لیبیا میں داعش اور بوکو حرام متحد،حملوں میں شدت آگئی،اقوام متحدہ کا تشویش کا اظہار

لیبیا میں داعش اور بوکو حرام متحد،حملوں میں شدت آگئی،اقوام متحدہ کا تشویش کا ...
لیبیا میں داعش اور بوکو حرام متحد،حملوں میں شدت آگئی،اقوام متحدہ کا تشویش کا اظہار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک )داعش اور بوکوحرام آپس میں مل گئے۔دو سخت گیر جماعتوں کے اتفاق سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔عالمی برادری اسے انتہائی پریشان کن صورت حال قرار دے رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بوکو حرام اور داعش کے درمیان تعلقات پر تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بوکو حرام، جس نے گذشتہ سال داعش کے ساتھ اتحاد کا عہد کیا تھا وہ مغربی اور وسطی افریقی ممالک میں ’امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘

دریں اثنا ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ لیبیا میں بوکوحرام کے جنگجوداعش کے ساتھ مل کرحملے کررہی ہیں۔

15 رکن ممالک پر مبنی سکیورٹی کونسل نے ایک بیان میں بوکو حرام اور داعش کے تعلقات پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔سکیورٹی کونسل نے نائیجیریا کے صدر محمد بحاری کی جانب سے ابوجا میں سربراہی کانفرنس کرانے کی ’اہم پیش قدمی‘ کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔

نائیجیریا میں موجود مسٹر بلنکین کا کہنا ہے کہ ا نہیں بوکوحرام کے جنگجوو¿ں کے لیبیا جانے پر تشویش ہے جہاں حالیہ دنوں داعش کے اثرات میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا: ’ہم نے دیکھا ہے کہ بوکوحرام کی رابطے کی صلاحیت بہت موثر ہو چکی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیںداعش کے تعاون سے فائدہ پہنچا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا: ’یہاں ایسے عناصر ہیں جو بتاتے ہیں کہ ان میں زیادہ تعلقات اور تعاون ہیں اور ہم اسے توجہ سے دیکھ رہیں تاکہ ہم ان کے تعلقات اور رابطوں کو منقطع کر سکیں۔‘

انہوں نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا امریکہ بوکوحرام سے لڑنے کے لیے نائیجیریا کی درخواست پر اسے جنگی طیارہ فروخت کرے گا؟

خیال رہے کہ بوکو حرام کے جنگجو نائیجیریا کی فوج کی جانب سے کی جانے والی پیش قدمی کے جواب میں شہری ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس تنظیم کی سات سالہ مسلح بغاوت کے دوران تقریباً 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 20 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی