بدترین سیاسی مخالفین کا ملکی ترقی کیلئے مل بیٹھنا نیگ شگون

بدترین سیاسی مخالفین کا ملکی ترقی کیلئے مل بیٹھنا نیگ شگون

  

بیجنگ (عثمان شامی )ملکی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ وزیراعظم کے ہمراہ چین میں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران مختلف جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان نوک جھوک بھی وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملتی رہی۔ جمعہ کی رات وزیراعلیٰ پرویز خٹک کھانا کھانے ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں آئے تو صحافیوں کے اصرار پر احسن اقبال کیساتھ ہی میز پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد سعد رفیق بھی موقع پر پہنچ گئے۔ اس موقع پر تینوں سیاستدانوں کی اکٹھے لی گئی تصویر سوشل میڈیا پر بے حد وائرل ہوئی۔ ایسے میں وزیراعلیٰ کے پی کے پرو یز خٹک نے پلاننگ کمیشن کے سربراہ احسن اقبال سے شکوہ کیا کہ موجودہ حکومت نے 4 سال کے دوران انکے صوبے میں ایک اینٹ بھی نہیں رکھی، جواباً احسن اقبال نے کے پی کے میں وفاق کی جانب سے شروع کئے گئے منصوبے گنوانا شروع ہوگئے اور کہنا ان میں 8 یونیو ر سٹیوں کے منصوبوں سمیت کوہاٹ بنو ں ہائی وے، لواری ٹنل سمیت متعدد دیگر منصوبے شامل ہیں۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا اب تک تو معا ملا ت اچھے جارہے ہیں لیکن مستقبل میں سی پیک منصوبوں کیلئے انہیں وفاقی حکومت کی گارنٹیاں درکار ہوں گی،اسوقت معلوم ہوگا حکو مت کتنی سنجیدہ ہے، اس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کے پی کے حکومت نے پشاور میٹروبس کیلئے گارنٹی کی درخواست کی تھی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ ایشین ڈو یلپمنٹ بینک کے ٹینڈر کیلئے یہ جلد درکار ہے،جو محض چند دنوں میں کردیا گیا جو کہ شاید ملکی تاریخ کا ریکارڈ ہے ۔ اس معاملہ پر پرو یز خٹک نے بھی احسن اقبال کے دعوے کی تصدیق کی۔اسی طرح غیر رسمی گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سرتاج عزیز سے شکوہ کیا کہ کراچی سرکلر ریلوے پراجیکٹ پر ان کی حکومت کے چند تحفظات ہیں لیکن اس حوالے سے مناسب جواب نہیں دیا جا ر ہا ۔ اس پر سرتاج عز یز کا کہنا تھا اس دورے کے دوران ہی وزیراعظم چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ سے تفصیلی ملاقات کریں گے جس میں ان کے تمام تحفظات د و ر کئے جائیں گے۔ یقیناًبدترین سیاسی مخالفین کا ملکی ترقی کیلئے اس طرح ایک ساتھ مل بیٹھنا قابل تعریف اور خوش آئندہ ہے ۔دوسری جانب وزیر خزانہ اسحق ڈار نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خوشخبری سنائی کہ بینک آف چائنہ عنقریب پاکستان میں اپنی برانچیں کھولنے جا رہا ہے، اس سے دونوں ممالک کے کاروباریوں کو تجارت کیلئے مزید آسانی پیدا ہوگی، پاکستان تو چاہتا ہے ہمسائے بھی سی پیک کا حصہ بن جائیں، پاکستان نے ورلڈ بینک کو تجویز پیش کی ہے کہ کابل کو بھی پشاور تک موٹرے بنا کر سی پیک سے ملادیا جائے،پشاورتا طورخم موٹروے کی تعمیر پاکستان کی ذمہ داری ہوگی، ورلڈ بینک نے بھی اس تجویز سے اصولی طور پر اتفاق کرلیاہے۔

مزید :

صفحہ اول -