پانی سے بجلی پیدا کرنے کے 40ارب ڈالر کے نئے معاہدوں پر دستخط

پانی سے بجلی پیدا کرنے کے 40ارب ڈالر کے نئے معاہدوں پر دستخط

  

بیجنگ (عثمان شامی سے)

وزیراعظم محمد نوا شریف نے بیجنگ میں انتہائی مصروف دن گزارا۔ صبح چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کے دوران چینی وزیراعظم نے ’بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس‘ میں شرکت کیلئے بیجنگ آمد پر وزیراعظم پاکستان کا خیر مقدم کیا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے چاروں صوبائی وزرا ئے اعلیٰ اور وفد کے ساتھ آئے وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں سے اہم ترین گوادر ائیرپورٹ کیلئے 1.5 ارب یوآن گرانٹ کا معاہدہ ہے۔ اسی طرح گوادر ایکسپریس وے کی تعمیر کے معاہد وں پر بھی دستخط کئے گئے، یہ گوادر شہر سے گزرنے والی 19کلومیٹر طویل سڑک ہوگی۔ اس کے علاوہ ML-1 ریلوے لائن اپ گریڈیشن کے فریم ورک معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے۔اس کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں سی پیک منصوبوں کی تکمیل کیلئے ان کی کوششوں پر چینی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر گوادر میں منصوبوں پر عملدرآمد اور مخصوص معاشی و صنعتی زونز کی تعمیر کی رفتار بڑھانے پر زور دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام صوبائی وزرا ئے اعلیٰ کی یہاں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں سی پیک اور چین کیلئے وسیع بنیاد پر حمایت موجود ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے بیجنگ میں ترک صدر طیب اردگان سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے دورہ بھارت کے دوران ترک صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ان کی جانب سے پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔اے این این کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے چین کے صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں کیں۔دونوں ملکوں کے درمیان بھاشا ڈیم کی تعمیر سمیت اربوں ڈالرکے مزید معاہدوں پر د ستخط ہو ئے ہیں ، اطلاعات کے مطابق پاکستان اور چیں میں صرف پانی کے منصوبوں کے 40ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں ۔معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخطوں کی تقریب میں نواز شریف کے ساتھ وفاقی وزرا اور چاروں وزرا ئے اعلیٰ نے شرکت کی ،چینی قیادت سے گفتگو میں وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ون بیلٹ ون روڈ کا حامی ہے ، مسئلہ کشمیر پر چین پاکستان کیساتھ،اقتصادی راہدری کیلئے ہم ایک ہیں، وزرائے علی کی موجودگی پاک چین تعلقات میں قومی یکجہتی کا اظہارہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے دورہ چین کے دوسرے روز پاکستان اورچین کے درمیان اربوں ڈالرکے معاہدوں اور مفاہمت کی کئی یادداشتوں پردستخط ہوئے ۔دستخطوں کی تقریب میں چینی وزیر اعظم اورنواز شریف سمیت پاکستان کے وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی ۔ ۔ جن معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں ان میں پاکستان میں بھاشا ڈیم کی تعمیر سمیت ،شاہراہ ریشم اقتصادی بیلٹ، 21 صدی میری ٹائم سلک روڈ اورایم ایل ون ریل منصوبے پرعملدرآمد، ایم ایل ون ریل منصوبے پرعملدرآمد کے لئے مفاہمت کی یادداشت پردستخط اور گوادرائرپورٹ کے لئے 80 کروڑ آرایم بی تکنیکی اقتصادی تعاون کاسمجھوتہ کیا گیا جب کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن اورحویلیاں ڈرائی پور ٹ کے قیام کافریم ورک طے پا گیا۔مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کے دوران گوادرائرپورٹ ودیگرمنصوبوں کے لئے اقتصادی تکنیکی تعاون پرسمجھوتہ جب کہ حویلیاں میں ڈرائی پورٹ کے قیام کے لئے تعاون کی مفاہمت طے پاگئی۔ گوادر اورایسٹ بے ایکسپریس وے کے لئے اقتصادی وتکینکی تعاون کی مفاہمت اوراس مفاہمت کے تحت چین ایک ارب 10 کروڑآر ایم بی کا تعاون کرے گا۔اس کے علاوہ پاکستان اور چین نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کی مفاہمتی یاداشت پر بھی دستخط کئے۔ اس حوالے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزارت پانی و بجلی اور پلاننگ کمیشن چین کے حکام کے ساتھ مل کر ڈیم کی تعمیر پر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کی نگرانی خود کروں گا۔بھاشا ڈیم 9 سال میں مکمل ہوگا جس سے پاکستانی عوام کو سستی بجلی میسر ہو گی۔ محتاط اندازے کے مطابق بھاشا ڈیم سے 40 ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ان میں سلک روڈ کے تحت دو طرفہ تعاون کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت، مرکزی ریلوے ٹریک ایم ایل ون کی بہتری کا معاہدہ، حویلیاں میں خشک بندرگاہ کی تعمیر کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت، اور گوادر بندرگاہ، ایسٹ بے ایکسپریس وے کے لیے 3.4 ارب روپے مالیت کی معاشی و تکنیکی معاونت شامل ہے۔پاکستان کی جانب وفاقی خزانہ اسحاق ڈار،خواجہ سعد رفیق اور وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال اور اعلیٰ حکام نے سمجھوتوں پر دستخط کئے۔ بعد میں وزیر اعظم نواز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کی ۔گریٹ ہال چائنہ آمد پر چین کے صدر نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور چینی صدر کے درمیان ملاقات میں وفاقی وزراء کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی بھی شریک ہوئے۔چین کے صدر 9رکنی اعلی سطح وفد کے ساتھ ملاقات میں شریک ہوئے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ہم سی پیک کی عملی شکل دینے میں آ پ کے عزم کے معترف ہیں۔ حکومت اقتصادی راہداری پر عملدرآمد کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔وزیر اعظم محمد نوا ز شریف نے کہا کہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر نمایاں پیشرفت ہوئی ۔ فورم میں دنیا بھر سے رہنماؤں کی شرکت خوش آئند ہے۔ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ بصیرت افروز اقدام کا اہم ترین جزوہے۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے پر زور دیا۔۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ چین ہمارا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے، پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے ہم ایک ہیں ۔سی پیک میں چین کی جانب سے 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، سرمایہ کاری کے مثبت اثرات نظر آئیں گے، سرمایہ کاری ہوگی تو انڈسٹری لگے گی روزگارملے گا اورسرمایہ کاری سے ترقی وخوشحالی آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ، چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ہے اورمسئلہ کشمیرپر چین ہمارے ساتھ ہے وہ بھی بات چیت سے مسئلہ کاحل چاہتا ہے۔چینی صدر نے پاکستان کے ساتھ کثیر الجہت تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک سی پیک سمیت دیگر علاقائی منصوبوں کی مدد سے اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرسکتے ہیں۔اس سے قبل دورہ چین میں وزیراعظم نواز شریف کی بیجنگ میں چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کا بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ملاقات میں سی پیک سمیت دیگر امور پرتبادلہ خیال کیا،وزیراعظم نوازشریف نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے انعقاد پرچین کے ہم منصب کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی مکمل حمایت کرتا ہے، اقتصادی راہداری کے لئے ہم سب ایک ہیں اورپاکستان سی پیک کی تکمیل کیلیے پرعزم ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان گوادر ایئرپورٹ کی تکمیل اور ریلوے نظام کی بہتری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے وزیراعظم نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے انعقاد پر چینی ہم منصب کو مبارکباد بھی دی ۔وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل کے لی یپرعزم ہے۔ پاکستان چین کو اہم ترین دوست سمجھتا ہے اور دنیاکیاہم رہنماوں کی فورم میں شرکت خوش آئندہے، اقتصادی راہداری کے لیے ہم سب ایک ہیں۔ سی پیک میں چین کی طرف سے اب تک 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جبکہ چین کی طرف سے سرمایہ کاری کافائدہ عام آدمی تک جلد منتقل ہوگا۔ وزیر اعظم نے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے پر بھی زور دیا۔ چینی وزیر اعظم نے پاکستان میں چین کے تعاون سے جاری منصوبوں پر کام کی رفتار اور پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیتے ہو ئے کہا کہ چین مستقبل میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ہم دونوں ملکوں کے تعلقات میں فروغ چاہتے ہیں ۔ این این آئی کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ہم چینی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں ٗ آئندہ سال کے وسط تک توانائی کی قلت کے خاتمہ کیلئے ہماری کوششوں کا ایک اہم عنصر ارلی ہارویسٹ پراجیکٹ پر تیزی سے عمل درآمد ہو گا ٗ پاکستان کیلئے پانی اور فوڈ سکیورٹی کی انتہائی اہمیت ہے ٗماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کو سامنے رکھ کر دیکھنا ہو گا ۔وہ نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام منعقدہ بھاشا پراجیکٹ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور وزیراعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری کے علاوہ وفاقی وزراء احسن اقبال، اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق، انوشہ رحمان، خرم دستگیر اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز بھی وزیراعظم کے ساتھ تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن نہ صرف پاکستان میں توانائی کی قلت کے مسئلہ سے نمٹنے میں مدد فراہم کر رہی ہے بلکہ اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کیلئے پاکستان کے توانائی کے شعبوں کے ماہرین کو تربیت بھی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چینی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ توانائی پر مشترکہ ورکنگ گروپ نے پاکستان کی توانائی کے شعبہ کی ترقی کیلئے ٹھوس بنیاد رکھ دی ہے۔ نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت بڑے توانائی کے منصوبوں کی متمنی ہے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئندہ سال کے وسط تک توانائی کی قلت کے خاتمہ کیلئے ہماری کوششوں کا ایک اہم عنصر ارلی ہارویسٹ پراجیکٹ پر تیزی سے عمل درآمد ہو گا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ 300 میگاواٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ اور 50 میگاواٹ کے دو ونڈ پاور منصوبے بجلی کی پیداوار شروع کر چکے ہیں، ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کا 660 میگاواٹ کا پہلا یونٹ جون میں اپنی پیداوار شروع کر دے گا، پورٹ قاسم کول پراجیکٹ کا پہلا یونٹ رواں سال نومبر میں کام شروع کر دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار اور ٹرانسمیشن کے کئی منصوبوں پر عمل درآمد بھی تیزی سے جاری ہے۔ سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان کیلئے بلکہ پورے خطہ کیلئے گیم چینجر ہو گا، اس سے سماجی، اقتصادی ترقی، خطہ اور اس سے باہر غربت کے خاتمہ ، امن و خوشحال کے فروغ میں مدد ملے گی۔ سی پیک صرف ایک سٹریٹجک معاہدہ ہی نہیں بلکہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان دہائیوں پر مبنی دوستی کا ثمر ہے۔ اس منصوبہ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں ملکوں نے اس منصوبہ میں شامل ہونے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ اقتصادی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی کیلئے پاکستان کو نہ صرف توانائی کے شعبہ میں تعاون کی ضرورت ہے بلکہ اس کے پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کو بہتر بنانے کیلئے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے، اس ضمن میں ہماری حکومت کی توجہ اس علاقہ میں پانی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے پر ہے اور بھاشا ڈیم کی تعمیر اس ضمن میں ایک انتہائی اہمیت کا حامل اقدام ہے۔ پاکستان کیلئے پانی اور فوڈ سکیورٹی کی انتہائی اہمیت ہے، انہیں ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کو سامنے رکھ کر دیکھنا ہو گا۔ کانفرنس میں چین کی توانائی کے شعبہ کی کمپنیوں کے نمائندوں اور سربراہان نے ڈیم منصوبہ کے حوالہ سے اپنی سٹڈی سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں وزیراعظم نے سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں پر معاہدوں میں بھی شرکت کی جن پر سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات یوسف نسیم کھوکھر اور پاکستان میں چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے دستخط کئے۔آن لائن کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ہے جو بات چیت سے مسئلہ کاحل چاہتا ہے۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چینی صدر کو حکومت کی کامیابیوں اور سی پیک پر عملدرآمد سے متعلق آگاہ کیا، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ چین ہمارا سٹرٹیجک پارٹنر ہے،چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ آج پورا پاکستان چین میں آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں پاک چین دوستی کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں چین پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا ۔ حکومت اقتصادی راہداری پر عملدرآمد کے لئے تمام تر اقدامات کر رہی ہے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے پر نمایاں پیش کش ہوئی چینی صدر شی جن پنگ نے وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ وزرا ئے اعلی اور وزراء سمیت مشیروں کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا پاکستان چین میں ہمارے ساتھ بیٹھا ہے اس سے پاکستان کی مضبوطی کو تقویت ملی ہے ۔ پاک چین کی دوستی کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں اور آئندہ مستقبل میں بھی اسے مزید تقویت ملے گی ۔ چینی صدر نے پاکستان میں بھاشا ڈیم کی تعمیر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے تمام تر ممکنہ اقدامات کرے گا ۔ ہم سی پیک کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر دیکھتے ہیں اور پوری دنیا پاکستان اور چین کے ون بیلٹ اور ون روڈ کو ترقی کرتا ہوا دیکھے گی۔

مزید :

صفحہ اول -