محکمہ معدنیا ت کی ری سٹرکچرنگ کا فیصلہ، کارکردگی بہتر ہوگی: چودھری شیر علی خان

محکمہ معدنیا ت کی ری سٹرکچرنگ کا فیصلہ، کارکردگی بہتر ہوگی: چودھری شیر علی ...

  

لاہور( کامرس رپورٹر)صوبائی وزیر معدنیات چودھری شیر علی خان نے کہا ہے کہ محکمے کی ری سٹرکچرنگ سے اس کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ محکمہ معدنیات کو وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی مطابق جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔ محکمے کی تنظیم نو میں فیلڈ سے متعلق شعبوں کو خاص توجہ دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اپنے دفتر میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر محکمہ کے تمام شعبوں کے سربراہان موجود تھے۔ اجلاس میں محکمہ معدنیات کی تنظیم نو کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمے میں گورننس کی بہتری کیلئے فیلڈ سے متعلق تمام شعبوں کے اختیارات ایک واحد عہدے میں مرتکز کرنے سے بہتر نتائیج نہیں نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ری سٹرکچرنگ سے اچھے نتائج برآمد کرنے کیلئے ضروری ہے کہ محکمے کے تمام سنئیرز سر جوڑ کر بیٹھیں اور جہاں جہاں وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے ان امور کی نشان دہی کریں۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات بنیادی طور پر فیلڈ میں کام کرنے والا محکمہ ہے ۔ بند کمروں میں بیٹھ کر فیلڈ میں کان کنوں کو درپیش مسائل اور معدنیات کے حصول میں حائل مشکلات کا اندازہ کرنا مشکل ہے اس لیے ری سٹرکچرنگ کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کیلئے عملی کام کرنے والے شعبوں کے انچارج صاحبان کی مشاورت ضروری ہے ۔

اجلاس میں سرگودھا میں پہاڑیوں پر پتھر توڑنے والے مزدوروں کے مسائل کے بارے میں بھی مختلف شکایات دور کرنے کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ سرگودھا کے پہاڑی مزدوروں کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ لیز ہولڈرز کو ایک ٹرک 200کیوبک فٹ پتھر لوڈ کرانے کا پابند بنایا جائے ۔ نیز جن لیز ہولڈرز کے بارود کے لائسنس کینسل کئے گئے ہیں ان کی بحالی پر غور کیا جائے کیونکہ اس سے مزدوروں کی بیروزگاری جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے مزدور نمائندوں، لیز ہولڈرز اور محکمہ معدنیات کے افسران پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی تاکہ وہ ان مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل کر تلاش سکے۔

مزید :

کامرس -