مستونگ میں خونریز دہشت گردی

مستونگ میں خونریز دہشت گردی

  

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملہ کر کے26افراد کو شہید اور40 کو زخمی کر دیا گیا۔ مولانا حیدری طالبات کے ایک مدرسے کی تقریب تقسیمِ اسناد و انعامات میں شرکت اور نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایک قافلے کی صورت میں کوئٹہ کراچی نیشنل ہائی وے پر پہنچے تھے کہ ایک خود کش بمبار نے اپنی موٹر سائیکل اُن کی گاڑی سے ٹکرا دی، یہ حادثہ مستونگ کے علاقے کلی غلام پڑینز میں پیش آیا، شہید ہونے والوں میں مولانا حیدری کے ڈائریکٹر سٹاف اور ڈرائیور سمیت 26 افراد شامل ہیں۔ مولانا حیدری خیریت سے ہیں تاہم اُن کے پورے جسم پر زخم آئے ہیں۔داعش نے اِس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔جمعیت علمائے اسلام نے اتوار کو یوم احتجاج کا اعلان کیا ہے۔گزشتہ نو ماہ کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کا یہ چوتھا بڑا واقعہ ہے، صوبے میں ہونے والے دہشت گردی کے ان بڑے واقعات میں232افراد جاں بحق اور339 زخمی ہو چکے ہیں، صوبے میں دہشت گردی کے واقعات عموماً بڑے خونریز ہوتے ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دہشت گرد بڑی عرق ریزی سے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ واقعات صوبے کے دارالحکومت میں بھی ہو چکے اور دور دراز مقامات پربھی، سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا جا چکا اور پولیس کے تربیتی اداروں کو بھی، اِس لئے کہا جا سکتا ہے کہ مُلک کے سب سے بڑے رقبے پر پھیلا ہوا کم ترین آبادی والا صوبہ بڑی حد تک دہشت گردوں کی زد میں ہے اور جو بھی واردات ہو رہی ہے دِل دہلا دینے والی ہو رہی ہے، مستقبل میں ایسی وارداتوں سے بچنے کے لئے بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور حکومت کے ذمہ داروں اور سیکیورٹی حکام کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا اور سوچ بچار کے بعد کوئی ایسا منصوبہ بنانا ہو گا جسے روبعمل لا کر ایسے حادثات و سانحات سے بچا جا سکے۔

جمعیت علمائے اسلام مذہبی سیاسی جماعت ہے اور جمہوریت پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ اس وقت یہ جماعت وفاق اور بلوچستان میں حکومت کی حلیف ہے، تمام سرکاری عہدے جو جے یو آئی کے ارکان کے حصے میں آئے ہیں وہ اس جماعت کی جمہوری جدوجہد کا ثمر ہے۔ جے یو آئی نے ابھی تھوڑا عرصہ پہلے جماعت کے قیام کی ڈیڑھ سو سالہ تقریب بڑے تزک و احتشام سے منائی ہے جس میں امام کعبہ سمیت دُنیا بھر سے ممتاز شخصیات شریک ہوئیں یہ پُرشکوہ تقریب جمعیت کی سیاسی طاقت کا بھرپور اظہار تھا اور کہا جا سکتا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں یہ جماعت اپنے طاقت کے روایتی گڑھ سے باہر نکل کر بھی کامیابی کا پھریرا لہرائے گی،جمعیت اِس سے پہلے بھی صوبہ سرحد میں شریک حکومت رہ چکی ہے اور آئندہ بھی بہتر حکمتِ عملی کے ذریعے ایسا ہونا ممکن ہے، اِس لئے سیاسی میدان میں جماعت کے حریف تو بہت سارے لوگ موجود ہیں،لیکن اس کے ایک رہنما کو دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنایا گیا اور اس کے پس پردہ کیا مقاصد ہو سکتے ہیں اس کا تفصیلی جائزہ لے کر ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔مُلک مجموعی طور پر دہشت گردی کی جس لہر کا شکار ہے کیا یہ حملہ بھی اُسی کا شاخسانہ ہے یا یہ اُن سے الگ کوئی واردات ہے،کیونکہ ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ دہشت گردوں کے گروہ پاکستان کے پڑوس افغانستان میں متحد ہو رہے ہیں اور داعش اُنہیں منظم کر رہی ہے شام اور عراق میں اس تنظیم کو پسپائی کا سامنا ہے اور اس سے بہت سے وہ علاقے دونوں ممالک کی حکومتوں نے واپس لے لئے ہیں جو طویل عرصے سے اُن کے زیر قبضہ چلے آ رہے تھے اس کے بعد افغانستان میں اُن کے خود کومنظم کرنے کی اطلاعات ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ جس خود کش بمبار نے مستونگ میں مولانا حیدری کے قافلے کو نشانہ بنایا ہے اس کے ڈانڈے بھی افغانستان سے ملتے ہوں یا وہیں سے تربیت پا کر وہ پاکستان آیا ہو۔تاہم حتمی نتیجے پر ٹھوس تحقیقات کے بعد ہی پہنچا جا سکتا ہے۔

