حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدہ طے پاگیا:افغان حکومت نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدہ طے پاگیا:افغان حکومت نے بڑی کامیابی حاصل کر لی
حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدہ طے پاگیا:افغان حکومت نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغان حکومت کی اعلیٰ کونسل کے نائب سربراہ عطاء الرحمان سلیم نے کہاہے کہ افغان حکومت ایک مسلح عسکریت پسند گروپ حزب اسلامی کے ساتھ بہت جلد امن معاہدہ کرنے والی ہے۔ یہ معاہدہ افغانستان میں گزشتہ 15 برس سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

کابل حکومت کی اعلیٰ امن کونسل کے نائب سربراہ عطاء الرحمان سلیم نے’’ غیرملکی میڈیا‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ حزب اسلامی کے مسلح دھڑے کے ساتھ معاہدہ کل( اتوارکو) مکمل ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے گزشتہ دو برس سے بات چیت جاری تھی۔حزب اسلامی کے ایک سینیئر نمائندے  امین کریم کا بھی یہی کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ افغان صدر اشرف غنی حتمی معاہدے کی منظوری اتوار کے روز دے دیں گے۔اس طرح کا معاہدہ صدر اشرف  غنی کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے جو کابل حکومت کے خلاف لڑنے والے عسکریت پسندوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے حامی ہیں۔ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششیں جو پاکستانی حکومت کے تعاون کے ساتھ کی جا رہی ہیں ابھی تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران عسکریت پسند گروپ حزب اسلامی بہت زیادہ سرگرم نہیں رہا اور افغانستان میں سیاسی حوالے سے بھی اس گروپ کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہے ،  تاہم افغان حکومت کے ساتھ اس کا معاہدہ ایک ایسی مثال بن سکتا ہے جو طالبان کے ساتھ مستقبل کے کسی معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق یہ گروپ کابل حکومت کے خلاف اپنی جنگ ختم کر دے گا، ملکی آئین کا احترام کرے گا اور دیگر تمام مسلح اور حکومت مخالف گروپوں کے ساتھ تعلقات ختم کر دے گا۔

دوسری طرف مغربی میڈیا افغان حکومت اور حزب اسلامی کے سریم کمانڈر گلبدین حکمت یار کے درمیان ہونے والے مبینہ معاہدے پر کڑی تنقید کر رہا ہے ،مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ گلبدین حکمت یار پر بڑے سنگین الزامات ہیں ،افغان حکومت کی جانب سے گلبدین حکمت یار کو دی جانے والی ’’عام معافی ‘‘ کو نظر انداز اور فراموش نہیں کیا جا سکتا ،ان کے جرائم قابل نفرت ہیں،حزب اسلامی سے امن معاہدہ ریاست کی کمزوری ظاہر کرتا ہے ۔

واضح رہے کہ حزب اسلامی کی سربراہی گلبدین حکمت یار کے پاس ہے ، ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں ہیں تاہم امین کریم کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں ہی کسی نامعلوم مقام پر ہیں۔25نکاتی معاہدے کے مطابق وہ بہت جلد کابل واپس لوٹیں گے جہاں وہ اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کریں گے اور وہیں رہائش اختیار کریں گے۔60 سال سے زائد عمر کے گل بدین حکمت یار کو امریکا نے ’’عالمی دہشت گرد‘‘قرار دے رکھا ہے ،جبکہ اقوام متحدہ نے انہیں اسامہ بن لادن کے ساتھ بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا۔ متوقع معاہدے کے مطابق افغان حکومت ان کا نام دہشت گردوں کی عالمی فہرست سے خارج کرانے اور ان کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کے لیے کوشش کرے گی۔

مزید : بین الاقوامی