غیرت کے نام پر بہن قتل، کمسن بچی سمیت تین لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار

غیرت کے نام پر بہن قتل، کمسن بچی سمیت تین لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار
غیرت کے نام پر بہن قتل، کمسن بچی سمیت تین لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قصور (ویب ڈیسک) قصور اور نواح میں پھر ظلم کی انتہا ، ہو گئی جواں سالہ لڑکی کے ٹکڑے کر دیئے ، حو ا کی تین بیٹیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا گیا ،بتایا گیا ہے کہ پرانی منڈی کے ندیم وغیرہ نے علاقہ کی ایک سیدھی سادھی لڑکی (ق)کوموبائل فون پر دوستی ہونے کے بعد شادی کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی تھی اور وقوعہ کے روز ملزم نے اسے فون کیا کہ وہ کاشف چوک پہنچ جائے محبت کی شادی ہونے کی خوشی میں (ق) مذکورہ مقام پر پہنچ گئی تو وہاں پر کار میں موجود ندیم اور اس کے ساتھیوں نے لڑکی کو قصور جا کر نکاح پڑھانے کا جھانسہ دیکر کار میں بٹھا لیا اور کھڈیاں آکر ایک ویران مکان میں لیجا کر لڑکی کو زبردستی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے نشے میں دھت ملزمان نے چیختی چلاتی زخمی لڑکی کو پھر سے کار میں ڈالا اور ایک دوسرے مقام پر لیجا کر درندگی کا نشانہ بنایا کئی روز بعد قصور چونیاں روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پاکستانیوں کے لئے بچت کا شاندار موقع، ایسی ویب سائٹ آگئی کہ آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

دریں اثنا اخبار روزنامہ خبریں کے مطابق تھانہ بی ڈویژن کے اللہ دتہ نے بتایا کہ ملزم آصف وغیرہ نے گھر کی طرف آتے ہوئے اس کی بیٹی(ف) کو اسلحہ کی نوک پر اغوا کر لیا اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے ویرانے میں پھینکا اور فرار ہو گئے جبکہ انور کالونی کی بچی مسکان دوکان سے گھر کا سامان لینے جارہی تھی کہ ملزمان ذوالفقار علی وغیرہ نے مذکورہ بچی کو اغوا کر لیا اور ایک ویران مکان میں لیجا کر زیادتی کا نشانہ بنایا بچی کی حالت جب انتہائی نازک ہو گئی تو ملزمان اسے خون میں لت پت چھوڑ کرفرار ہو گئے، نرمل کے نوید احمد نے محض اس شک پر کلہاڑی کے وار کر کے اپنی بہن اقراءکے ٹکڑے کر دیئے کہ نوید بے گناہ اور معصوم بہن کے کردار پر شبہ تھا انسانی حقوق کی تنظیموں اور نمائندہ شخصیات نے ضلع بھر میں بچوں اور بچیوں کی تذلیل اغوااور انہیں درندگی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ قتل کر دینے کے یکے بعد دیگرے ہونے والے درجنوں واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے اپیل کی ہے کہ ضلع قصور میں امن عامہ کی صورت انتہائی مخدوش ہے جبکہ معصوم بچیوں اور بچوں کو درندگی کا نشانہ بنانا اور قتل کرنا اس قدر عام ہو چکا ہے کہ شریف شہری اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے سے بھی گھبرانے لگے ہیں انسانی حقوق کی مرکزی تنظیم کے صوبائی صدر میجر (ر) جیب الرحمن ایڈووکیٹ، چوہدری محمد صادق ، چوہدری امجد علی ایڈووکیٹ اور دیگر تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ پولیس اور دیگر ادارے اس سلسلہ میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں لہذا شہریوں کے عزت و مال کی حفاظت کیلئے ضلع قصور کو رینجرز کے حوالے کیا جائے۔

راتوں رات جلد میں نکھار لانے والی کریمیں کتنی خطرناک ہیں، جانئے

مزید : قصور