آف شور کمپنیاں بنانا جرم نہیں ، قوانین پر عمل درآمد کئے بغیر کالے دھن کی ترسیل نہیں روکی جاسکتی :ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی

آف شور کمپنیاں بنانا جرم نہیں ، قوانین پر عمل درآمد کئے بغیر کالے دھن کی ...
آف شور کمپنیاں بنانا جرم نہیں ، قوانین پر عمل درآمد کئے بغیر کالے دھن کی ترسیل نہیں روکی جاسکتی :ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جسٹس ریٹائرڈ چودھری شاہد سعید نے کہا ہے کہ قانونی طور پر پیسہ بیرون ملک منتقل کرنا اور آف شور کمپنیاں بنانا جرم نہیں ،غیر قانونی طور پر بیرون ملک پیسے کی منتقلی کی روک تھام کے لئے سٹیٹ بینک اور متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کریں۔

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی لاہور میں اینٹی منی لانڈرنگ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں زیر تربیت ججز سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ چودھری شاہد سعید نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر عمل درآمد کرائے بغیر ٹیکس چوری اور کالے دھن کی بیرون ملک ترسیل نہیں روکی جاسکتی ۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ وائٹ کالر کرائم ہے قوانین میں موجود سقم دور کر کے ملکی سرمائے کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

قانون دان حامد خان نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جن اداروں کے پاس منی لانڈرنگ روکنے کا اختیار ہے انہیں چاہئیے کہ اپنا موثر کردار ادا کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف آئی اے کے افسر مقصود نسیم نے کہا کہ مالیاتی ادارے،پراپرٹی ڈیلرز اورکاروباری افراد منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں،دنیا بھر میں منی لانڈرنگ ہو رہی ہے اگر بینک اپنے کسٹمرز  کی شناخت کے عمل کو یقینی بنائے تو اس وبا کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ 

مزید : لاہور