ایان علی کی دوران قید 8مرتبہ بھائی اور وکیل سے ملاقات ہوئی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی انفارمیشن کمیشن کی رپورٹ معلومات نامکمل ہیں، درخواست گزار

ایان علی کی دوران قید 8مرتبہ بھائی اور وکیل سے ملاقات ہوئی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ ...
ایان علی کی دوران قید 8مرتبہ بھائی اور وکیل سے ملاقات ہوئی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی انفارمیشن کمیشن کی رپورٹ معلومات نامکمل ہیں، درخواست گزار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ویب ڈیسک) سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی کی طرف سے پنجاب انفارمیشن کمیشن کو بھیجی جانے والی خفیہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ماڈل ایان علی نے جوڈیشل ریمانڈ کے بعد جیل آتے ہی سپرنٹنڈنٹ جیل سے درخواست کی کہ وہ کسی سے نہیں ملنا چاہتی جس کے بعد اس کی درخواست پر اسے صرف اس کے بھائی علی ذوالفقار اور وکیل شائستہ وہاب کو اس سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

خبردار!رنگ گورا کرنے والی کوئی بھی کریم استعمال کرنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں

اخبار روزنامہ جنگ کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے رپورٹ میں بتایا کہ خواتین کے وارڈ میں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگایا گیا اس لئے ایان علی کی دوران قید کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں۔ ایان علی کو جیل میں سی کلاس دی گئی اور پاکستان پرزن رولز 1978ءکے مطابق جو سہولیات اس کلاس کے قیدیوں کو ملنی چاہئیں دی گئی تھیں۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق ایان علی کی دوران قید 8 مرتبہ اپنے بھائی اور وکیل سے ملاقات ہوئی۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن کو شکایت کرنے والے لاہور کے رہائشی اشتیاق احمد گوہر ایڈووکیٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی طرف سے اس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل حقائق کو چھپا رہے ہیں اور اصل کہانی تانے سے گریزاں ہیں۔

مزید : لاہور