سال سے کم کرکے دو سال تک کیاجارہاہے انہوں نے کہاکہ فاٹاکے بجٹ کو اس اندازہ سے مختص کیاجائے گاکہ جس سے فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اورمنصفانہ عمل درآمدکویقینی بنایاجاسکے۔شیخ آفتاب نے فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تجاویز اورشکایات کی نشاندہی کریں تاکہ انکے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکیں۔اجلاس میں سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ فاٹا شکیل قادر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ973 منصوبوں کی تکمیل کیلئے 16.765بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں654جاری اور319نئے منصوبے شامل ہیں انہوں نے کہا کہ فاٹا اے ڈی پی2016-17میں 973منصوبوں کی تکمیل کیلئے فاٹا سیکرٹریٹ کو32ملین روپے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ فاٹا کیلئے آنے والے اے ڈی پی2016-17 میں تعلیم، صحت، مواصلات اور ہائیڈل کے شعبوں کی سکیموں سے متعلق فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ نے اپنی تجاویز پیش کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر