بجٹ سازی کے عمل کوخفیہ رکھنے کے بجائے واضح اور شفاف بنایا جائے

بجٹ سازی کے عمل کوخفیہ رکھنے کے بجائے واضح اور شفاف بنایا جائے

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجٹ سازی کے عمل کوخفیہ رکھنے کے بجائے واضح اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے جس میں اپوزیشن اور تمام متعلقہ شعبوں کے نمائندوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔بجٹ بناتے وقت کابینہ ،پارلیمنٹ اور فنانس کی قائمہ کمیٹیوں کو خاطر خواہ اہمیت دی جائے تاکہ عوامی نمائندے اور ماہرین بروقت اپنی رائے اور تجاویز دے سکیں جبکہ کاروباری برادری کی جانب سے کی جانے والی سفارشات پر بھی ممکنہ طور پرعمل کیا جائے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سفارشات کو محاصل میں اضافے یا کمی کے بجائے اسکے طویل المعیاد اثرات کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں عام طور پر بجٹ کی بنیاد ایڈہاک ازم پر ہوتی ہے جبکہ طویل المعیاد معاملات پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ بنانے کے عمل میں شفافیت، احتساب ، سیاستدانوں، ماہرین اورعوام کی شرکت کی کمی ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہوا بجٹ بنایا جا سکے جواقتصادی مسائل کو حل کرے، معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرے اور عوامی توقعات پر پورا اتر سکے۔ بجٹ کو متوازن بنانے کیلئے ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے اور حکومت کی آمدنی کو بہتر انداز میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور حکومت کے مابین فاصلہ کم ہو اور کاروباری برادری اعتماد سے ٹیکس ادا کرکے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے کے بعد پارلیمینٹیرینز کو بجٹ پڑھنے، سمجھنے، اپنی رائے دینے اور دیگر معاملات کیلئے دو دن کا وقت دیا جاتا ہے جو بہت کم ہے۔ اسکے علاوہ سپلیمینٹری بجٹ کی روایت پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے جو جمہوری تقاضوں کے مطابق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکس کے نظام میں پالیسی اور انتظامی سطح پر خامیوں کی وجہ سے متوقع مقدار میں محاصل جمع نہیں ہوتے ، کاروباری برادری اورحکومت کے خسارے میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ تجارتی پالیسیوں کی کمزوری اور بجٹ میں متوقع فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے برآمدات بھی متاثر ہوتی ہیں۔

مزید :

کامرس -