اثاثے ظاہر کرو، میاں منظور وٹو کی تجویز!

اثاثے ظاہر کرو، میاں منظور وٹو کی تجویز!
 اثاثے ظاہر کرو، میاں منظور وٹو کی تجویز!

  

حویلی لکھا اوکاڑہ والے میاں منظور احمد وٹو بڑے خوش قسمت سیاست دان ہیں کہ ترقی جن پر مہربان رہی وہ حویلی لکھا سے ضلع اوکاڑہ اور یہاں سے صوبائی مجلس شوریٰ کے سربراہ مجلس، پھر سپیکر ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر بھی رہے، تحریک استقلال سے سیاسی کیریر شروع کرکے مسلم لیگ کے عہدیدار اور حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی نائب صدر ہوئے کہ پہلے مرکزی پنجاب کے صدر تھے جہاں سے ان کو تری دے کر ہی نشست خالی کرائی گئی اور قمر زمان کائرہ کو صدر نامزد کیا گیا، میاں منظور وٹو ہمہ صفت موصوف ہیں، دھیمے اور سوچ کر بولتے ہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان سے ان کا اسم گرامی پوچھا جائے تو بھی سوچ کر ٹھہرے ہوئے انداز میں بتاتے ہیں، ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ سیانے ہیں وقت کا انتظار کرتے اور درست موقع پروار کرتے ہیں، یہ انہی کا کمال ہے کہ صوبائی اسمبلی کے 18۔اراکین کی حمائت سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنوں کی خفگی کے باوجود یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد پھر سیاست نے پلٹا کھایا تو انہی کی جماعت (تب مسلم لیگ ، جونیجو) کے محمد عارف نکئی نے ان کی جگہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا، ان دنوں محترمہ نے اپنے سینئر صوبائی وزیر اور وفادار مخدوم الطاف کا دل دکھایا تھا، انہوں نے یہ فیصلہ بھی جماعت کے وسیع تر مفاد میں قبول کیا لیکن پھر زیادہ دیر اس پر فریب دینا میں نہ رہے اور اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

بات میاں منظور احمد وٹو کی تھی جو پیپلز پارٹی سے ناراض تو ہوئے لیکن پھر واپس چلے آئے ا ور کابینہ میں وفاقی وزیر بھی رہے اور اب تک یہیں ہیں اگرچہ سنٹرل پنجاب پیپلز پارٹی کی صدارت ان کو راس نہ آئی، محترمہ اور آصف علی زرداری نے بہت لحاظ کیا تاہم بلاول بھٹو نے اپنی ٹیم بنانے کے لئے ان کو پنجاب سے مرکز میں بھیج دیا وہ اب بھی وہیں ہیں اور اب تو معتبر بھی جانے جاتے ہیں انہی میاں منظور احمد وٹو کی طرف سے ایک چھٹی موصول ہوئی تھی، بڑے دن ہوئے ہمارے پاس پڑی ہوئی ہے، آج جب کاغذات کو سیدھا کیا تو یہ محبت نامہ بھی مل گیا، اس کے مطابق ان کی تجویز بہت ہی معقول ہے اگرچہ بات پرانی ہے لیکن زمانہ حال پر پوری اترتی ہے یوں بھی وہ بے موقع بات نہیں کرتے اور کم بولتے ہیں حتیٰ کہ اپنے سپیکر کے عہدہ کے دوران بھی ایسا نہیں کیا اور سب سے کم بولنے والے سپیکر کہلائے حالانکہ سپیکر لفظی معنوں کے مطابق زیادہ بولنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

بات کرتے ہیں خط کی جو ان کی ایک پریس کانفرنس کے حوالے سے ہے جس میں انہوں نے تجویز کیا کہ جو حضرات بھی سیاست میں حصہ لیتے ہیں ان کو سیاسی عمل شروع کرنے سے پہلے اپنے مکمل اثاثہ جات ظاہر کردینا چاہئیں اور پھر ہر سال ان میں اضافے یا کمی کے حوالے سے تفصیل بتانا چاہئے، وہ کہتے ہیں، پوری دنیا کی طرح پاکستان کے عوام بھی اپنے راہنماؤں کو صاف ستھرا اور سچا دیکھنا چاہتے ہیں، قومی وسائل کو لوٹ کر اپنے اور اپنے بچوں کے اثاثوں میں اضافہ گناہ کبیرہ ہے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں وزیر اعظم ، ان کے رفقاء اور تمام عزیز و اقارب سے بھی درخواست کی کہ اب بھی اپنی عزت ووقار کو قائم رکھنے کے لئے میری تقلید کرتے ہوئے اثاثے ظاہر کریں ان کے مطابق جب ستمبر 1996ء میں سابق صدر فاروق لغاری (مرحوم) نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کرکے اسمبلی توڑی اور نئے انتخابات کرانے کے لئے میدان سجایا تو ایک قانون کے مطابق کوئی بینک ڈیفالٹر انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں تھا، ان دنوں محترم فخرالدین، جی، ابراہیم پر اس قانون کو ختم کرنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا وہ نہ مانے تو ان کو جس طرح انتقام کا نشانہ بنایا گیا وہ سب کو علم ہے ، مسلم لیگ (ن) نے تو نومبر 1997ء میں 1985ء سے 1990ء کے پورے عرصہ کو احتساب سے ہی نکال دیا اور اس کے لئے قانون بھی تبدیل کیا گیا تھا، میاں منظور وٹو کے مطابق اسی عمل کو سامنے رکھتے ہوئے عدلیہ کو کہنا پڑا کہ ریاستی ادارے خود مختار نہیں ہیں کہ آج یہ ادارے اشرافیہ کو بچاتے اور عوام کو پکڑ لیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پاناما کیس کا جو بھی پہلا فیصلہ ہوا اور اب جے ، آئی، ٹی کا جو بھی نتیجہ نکلے یہ اپنی جگہ میاں برادران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا چاہئیں۔

میاں منظور احمد وٹو تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مرحوم محترم مجید نظامی نے ان کو ایک ملاقات میں بتایا کہ میاں شریف (مرحوم) دونوں صاحبزادوں کے ساتھ ان کو ملنے آئے اور مشاورت کی تو میں نے (مجید نظامی) ان سے گزارش کی تھی کہ اب ان کے صاحبزادے وزیر اعظم ہوگئے تو وہ کاروبار سے الگ ہوجائیں اور کوئی نیا کارخانہ نہ لگایاجائے، منظور وٹو کے بقول محترم مجید نظامی نے بتایا کہ ان کی یہ بات نہیں مانی گئی تھی یہ درست ہے کہ 2فروری1999ء کو اخبارات میں میاں منظور احمد وٹو کی جانب سے اشتہار شائع ہوا اس میں انہوں نے اپنے ابتدائی اور اس وقت (99) کے اثاثے واضح طور پر ظاہر کئے، اسی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ ایسا سب کو ہی کرنا چاہئے اور جو ایسا کرے وہی عوامی نمائندگی کے لئے اہل ٹھہرے۔۔۔میاں منظور احمد وٹو کی یہ تجویز صائب ہے اگرچہ الیکشن کمیشن کے انتخابی قواعد میں اثاثوں کا ذکر موجود ہے لیکن ان میں ایسی تفصیل نہیں ہوتی جس کا ذکر میاں منظور احمد نے کیا ہے، اس پر عمل ہو تو کیا برائی ہے؟

مزید :

کالم -