فیفا انڈر ٹوٹنی ورلڈ کپ 2017 رنگا رنگ ،دلچسپ مقابلوں کا میلہ 20 مئی سے سجے گا

فیفا انڈر ٹوٹنی ورلڈ کپ 2017 رنگا رنگ ،دلچسپ مقابلوں کا میلہ 20 مئی سے سجے گا

  

فیفا انڈر ٹونٹی ورلڈکپ بیس مئی سے گیارہ جون تک جنوبی کوریامیں کھیلا جائے گا اس ورلڈکپ میں چوبیس ٹیمیں شرکت کررہی ہیں جن کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے گروپ اے میں جنوبی کوریا، پرتگال، یوروگوائے، فرانس،یو ایس اے اور جرمنی جبکہ گروپ بی میں میکسیکو، ارجنٹائن، نیوزی لینڈ، بنگال، جاپان اور کوسٹاریکا کی ٹیمیں شامل ہیں اسی طرح گروپ سی میں زمبیا، ہنڈر اس، انگلینڈ، سعودی عرب ، اٹلی او ر وینزویلا جبکہ پول ڈی میں ایکوڈور، جنوبی افریقہ،ایران، ویتنام، جینیا اور ویناتو کی ٹیمیں شامل ہیں ایونٹ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ ایونٹ1977 ء سے2005 ء تک فیفا ورلڈیوتھ چیمپن شپ کے نام سے منعقد ہوتا رہا جبکہ 2007 ء سے اس کا نام فیفا انڈر ٹونٹی ورلڈ کپ رکھا گیا اس نام سے اب تک اس کے پانچ ایونٹ منعقد ہوچکے ہیں اس ایونٹ کا آخری ٹائٹل دو سال قبل کھیلا گیا جس یمں سربیا نے برازیل کو شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا اس ایونٹ میں سب زیادہ اٹھارہ مرتبہ برازیل کی ٹیم نے کوالیفائی کیا ہے اس ورلڈ کپ کے بیس ایونٹ بھی مکمل ہوچکے ہیں۔اگر چیمپن ٹیموں کی کارکردگی پر نظر دوڑا ئی تو ارجنٹینا کی ٹیم نے سب سے زیادہ مرتبہ چھ مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کیا ہے ارجنٹینا کی یوتھ ٹیم نے 1979ء 1995ء1997 ء اس کے بعد 2001ء2005 اور 2007 میں فاتح رہی جبکہ 1983 ء کے فائنل میں برا زیل سے شکست ہوئی ارجنٹینا کی یوتھ ٹیم نے اس میگا مقابلوں میں اب تک75 میچز کھیلے ہیں جن میں اس نے 52 جیتے اور45 میچوں میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ آٹھ میچ بغیر کسی ہار جیت کے برابر رہے اس نے اب تک کھیلے گئے میچوں میں اپنی حریف ٹیموں کے خلاف147 گول کئے جبکہ حریف ٹیموں نے اس کے خلاف 57 گول کئے مقابلوں میں ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے بہت اہم اعزازات حاصل کئے ہیں گولڈن بال حاصل کرنے والوں میں ڈیگر میراڈونا1979 ء جسیورسیولا2001 ء لینول میسی 2005 اور سرجیواگیرو2007 میں اپنے نام کیا اب کے بعد اب تک جس ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مقابلہ ان مقابلوں میں کیا ہے اس میں برازیل کی ٹیم دوسرے نمبر پر ہے اس کی یوتھ ٹیم نے انڈر ٹونٹی فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی پر پانچ مرتبہ قبضہ کیا برازیلی ٹیم نے اب تک 1983 ء 1985 ء 1993 ء اور 2005 ء کے بعد2011 ء میں یہ کارنامہ سر انجام دیا اور چیمپئن قرار پائے۔برازیل کی یوتھ ٹیم کو سب سے زیادہ اٹھارہ مرتبہ کوالیفائی کرنے کا موقع ملاہے اب تک اس نے ایونٹ میں 103 میچ کھیل کر 72 میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اس کو 16 میچوں میں اس کو شکست کا سامنا ہوا اور اٹھارہ میچ برابر رہے سربیا کی ٹیم یوتھ فٹ بال نے فیفا انڈر ٹونٹی ورلڈ کپ میں صرف تین مرتبہ 1979 ء 1987 اور اس کے بعد 2015 ء میں کوالیفائی کرسکی ہے اور اس نے دو مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کیا ہے سربین یوتھ فٹ بال ٹیم نے 1987 اور 2015ء میں یہ اعزاز اپنے نام کیا جبکہ وہ اس مرتبہ منعقدہ مقابلوں میں کوالیفائی کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے پرتگال کی یوتھ فٹ بال ٹیم نے مسلسل دو مرتبہ ایونٹ اپنے نام کیا ہے اس نے 1989 ء اور1991 ء میں جیتا جبکہ اس نے 2011 ء میں دوسری اور 1995ء میں اس نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی فائنل راؤنڈز میں اس نے دس مرتبہ کوالیفائی کیا پرتگال یوتھ ٹیم نے ان مقابلوں میں اب تک مجموعی طور پر 49 میچ کھیل کر اس نے 28 میچوں میں کامیابی حاصل کی آٹھ میچوں میں اس کوشکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس کے تیرہ میچ برابررہے اس نے اپنی حریف ٹیموں کے خلاف ستر گول سکور کئے اور اس کے خلاف چالیس گول کئے گئے۔افریقہ سے تعلق رکھنے والی فٹ بال ٹیم گھانا کی انڈر ٹونٹی ٹیم نے اب تک ایک مرتبہ فیفا انڈر ٹونٹی فٹ بال ٹائٹل اپنے نا م کیا اس نے یہ کارنامہ 2009 ء میں سر انجام دیا 1993 ء کے بعد 2001 میں گھانا کی ٹیم رنر اپ رہی جبکہ 2013 میں اس نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی گھانا کی انڈر ٹونٹی ٹیم نے سات مرتبہ کوالیفائی کیا ہے جبکہ اس نے ان مقابلوں میں چھبیس میچ کھیل کر نو میچوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ اس کو آٹھ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس نے حریف ٹیموں کے خلاف76 گول کئے اور اس کے خلاف 47 گول ہوئے ہیں۔اسپین کی یوتھ ٹیم نے ایک مرتبہ ورلڈ کپ اپنے نام کیا اس نے یہ کارنامہ 1999 ء میں انجام دیا جبکہ اس نے 1985 اور 2003 کے عالمی مقابلوں میں تیسری پوزیشن اپنے نا م کی سپین یوتھ فٹ بال ٹیم ان مقابلوں میں اب تک 72 میچ کھیل کر 43 میچ جیت چکی ہے جبکہ اس کو 16 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 13 میچ برابر رہے جرمنی کی یوتھ فٹ بال ٹیم نے فیفا انڈر ٹونٹی ورلڈ کپ 1981 میں فاتح قرار پائی جبکہ اس نے 1987 ء میں اس کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا فرانس کی یوتھ ٹیم نے 2013 ء میں فیفا انڈر ٹونٹی ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا اس نے اب تک مجموعی طور پر ستائس میچ کھیل کر 14 میچ جیتے اور چھ برابر رہے جبکہ اس کو سات میچوں میں شکسست سامنا کرنا پڑا اس مرتبہ شریک ٹیمیں ایک مرتبہ دوبارہ بھرپور جوش وخروش سے میدان میں اترنے کے لئے تیار ہیں کون سی ٹیم جیتتی ہے ہر ٹیم کے شائقین اس حوالے سے بہت پرجوش ہیں ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -