پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سریز اختتام پذیر شکریہ!

پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سریز اختتام پذیر شکریہ!

  

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کاآخری ٹیسٹ میچ جاری ہے پاکستا ن نے مجموعی طور پر اس دورہ میں میزبان ملک کے خلاف بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور ون ڈے سیریز کے ساتھ ٹی ٹونٹی سیریز اپنے نام کی ،پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اس ٹیسٹ میچ کی خاص بات یہ ہے کہ قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتا ن مصباح الحق اور یونس خان اپنے کیئریر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں ۔دونوں سیئنئر کھلاڑیوں کے لئے یہ ٹیسٹ سیریز بہت اہمیت کی حامل ہے۔مصباح الحق نے نیوزی لینڈ کیخلاف 2001میں ڈیبیو کرنے کے بعد اب تک 74 ٹیسٹ میں 10سنچریوں اور 38نصف سنچریوں کی مدد اور 46.91 کی اوسط سے 5161رنز بنائے ہیں۔سلمان بٹ کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد 2010ء میں ٹیم کی کمان مصباح کے ہاتھوں میں آئی ،وہ ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی 50سے زائد مقابلوں میں قیادت کرنیوالے واحد کپتان ہیں،انھوں نے 55مقابلوں میں سے 25 جیتے، 19میں شکست جبکہ 11 ڈرا ہوئے، ون ڈے کیریئرکاآغاز 27اپریل 2002 سنچورین میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا اور آخری ون ڈے میچ20 مارچ 2015ء کو ایڈیلیڈمیں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ مصباح الحق نے ٹیسٹ کرکٹ میں 74 میچوں کی 130 اننگز میں 46.91کی اوسط سے 80 چھکوں اور505چوکوں کی مددسے5161 رنز بنائے جن میں 10سنچریاں اور38نصف سنچریاں شامل ہیں ،ٹیسٹ میں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 161 رنز ناٹ آؤٹ ہے۔ گزشتہ سال انکی قیادت میں قومی ٹیم نے اپنی تاریخ میں پہلی بارآئی سی سی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن پر قبضہ جمایا،اور جس طرح سے مصباح الحق نے ٹیم کو سہارا دیا اور اپنے دور میں ٹیم کے لئے خدمات سر انجام دی ہیں اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے او ریقنی طور پر ان کی کمی محسوس کی جائے گی اور ان کا خلا آسانی سے پر نہیں ہوگا ۔مصباح الحق زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے مشترکہ طور پر ایشیا کے دوسرے اور دنیا کے نویں کپتان بن گئے، مصباح نے کالی آندھی کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں شرکت کر کے یہ اعزاز حاٹونگا نے بحیثیت کپتان 56، 56 ٹیسٹ کھیل رکھے ہیں، مصباح بطور کپتان زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے مشترکہ طور پر ایشیا کے دوسرے اور دنیا کے نویں کرکٹر بن گئے، مصباح کی زیر قیادت کھیلے گئے 55 ٹیسٹ میچز میں گرین شرٹس 25 میں فتح یاب اور 19 میں ناکام رہی، 11 میچز ڈرا ہوئے، بھارت کے مہندرا سنگھ دھونی کو ایشیائی ممالک کی طرف سے بطور کپتان زیادہ میچز کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے، انہوں نے 60 میچز میں بھارت کی قیادت کی، ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں بطور کپتان زیادہ میچز کھیلنے کا عالمی اعزاز سابق جنوبی افریقن کرکٹر گریم سمتھ کو حاصل ہے جنہیں ریکارڈ 109 میچز میں ٹیم کی قیادت کا اعزاز حاصل ہے۔ ایلن بارڈر 93 میچز کھیل کر دوسرے، سٹیفن فلیمنگ 80 میچز کھیل کر تیسرے، رکی پونٹنگ 77 میچز کھیل کر چوتھے، کلائیو لائیڈ 74 میچز کھیل کر پانچویں، مہندرا سنگھ دھونی 60 میچز کھیل کر چھٹے، ایلسٹرکک 59 میچز کھیل کر ساتویں اور سٹیووا 57 میچز کھیل کر آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔صل کیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے بحیثیت کپتان زیادہ میچز کھیلنے کا سابق سری لنکن قائد ارجونا رانا ٹونگا کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا، مصباح الحق کا کہنا ہے کہ میں نے اب تک جتنا بھی کھیلا ہے میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں پاکستان کی ٹیم کے لئے اچھے کھیل کا مظاہرہ کروں میرے کیرئیر میں پوری ٹیم نے میرا بھرپور ساتھ دیا میں ان کا ہمیشہ شکرگزار رہوں گا انہوں نے کہا کہ کپتانی میرا ٹارگٹ کبھی نہیں رہا بلکہ ٹیم کے لئے اچھا کھیل پیش کرنا میرے لئے چیلنج رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ میں نے دورہ ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز میں بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور اس دورہ کو میں نے یادگار بنایامیں ہمیشہ ہی شائقین کرکٹ کی محبت کوبھی یاد رکھوں گا جنہوں نے ہمیشہ میری بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے اور میں قومی ٹیم کی ترقی اور اس کی کامیابی کے لئے پر امید ہوں جبکہ دوسری جانب پاکستان کے ریکارڈ ساز بیٹسمین یونس خان 29مارچ 1977ء کو مردان میں پیدا ہونے والے39سالہ یونس خان جنھوں نے رواں سال 8اپریل کو ویسٹ انڈیز روانگی سے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ اس دورے کے بعد وہ کرکٹ سے مکمل طور پر ریٹائر ہو رہے ہیں ،اپنے آخری ٹیسٹ کے سوال پر مسکراتے ہوئے ان کا جواب تھا،بہت خوش ہوں ،مطمئن ہوں کہ اپنی مرضی سے عزت کیساتھ اپنے پسندیدہ کھیل کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔فروری 2000ء میں راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف اولین ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے یونس خان خواہش رکھتے ہیں کہ آخری ٹیسٹ میں بھی تین ہندسوں کی اننگز کھیلیں۔سابق کپتان کہتے ہیں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے لئے سب سے زیادہ رنز سب سے زیادہ سنچریاں ،ہر ٹیسٹ ملک کے خلاف سنچری بنانا یقیناًمجھے اپنے ان کارناموں پر فخر ہے لیکن ساتھ ہی میں یہ خواہش رکھتا ہوں کہ پاکستان کا کوئی اور بیٹا اس سے بڑھ کر پرفارمنس دے ،ریکارڈز قائم کرے ،عین اسی طرح جس انداز میں جس طرح میں سب کو پیچھے چھوڑ کر سب سے آگے آکر کھڑا ہو گیا ہوں۔ 21 جون 2009 لارڈز پر بطور کپتان آئی سی سی ورلڈ ٹی 20کی ٹرافی اٹھانا یونس خان کے بقول کیرئیر کا ایک یادگار ترین دن تھا۔یونس خان کہتے ہیں میں نے کیرئیر میں اچھے برے دن سب ہی تو دیکھے،اپنے ملک کی قیادت کا فریضہ انجام دیا،بورڈ کی جانب سے پابندی کا بھی سامنا کیا۔اب کرکٹ چھوڑ کر جارہا ہوں تو کوئی پچھتاوا ہے نہ ہی مجھے یہ خوف ہے کے ہر سال ملنے والے کروڑوں روپے کیسے ملیں گے۔ اللہ تعالی نے بہت دیا ۔ اس عظیم ذات کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں یونس خان تیرہویں نمبر پر ہیں۔ یونس خان کیرئیر کی 35ویں سنچری بنا کر سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے بیٹسمینوں کی فہرست میں چھٹا نمبر حاصل کر لیں گے۔ البتہ چوتھی اننگز میں پانچ سنچریاں اور گیارہ ملکوں میں سنچری اسکور کر نا یونس خان کا ایسا کارنامہ ہے جو دنیا میں کوئی اور ٹیسٹ بیٹسمین انجام نہیں دے سکا ہے۔یونس خان 117ٹیسٹ میچوں میں 138 کیچ لے کر نہ صرف پاکستان کے کامیاب فیلڈر ہیں بلکہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں کیچ لینے کی سنچری مکمل کر نے والے واحد فیلڈر بھی ہیں۔فروری 2009ء میں یونس خان نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سری لنکا کے خلاف 760منٹ میں 568گیندوں پر 27 چوکوں اور 4چھکوں کیساتھ 313رنزکی اننگز کھیلی،یہ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی کپتان کی سب سے بڑی اننگز کا ریکارڈ بھی ہے۔ریکارڈ ساز یونس خان کے کھیلوں کے میدان میں ان کے شاندار کارناموں کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان انھیں تمغہ "حسن کارکردگی"بھی دے چکی ہے۔قومی کرکٹ ٹیم کے بہترین بلے باز اور مرد بحران یونس خان نے آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے سے قبل شاندار بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا کوئی افسوس نہیں اور نہ ہی کوئی افسوس ہے کہ کرکٹ چھوڑ تو کروڑوں روپے نہیں ملیں گے،آخر ی ٹیسٹ کھیلتے ہوئے خوش اور مطمئن ہوں، پسندیدہ کھیل کو عزت سے چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔کیریئر میں اچھے بُرے دن دیکھے تاہم خوشی ہے پسندیدہ کھیل کو عزت سے چھوڑ کر جا رہا ہوں ،روتے ہوئے نہیں جا رہا ۔ان کا کہنا تھا کہ کیریئر میں وہ سب کچھ حاصل کیا جو کئی پاکستانی بلے باز نہ کر سکے ۔یونس خان کا کہنا ہے کہ میں نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور یہ سیریزبھی میرے لئے یادگار رہے گی پاکستا ن کی بدولت آج میں اس مقا م پر پہنچا ہوں اور مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ میں نے ہر موقع پر پاکستان کانام بلند کرنے کی کوشش کی ہے اور امید ہے کہ قومی ٹیم اسی طرح مستقبل میں بھی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرے گی بطور کپتان اور کھلاڑی میری پرفارمنس سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان کے یہ دونوں ہیرو اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اعزاز میں پاکستان کرکٹ بورڈ شاندار تقریب کا اہتمام کرے اور فیئر ویل پارٹی دی جائے تاکہ ان کو اس بات کا احساس ہوں کہ ان سے وہ کتنا پیارکرتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں ہمیں اپنے ایسے ہیروز جنہوں نے اپنی زندگیاں پاکستان کی ترقی کے لئے وقف کردی ان کی ہمیشہ عزت کرنی چاہئیے اور یہ اسی قابل ہیں امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بور ڈ ان کے اعزاز میں تقریب کا اہتام کرے گا جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا اور امید ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی مستقبل میں اب نوجوان کھلاڑیوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گے اور ان کھلاڑیوں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملیگا اور ان کا نام کرکٹ کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -