نیٹ بلیک میلر سے خوفزدہ لیڈی ڈاکٹر ز پیشہ چھوڑ نے پر مجبور

نیٹ بلیک میلر سے خوفزدہ لیڈی ڈاکٹر ز پیشہ چھوڑ نے پر مجبور
نیٹ بلیک میلر سے خوفزدہ لیڈی ڈاکٹر ز پیشہ چھوڑ نے پر مجبور

  

لاہور (ویب ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت II کے جج محمد اعظم نے فیس بک اور انٹرنیٹ کے ذریعے 200 سے زائد خواتین ڈاکٹروں کو بلیک میل کرنے کے مقدمے میں گرفتار ملزم عبدالوہاب کے خلاف استغاثہ کے مزید گواہوں کو شہادتوں کے لیے 18 مئی کو طلب کر لیا ہے ۔ پولیس نے ملزم عبدالواہاب کو ہتھکڑیاں لگا کر سخت سکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا۔ دوران سماعت ملزم کے خلاف استغاثہ کے 8 نجی گواہان اور وہ پولیس اہلکاروں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جن پر عدالت میں ملزم کے وکیل نے جرح بھی کی۔ ملزم کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ پولیس نے میڈیا کے دباﺅ پر اس کے خلاف درج مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات عائد کر رکھی ہیں۔

پاکستانیوں کے لئے بچت کا شاندار موقع، ایسی ویب سائٹ آگئی کہ آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ڈاکٹر سلمان کاظمی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عبدالواہاب علوی نے فیس بک اور انٹرنیٹ کے ذریعے خواتین ڈاکٹروں کو ہراساں کیا جس کے باعث درجنوں خواتین ڈاکٹرز پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ پولیس کے دو گواہان نے اپنا بیان عدالت کے روبرو قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ ملزم کی نازیبا حرکات کی بناءپر کئی خواتین ڈاکٹرز کے رشتے ٹوٹ گئے جبکہ ڈاکٹرز کو بلیک میل کے بھتہ بھی وصول کرتا رہا۔ عدالت نے کیس کی مزید کارروائی 18 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے مزید گواہوں کو شہادتوں کیلئے طلب کر لیا۔

مزید : لاہور