دنیا کاوہ گرم ترین مقام جہاں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا

دنیا کاوہ گرم ترین مقام جہاں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا
دنیا کاوہ گرم ترین مقام جہاں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا

  

کراچی(نیوزڈیسک) گرمیاں اپنے جوبن پر ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہمارا شہر ہی دنیا میں سب سے گرم علاقہ ہے۔اگر آپ بھی ایسا سوچتے ہیں تو آپ کو ذیل میں دیئے گئے مقامات کے بارے میں پڑھنا چاہیے اور یہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے کہ یہ شہر تو اتنے گرم ہے کہ آگ بھی ان کے سامنے ٹھنڈی لگے۔

ڈیتھ ویلی، امریکہ

رایست کیلی فورنیا میں واقع اس وادی کا درجہ حرارت جولائی1913ء میں 56.7سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔گرمیوں کے موسم میں اس کا اوسط درجہ حرارت 47ڈگری ہوتا ہے۔یہ امریکہ کا خشک ترین مقام ہے اور یہاں مشکل ہی سے پانی کانام و نشان ملتا ہے۔

العزیزیہ،لیبیا

لیبیا کے صدرمقام تریپولی سے سے 25میل جنوب میں یہ مقام واقع ہے اور 13ستمبر1922ء کو اس جگہ کا درجہ حرارت 58ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔اسے دنیا کا گرم ترین دن کہاجاتا تھالیکن2012ء میں موسمیات کے عالمی ادارے نے انکشاف کیا کہ اس دن درجہ حرارت ریکارڈ کرنے والا شخص اس کام کے لئے مہارت نہیں رکھتا تھا ۔جس کی وجہ سے یہ ریکارڈ دوبارہ ڈیتھ ویلی کے پاس چلا گیا۔

ڈالول، ایتھوپیا

سطح سمندر سے 116میٹر نیچے ہونے کے باوجود اس کا درجہ حرارت 34.6ڈگری تک رہتاہے۔

دشت لوط، ایران

2004ء اور2005ء میں اس صحرا کا درجہ حرارت 70ڈگری سینٹی گریڈ کی سطح عبور کرگیا۔اس جگہ پر کوئی بھی جاندار حتی کہ بیکٹیریا بھی زندہ نہیں رہسکتا جس کی وجہ یہاں کا درجہ حرارت بتایا جاتا ہے۔

بینکاک،تھائی لینڈ

موسمیات کے عالمی ادارے کی جانب سے اسے دنیاکا گرم ترین شہر ہونے کا اعزاز دیا گیا ہے۔ یہاں سال کا اوسط درجہ حرارت 28ڈگری ہے جبکہ مارچ سے مئی تک کے مہینے گرم ترین ہوتے ہیں جن میں درجہ حرارت 35ڈگری سے بھی بڑھ جاتا ہے اور نمی کا تناسب90فیصد سے زائد ہوتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -