ملک کے معروف ادارے IBA میں پڑھنے والا طالبعلم سعدعزیز دہشتگرد کیسے بن گیا اور کس نے اسے سبین محمود کے قتل کیلئے تیار کیا؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات منظر عام پر

ملک کے معروف ادارے IBA میں پڑھنے والا طالبعلم سعدعزیز دہشتگرد کیسے بن گیا اور ...
ملک کے معروف ادارے IBA میں پڑھنے والا طالبعلم سعدعزیز دہشتگرد کیسے بن گیا اور کس نے اسے سبین محمود کے قتل کیلئے تیار کیا؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات منظر عام پر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ صفورہ گوٹھ اور سماجی کارکن سبین محمود کے اندوہناک قتل میں ملوث مجرموں کے سیاہ چہرے بالآخر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ان سفاک قاتلوں میں سعد عزیز نامی دہشت گرد بھی شامل ہے، جو پسماندہ اور جاہل طبقے سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے برعکس ملک کے نامور ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کا تعلیم یافتہ ہے۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) کی تحقیق میں سعد عزیز نے لرزہ خیز انکشافات کئے ہیں، جن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین علمی اداروں میں زیر تعلیم نوجوان بھی انتہا پسندی کو اپنا طرز زندگی اور انسانیت کے قتل کو اپنا نصب العین بنا سکتے ہیں۔

اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی کی تحقیقات میںا نکشاف ہوا ہے کہ سعد عزیز نے 2005ءتک گلشن اقبال کے بیکن ہاﺅس سکول میں او لیول تک تعلیم حاصل کی، اور بدقسمتی دیکھئے کہ بعد ازاں اسی سکول کی دو برانچوں پر حملے بھی کئے۔ اس شخص نے اے لیول کی تعلیم لائسیم کلفٹن میں حاصل کی۔ وہ 2009ءمیں یونی لیور کمپنی میں انٹرن شپ کے لئے گیا، اور وہیں اس کی ملاقات علی رحمن نامی شخص سے ہوئی جس نے اسے شدت پسندی کی طرف مائل کیا۔ 2011ءمیں وہ دہشت گردی کی تربیت کے لئے میرام شاہ بھی گیا۔

رپورٹ کے مطابق علی رحمن نے اس کی ملاقات حارث نامی شخص سے کروائی، جو جماعت اسلامی سے متعلق رہا تھا اور بعدازاں القاعدہ میں شامل ہوگیا۔ سعد عزیز نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ جب 2014ءمیں داعش نے عراق میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تو وہ اور اس کے ساتھی طاہر منہاس اور حیدر عباسی بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے داعش میں شمولیت کی کوشش بھی کی لیکن ناکام ہوگئے۔

سعد عزیز نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ عبداللہ یوسف نامی ایک شدت پسند نے انہیں حوثی باغیوں کی ایک ویڈیو دکھائی، جو یمن میں مبینہ طور پر خواتین اور بچوں کو قتل کررہے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہی انہوں نے صفوراگوٹھ میں بس میں سوار معصوم افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ اس کا کہنا تھا کہ طاہر منہاس، عبداللہ منصوری اور عمر عرف حفیظ نے بس میں سوار لوگوں پر گولیاں برسانا شروع کیں جبکہ وہ کیمرے کے ساتھ اس بھیانک مناظر کی ویڈیو بناتا رہا۔ اس نے بس کے ڈرائیور کو ہلاک کرنے کا اعتراف بھی کیا۔ اس دہشت گرد نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سماجی کارکن سبین محمود کو بھی قتل کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سبین محمود لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف بول رہی تھیں، لہٰذا انہیں قتل کر دیا۔ اس سفاک دہشت گرد کو بالآخر انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کی ایک ٹیم نے گرفتارکر لیا، ورنہ نجانے یہ اور کتنے خاندانوں کو برباد کرتا۔

مزید : کراچی