اِس خطے میں داعش کی سرگرمیوں کی اطلاعات کے بعد ہی راولپنڈی میں پاک افغان امریکہ، سہ فریقی فوجی حکام کا اجلاس ہوا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپنے اپنے علاقوں میں داعش کے خلاف آپریشنز کئے جائیں گے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ سمیت پاکستان اور افغانستان کو داعش کی سرگرمیوں پر تشویش ہے، دونوں ممالک میں سانحہ چمن جیسے واقعات سے بچنے کے لئے بارڈر مینجمنٹ، سرحد پر فائرنگ جیسے واقعات کی روک تھام، باہمی احترام اعتماد و تعاون کی فضا کو فروغ دینے اور عسکری روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔داعش کی سرگرمیوں کے آگے بند باندھنے اور اسے شام و عراق جیسی پیش قدمی سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر سرحد پر ایسا مستحکم مینجمنٹ سسٹم بنائیں کہ تخریب کاروں اور دہشت گردوں کی آمدورفت ممکن نہ ہو، افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج بھی موجود ہیں اُن سے بھی اس سلسلے میں تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس وقت امریکی انتظامیہ نے داعش سے نپٹنے کی حکمتِ عملی کو اپنی پالیسیوں کا محور بنا لیا ہے اور ہر قیمت پر اس کی کارروائیوں کا راستہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکہ اس سلسلے میں عالمی حمایت کے حصول کا بھی خواہاں ہے، خود افغانستان میں امن و استحکام کا انحصار بھی اِس بات پر ہے کہ داعش کو وہاں قدم جمانے کا موقعہ نہ ملے ورنہ اب تک جو کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں وہ ضائع چلی جائیں گی۔یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ داعش کا خطرہ حقیقی ہے یا پہلے سے موجود دہشت گردوں نے اپنی پسپائی کو چھپانے کے لئے اس کا نام استعمال کر لیا ہے،کہا جاتا ہے کہ بلوچستان اور بعض کالعدم تنظیمیں داعش کے ساتھ رابطے میں ہیں، عین ممکن ہے پہلے سے سرگرم کسی تنظیم نے داعش کا نام استعمال کر لیا ہو،تاہم یہ جس کسی کی بھی کارروائی ہے ایسی کارروائیوں کی روک تھام کے لئے منصوبہ بندی تو ضروری ہے اور اِس کے لئے کاؤنٹر ٹیررازم کے اداروں کو جدید ٹیکنیک استعمال کرنی ہو گی، فرسودہ طریقوں سے ان تنظیموں کے ساتھ نہیں نپٹا جا سکتا جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور دہشت گردی کے لئے منصوبہ بندی کے بعد ہدف کا انتخاب کرتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -