بحران کو شکست ہوگئی!

بحران کو شکست ہوگئی!
 بحران کو شکست ہوگئی!

  

70برس کے بعد فوج نے اگر خود تسلیم کرلیا ہے کہ وزیر اعظم ملک کی فائنل اتھارٹی ہیں اور فوج جمہوریت کی مکمل حمایت کرتی ہے، تو اس پر اطمینان کا اظہار کیا جانا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ ڈان لیکس کو خود فوج اور حکومت نے ہی سب سے اہم مسئلہ بنایا تھا۔ اس کے بارے میں ایسے تاثرات کا اظہار کیا گیا تھا کہ عوام گہری تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اب اس معاملے کو حکومت اور فوج نے افہام و تفہیم سے حل کرلیا ہے تو باوجود تحفظات کے ہمیں اسے تسلیم کرلینا چاہئے۔۔۔ اگرچہ یہ بات صحیح ہے کہ اس معاملے میں عوام بھی ایک فریق بن گئے تھے، کیونکہ قومی سلامتی کے بارے میں ان کا تشویش میں مبتلا ہونا ایک فطری امر ہے، تاہم قومی سلامتی کے معاملات کو بالآخر قومی اداروں پر ہی چھوڑنا پڑتا ہے، انہیں عوام کے ہاتھ میں نہیں دیا جاسکتا، وگرنہ تو انارکی پھیل جائے، اس لئے تمام تر تحفظات اور ڈان لیکس کے حل پر عدم اعتماد کے باوجود بہترین راستہ یہی ہے کہ اس پر اب مٹی ڈال دی جائے۔ کوشش یہ کی جائے کہ قومی سلامتی کے ادارے اپنے درمیان ہونے والے شکوک و شبہات کو خود ہی ختم کریں اور ایک نئے دور کی شروعات کی جائیں۔

پاکستان وہ ملک ہے، جس کی تاریخ سول وملٹری تعلقات کے مناقشات سے بھری پڑی ہے۔ تین بار مار شل لاء لگ چکا ہے اور بہت سے ایسے واقعات ہو چکے ہیں، جو سول و ملٹری تعلقات بہتر ہوتے تو شاید رونما نہ ہوتے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ بات کسی انتہائی فیصلے تک نہیں گئی۔درمیان ہی میں اس کا حل تلاش کرلیا گیا۔ رسی ٹوٹ جاتی تو بہت نقصان ہونا تھا، اسے ٹوٹنے نہیں دیا گیا، اب یقیناً اصلاح کا عمل شروع ہو چکا ہوگا۔ ایسا نہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے بعد سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی کمزوری آگئی ہو۔ یہ ممکن نہیں، کیونکہ فوج اور اس کے اداروں کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ البتہ راستہ وہ اختیار نہیں کیا گیا جو مزید نقصان سے دو چار کرتا ہے، بلکہ اس راستے کو منتخب کیا گیا جو مزید نقصان سے بچاتا ہے اور ہونے والے نقصان کی تلافی کا موقع بھی دیتا ہے۔ یہ فوج کے لئے واقعی ایک مشکل، مگر جرأت مندانہ فیصلہ تھا۔ آسان فیصلہ تو وہی تھا، جو ماضی میں بھی کیا جاتا رہا ہے کہ محاذ آرائی کو اتنا نہ بڑھادیا جائے کہ پورا نظام ہی خطرے کی زد میں آجائے۔ ہمارے لوگوں کی نفسیات کچھ اس سانچے میں ڈھل گئی ہے کہ جس میں الٹے کام کی تعریف ہوتی ہے اور سیدھے کام کو بزدلی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ملک ایسی تاریخ رکھتا ہے کہ جس میں جمہوری حکومت کے خاتمے پر مٹھائی بانٹنے کے مناظر شامل ہیں۔ یہ حیرت ناک قصہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سب سے زیادہ جمہوریت کے لئے قربیانیاں بھی پاکستانی عوام نے ہی دی ہیں۔ بار بار مارشل لاء کو ہٹایا ہے اور جمہوریت بحال کرائی ہے، لیکن مٹھائیاں بھی انہی لوگوں سے بانٹی ہیں۔ایسی اُلجھی ہوئی تاریخ رکھنے والے ملک میں جب سات ماہ جاری رہنے والا سنسنی خیز ڈرامہ بالکل ہی توقع کے برعکس ٹھنڈے ٹھار انداز میں اختتام پذیر ہوتا ہے، تو آسانی سے ہضم نہیں ہوتا۔ مولا جٹ جیسے رد عمل کی توقع لگاکر بیٹھے ہوئے لوگوں کو فوج کا یہ غیر روائتی انداز پسند نہیں آتا اور الٹے سیدھے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ ملک کسی بڑے بحران سے بچ گیا ہے۔ ڈان لیکس کے ایشو کو بالکل مسترد نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اپنے تئیں ذمہ داروں کے خلاف ایکشن بھی لیا اور بالواسطہ طور پر اس حقیقت کو تسلیم کرلیا کہ غلطی ہوئی ہے۔ اصل بات تو یہی تھی کہ کوئی فریق اپنی غلطی مان لے۔ حکومت نے اپنی غلطی مانی اور تین حکومتی شخصیات کو اس کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔ سو میرے نزدیک یہ معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹا دیا گیا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ ڈان لیکس کی انکوائری کو منظر عام پر آنا چاہئے تو بادی النظر میں یہ مطالبہ درست نظر آتا ہے، لیکن غور کیا جائے تو یہ کام مزید کئی پنڈورا بکس کھول سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ فوج کو اس کے تمام مندرجات کا علم ہے۔ اسے اس انکوائری رپورٹ سے پہلے بھی پتہ تھا کہ ڈان لیکس کے پیچھے کون ہے؟ لیکن بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جو ماورائے آئین و قانون ہو۔ ہر چیز طریقہ کار کے مطابق منظر عام پر آنے کا انتظار کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وزیر اعظم ہاؤس سے ڈان لیکس پر کارروائی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تو رپورٹ کے مندرجات کا علم ہونے کی وجہ سے آئی ایس پی آر نے اس کے ادھورے ہونے پر رد عمل کا اظہار کیا۔ یہی وہ غلطی ہوئی، جس نے ماحول کو انتہائی سنجیدہ بنادیا۔۔۔ یعنی ٹویٹ میں اس نوٹیفکیشن کو مسترد کرنے کا جملہ۔۔۔ اس کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ایک بار تو لگا کہ معاملہ پوانئٹ آف نورٹرن کی طرف چلا گیا ہے۔ سات دن بڑی تشویش کے تھے، مگر جذبات قابو میں رکھے گئے۔ فوج نے پہل کی اور نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا ٹویٹ واپس لے لیا اور سول حکومت کی بالادستی کو تسلیم کرکے ڈان لیکس پر حکومتی ایکشن کی تائید بھی کردی گئی۔ مستقبل میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا۔۔۔ اس واقعہ پر جس قدر کھینچا تانی ہوئی ہے، کسی کے بس میں نہیں کہ وہ ایسا کوئی دوسرا واقعہ دہراسکے۔ دنیا کو اس واقعہ کی وجہ سے یہ پیغام بھی چلاگیا ہے کہ سیکیورٹی کے معاملے پر پاکستان کے عوام،فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ خاص طور پر اس ایشوپر پاکستان کے 20کروڑ عوام فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات سے مطمئن ہیں کہ فوج دہشت گردی کے خلاف جس جرأت مندی سے لڑ رہی ہے، اس کی کوئی مثال نہیں پیش کی جاسکتی، اس لئے یہ سوال بہت بے تکا ہے کہ پاکستان میں کوئی دوسرا فریق تو دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتا ہے، فوج نہیں لڑنا چاہتی۔ ضربِ عضب سے لے کر آپریشن ردالفساد تک پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور کامیابیوں سے کوئی عقل کا اندھا ہی انکار کرسکتا ہے۔

کچھ حلقوں اور لوگوں کی طرف سے ڈان لیکس کے اس اختتام پر عدم اطمینان اور بے چینی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ان کا اور کسی پر تو بس نہیں چلتا، وہ سارا نزلہ فوج پر گرانے کی کوشش کررہے ہیں، اس معاملے پر فوج کے فیصلے کو یوٹرن قرار دیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ فوج نے کیا یوٹرن لیا ہے؟ کیا فوج نے کہا تھا کہ اس مسئلے پر وہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دے گی، جو اس نے نہیں الٹا، یا اس یوٹرن سے مراد یہ ہے کہ فوج سول حکومت کو مجبورکردیتی کہ وہ ڈان لیکس پر اپنی غلطی کو تسلیم کرکے مستعفی ہو جائے، جو فوج نے نہیں کیا، اس لئے وہ عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اُتری۔ یہ صرف جذباتی سی توقعات تھیں۔ ایک باشعور پاکستانی کبھی نہیں چاہے گا کہ ملک میں غیر آئینی تبدیلی آئے یا فوج ایک منتخب حکومت کو چلتا کردے۔ یہ مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مزید مسائل کو جنم دینے کا دروازہ کھولنے کی غلطی ہے۔ یہاں تو سیکیورٹی بریچ کی باتیں ہورہی ہیں، کیا ہم نہیں جانتے کہ ملک میں فوجی حکومت کے ہوتے ہوئے ہم اپنے ملک کا آدھا حصہ بھی گنوا چکے ہیں۔۔۔ اگر یہکہا جائے کہ ڈان لیکس کی وجہ سے دنیا کوایک مثبت پیغام گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی، کیونکہ عوام فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، تو بے جا نہ ہوگا۔

ڈان لیکس کا مسئلہ جیسے بھی حل ہوا ہو، ایک بات لازمی ہے کہ اس کے حل میں اس بات کو یقینی بنادیا گیا ہے کہ پاکستانی عوام فوج کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وہ عالمی قوتیں جن کی آنکھ میں پاک فوج کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے، یقیناًیہ جان چکی ہوں گی کہ پاکستان میں جمہوریت بھی مضبوط ہو رہی ہے اور فوج بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ان دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں، وہ دن گئے جب جمہوریت پر ہر وقت آمریت کے سائے منڈلاتے رہتے تھے۔ اب تقریباً ایک دہائی سے سول و عسکری قوتیں مہم جوئی سے گریزاں ہیں۔ خاص طور پر فوج نے اپنے آپ کو پیشہ ورانہ کردار تک محدود کرلیا ہے اور گزشتہ برسوں میں اس کے کسی عمل سے بہ شائبہ نہیں اُبھرتا کہ اس نے موقع سے فائدہ اٹھا کر جمہوریت پر شب خون مارنے کی کوشش کی ہے۔ ڈان لیکس کے نتیجے کو اسی کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کسی کی فتح یا شکست تلاش کرنے کی بجائے، اسی پہلو کو سراہنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک بحران سے نکل آئے ہیں اور اب زیادہ اعتماد کے ساتھ جمہوری استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

مزید :

کالم -