پنجاب میں گیس پاور پلانٹ لگانے کی منظوری

پنجاب میں گیس پاور پلانٹ لگانے کی منظوری

  

پنجاب کابینہ نے اپنے اجلاس میں 1200میگاواٹ کا گیس پاور پلانٹ لگانے کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال 5500میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی جبکہ ساہیوال میں لگایا جانے والے کول پاور پراجیکٹ نیا ریکارڈ قائم کرے گا۔ توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے حکومت کی طرف سے مربوط کو ششیں کی جارہی ہیں۔ توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے ماضی میں بھی حکمرانوں کی جانب سے کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن بہتر منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے تھے۔ سابقہ حکومتوں کے منصوبوں کے حوالے سے کمیشن وصول کرنے کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے۔ اس سلسلے میں نندی پور پاور پراجیکٹ کے معاملے میں بے تدبیری سے منصوبے کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور قومی خزانے کو 113ارب کا نقصان ہوا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے کرائے کا بجلی گھر منگوایا گیا، جو ایک سال تک سمندر میں کھڑا رہا۔ جس سے بجلی تو حاصل نہ ہوسکی البتہ اربوں روپے کی ادائیگی کی جاتی رہی جبکہ راجہ پرویز اشرف ’’راجہ رینٹل ‘‘ مشہور ہوگئے۔ اس چیلنج کو موجودہ حکمرانوں نے قبول کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کررکھا ہے اور وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب حکومت بھی مختلف منصوبوں سے توانائی کا بحران ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں لیسکو چیف نے انکشاف کیا ہے کہ صرف لائن لاسز کی مد میں حکومت کو سالانہ سترہ کھرب روپے کا نقصان کرنا پڑرہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی کے علاوہ اب بھی لائن لاسز کو روکنے کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ اس حوالے سے حکومتی ناکامی واضح ہے۔ پنجاب حکومت نے گیس پاور پلانٹ لگانے کے منصوبے سے توانائی کے بحران میں کمی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم کیا ہے، اس سے پہلے پنجاب حکومت کی طرف سے چولستان (بہاولپور کا نواحی صحرا) میں قائد اعظم سولر انرجی پارک بنایا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ بتایا جاتا رہا، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود اس منصوبے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے۔پنجاب میں 1200میگاواٹ کے منصوبے کی منظوری بہت اچھا فیصلہ ہے لیکن گیس سے بجلی حاصل کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن میں رکھی جائے کہ عوام کو سستی بجلی ملنی چاہئے۔ حکومت سستی بجلی کے لئے قومی خزانے پر سبسڈی کا بوجھ بہت کم ڈالے تو فائدہ ہوگا ورنہ مہنگی بجلی آگے چل کر مسئلہ بنی رہے گی۔

تمباکونوشی سے اموات!

عالمی سطح پر کئے گئے ایک سروے کے مطابق تمباکو نوشی کے باعث پوری دُنیا میں ہر سال چھ لاکھ افراد موت سے ہمکنار ہوتے ہیں ،پاکستان میں یہ تعداد ایک لاکھ سالانہ ہے جو بہت تشویشناک ہے۔ہمارے مُلک میں دوسری وجوہات کی بنا پر بھی اموات ہوتی ہیں۔زچہ بچہ کے حوالے سے بھی اعداد و شمار تشویشناک ہیں، تاہم اب تمباکو نوشی کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد بھی فکر مند کرتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی کینسر اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بننے کے علاوہ گلے کے امراض بھی پیدا کرتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ براہِ راست تمباکو پینا اپنی جگہ، تمباکو نہ پینے والوں کے قریب تمباکو نوشی ان کے لئے زیادہ نقصان دہ ہے اور پرہیز ضروری ہے۔تمباکو نوشی کے انہی مضر اثرات کے باعث پوری دُنیا میں تمباکو نوشی ترک کرنے کی مہم جاری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو عوامی مقامات،دفاتر اور کھلی جگہ میں بھی تمباکو پینے پر پابندی ہے،جبکہ سفر سے متعلق ہر پبلک سواری میں اس کی ممانعت ہے، اس کے علاوہ تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے مہم بھی جاری رہتی ہے۔پاکستان میں اموات کا تناسب زیادہ ہونے کے باوجود یہاں تمباکو نوشی پر پابندی ترقی یافتہ ممالک کے مطابق نہیں،یہاں ریسٹورنٹس، دفاتر اور کاروباری مراکز میں تمباکو نوشی عام ہوتی ہے، حتیٰ کہ تفریحی مقامات پر بھی یہ شغل زیادہ ہوتا ہے۔حکومت نے عالمی ادارۂ صحت کے حوالے سے پابندی کا اعلان تو کر رکھا ہے،لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔ سگریٹ کی ڈبی پر البتہ وارننگ لکھنا لازم ہے۔حکومت کو صحت عامہ کے لئے اس طرف بھی توجہ دینا چاہئے اور تمباکو نوشی کی ممانعت کے بعد اس پر سختی سے عمل بھی کرانا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -