مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ قابض بھارتی فوج کو کتنے مجاہدین تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں ؟انڈین فوج کے جرنیل نے ایسی تعداد بتا دی کہ جان کر آپ بھی کشمیری حریت پسندوں کو داد دینے پر مجبور ہوں گے

مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ قابض بھارتی فوج کو کتنے مجاہدین تگنی کا ناچ ...
مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ قابض بھارتی فوج کو کتنے مجاہدین تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں ؟انڈین فوج کے جرنیل نے ایسی تعداد بتا دی کہ جان کر آپ بھی کشمیری حریت پسندوں کو داد دینے پر مجبور ہوں گے

  

بئی باغ (ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کے ظلم و جبر کے باوجود کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی بڑھتی ہوئی تحریک اور جدوجہد نے جہاں مودی سرکار کو بوکھلا دیا ہے وہیں پر قابض ہندوستانی فوج کبھی لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ سے شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے وہیں پر مقبوضہ کشمیر میں بھی قابض انڈین آرمی بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کو بھی مسلسل شہید کرنے میں مصروف ہے ۔پاک فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں ، اشتعال انگیزیوں اور بھارتی جارحیت کا بھر پور جواب دینے کے اعلان نے جہاں کشمیریوں کے حوصلے بلند کئے ہیں وہیں پر بھارتی فوج کی بوکھلاہٹ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی وکٹر فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل بی ایس راجو نے دور کی کوڑی لاتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں 100مجاہدین سرگرم ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے مقبوضہ وادی میں مجاہدین کے حملوں میں تیزی آئی ہے،بھارتی فوج اور پولیس مشترکہ طور پر مقامی کشمیری نوجوانوں کو بات چیت اور گفتگو کے ذریعے اور ان کے خاندان والوں سے بات کر کے مجاہدین کے ساتھ شامل نہ ہونے کا مشورہ دے رہی ہے ۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل’’زی نیوز ‘‘ کے مطابق تین روز قبل مجاہدین کے ہاتھوں اغواکے بعد قتل ہونے والے ہندوستانی فوج کے لیفٹیننٹ عمر فیاض کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکٹر فورس کے جی او سی میجر جنرل بی ایس راجو نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف ایک ہی بات کی جا رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے لیکن ہم یقین دلاتے ہیں کہ بہت جلد وادی کے حالات مکمل کنٹرول میں آ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں صرف ان اضلاع اور علاقوں کا مکمل محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کا عمل جاری ہے جہاں بھارتی فوج پر حملے ہوتے اور جاری مہم میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے،وادی میں اس وقت صرف 100مجاہدین سرگرم ہیں جنہوں نے بھارتی فوج پر ہونے والے حملوں میں تیزی لائے ہوئے ہیں،ہم نے ان کے خلاف گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا ہوا ہے کیونکہ ان مجاہدین میں سے اکثر مقامی کشمیری نوجوان ہیں ،بھارتی فوج ان کے مشکوک ٹھکانوں پر بھی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے واقف ہیں لیکن کہنا چاہیں گے کہ فوج کی بھر پور موجودگی کی وجہ سے یہ دہشت گرد زیادہ دیر تک اپنی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکیں گے ،انہیں غیر موثر کرنے کے لئے وادی میں ہم گھر گھر تلاشی کی بڑی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ میجر جنرل بی ایس راجو کا کہنا تھا کہ جنوبی کشمیر کے اضلاع پلوامہ ،کولگام اور شوپیاں سمیت کئی علاقوں میں گذشتہ کئی ماہ سے بھارتی فوج پر حملوں میں شدت آئی ہے ،فوج سے ہتھیار چھیننے کے واقعات اور ’’سنگ بازی ‘‘ کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں اور ان واقعات میں کالجز کے کئی طالب علم بھی دہشت گردوں (مجاہدین ) کے ساتھ شامل ہیں،ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں مجاہدین کی نئی بھرتیاں روکی جائیں اور اسی وجہ سے ہم احتیاطی مہم چلا تے ہوئے جن کشمیری نوجوانوں کے مجاہدین کے ساتھ شامل ہونے اور ’’جہاد ‘‘ کے راستے پر چلنے کا ہمیں خدشہ معلوم ہوتا ہے ہم ان کشمیری نوجوان طالب علموں کے والدین اور خاندان والوں سے مل کر انہیں اس بات پر قائل کر رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو دہشت گردوں (مجاہدین ) کے ساتھ شامل ہونے سے باز رکھیں ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -