جس کام کا سعودی عرب کو سب سے زیادہ خوف تھا، وہ شروع ہوگیا

جس کام کا سعودی عرب کو سب سے زیادہ خوف تھا، وہ شروع ہوگیا
 جس کام کا سعودی عرب کو سب سے زیادہ خوف تھا، وہ شروع ہوگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ میں سعودی عرب کے نائن الیون کے سانحے میں ملوث ہونے پر بحث جاری تھی اور سانحے کی تحقیقات کے خفیہ رکھے گئے 28صفحات منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، جن میں مبینہ طور پر سعودی عرب کو اس واقعے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔سعودی عرب کو ایک خدشہ لاحق تھا کہ امریکہ اس سانحے میں سعودی شہریوں کے کردار کے بارے میں کی گئی تحقیقات کی تفصیلات منظر عام پر لا سکتا ہے، اور یہ کام اب شروع ہو گیا ہے۔

بڑی خبر آگئی، خلیجی ممالک میں نوکری کرنے والے غیر ملکی اپنی مرضی سے کمپنی اور ملک باآسانی تبدیل کرسکیں گے

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق منظر عام پر آنے والی کچھ ’خفیہ فائلز‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نائن الیون کے سانحے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے اراکین نے سابق سعودی سفارتکار32سالہ فہد الضمیری (Fahad Al-Thumairy)سے تفتیش کی۔ فہد الضمیری کو سعودی خفیہ ایجنسی کے امریکہ میں کام کرنے والے نیٹ ورک کا سربراہ بتایا گیا ہے، جس کے متعلق اس امریکی تحقیقاتی کمیشن کے اراکین کا ماننا تھا کہ اس نے نائن الیون کے ہائی جیکرز میں سے کم از کم 2کی معاونت کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ”فہد الضمیری نے آغاز میں بڑے اطمینان کے ساتھ امریکی تفتیش کاروں کے سوالات کے جوابات دیئے مگر جب تفتیش کا عمل جھگڑے کی صورتحال اختیار کر گیا تو وہ پریشانی کا شکار ہو گئے اور بے اطمینانی کی حالت میں کرسی پر ادھر ادھر حرکت کرتے رہے، کبھی بازو کھول دیتے اور کبھی باندھ لیتے۔اس دوران تفتیش کار ان پر دباﺅ ڈال رہے تھے اور ان کا دو ہائی جیکروں کے ساتھ تعلق ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔فہد الضمیری تفتیش کے دوران مسلسل ہائی جیکروں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کرتے رہے اور غصے کا اظہار کرتے رہے مگر جب تفتیشی ٹیم نے ان کے سامنے ثبوت رکھے تو ان کی آواز کپکپانے لگی۔ ٹیم نے ان کی 21فون کالز کا ریکارڈ انہیں دکھایا تھا جو انہوں نے ہائی جیکروں کو کی تھیں۔“

پاکستانیوں کے لئے بچت کا شاندار موقع، ایسی ویب سائٹ آگئی کہ آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

کمیشن کے ایک رکن کا بعدازاں کہنا تھا کہ ”یہ بات بالکل واضح ہے کہ فہد الضمیری جھوٹ بول رہا تھا اور یہ بھی بالکل واضح ہے کہ یہ خطرناک آدمی ہے۔“واضح رہے کہ فہد الضمیری پہلے سعودی عہدیدار تھے جن سے اس معاملے پر تفتیش کی گئی۔

مزید : بین الاقوامی