’ان پاکستانیوں نے ہمارے اربوں روپے لوٹ لئے، کہیں کا نہ چھوڑا‘ بنگلہ دیش کی نئی دہائی

’ان پاکستانیوں نے ہمارے اربوں روپے لوٹ لئے، کہیں کا نہ چھوڑا‘ بنگلہ دیش کی ...
’ان پاکستانیوں نے ہمارے اربوں روپے لوٹ لئے، کہیں کا نہ چھوڑا‘ بنگلہ دیش کی نئی دہائی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) چند ہفتے قبل ہم نے آپ کو خبر دی تھی جس کے مطابق ہیکرز نے بنگلہ دیش کے مرکزی بینک سے 8کروڑ 10لاکھ ڈالر(تقریباً 8ارب 10کروڑ روپے)چرا لیے تھے۔ بنگلہ دیشی حکومت ایف بی آئی کے ساتھ مل کر اس واردات کی تحقیقات کر رہی تھی۔ اب بنگلہ دیش نے اس حوالے سے ایک نئی کہانی گھڑ لی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس واردات میں پاکستانی ہیکرز بھی ملوث تھے، جنہوں نے بنگلہ دیش کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔

پاکستانیوں کے لئے بچت کا شاندار موقع، ایسی ویب سائٹ آگئی کہ آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

ویب سائٹ پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ہیکرز کے تین گروہوں کے اس واردات میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں جن میں سے دو گروپوں کا تعلق دو مختلف ملکوں سے ہے۔ اس میں ملوث تیسرے گروپ کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی، جس کے متعلق تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ وہ اس واردات کی منصوبہ بندی کرنے اور اسے انجام تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ممکنہ طور پر ان دونوں گروپوں کو کسی اندرونی(بنگلہ دیشی) فرد یا گروپ کی مددبھی حاصل ہو سکتی ہے۔بنگلہ دیش نے اس واردات کی تحقیقات کے لیے فرانزک سکیورٹی فرم فائر آئی(FireEye) کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں جس نے ہیکرز کے فنگرپرنٹس حاصل کیے ہیں۔ فنگرپرنٹس کے تجزیئے کے بعد فرم کی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ان دو گروپوں میں سے ایک کا تعلق پاکستان اور دوسرے کا شمالی کوریا سے ہے۔تیسرے گروپ کی شناخت کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی